Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تحفظ اوقاف کمیٹی ہوئی سرخرو، وقف ترمیمی قانون کےخلاف جلسہ عظیم کامیابیوں سے ہمکنار، گرمی اور تپش نے بھی مجمع کا حوصلہ نہیں کیاپست ، پولس انتظامیہ کارہا بھرپور تعاؤن*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

خصوصی رپورٹ
*امتیاز احمد انصاری*
آسنسول

بہت سارے نشیب و فراز اور پل پل نئے حالات سے گزرنے اور کبھی ہاں کبھی نہ کےحالات سے باہر نکلنے  کے بعد بالآخر تحفظ اوقاف کمیٹی ،ضلع پچھم بردوان کے زیر اہتمام جمعرات کے دن اٹوال موڑ،نزد آسنسول سیٹی بس اسٹینڈ میں وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف بڑا عوامی احتجاجی جلسہ منعقد ہوا اور عظیم کامیابیوں سے ہمکناربھی ہوا۔حالانکہ دھوپ کی تپش اور گرمی شدت کی رہی مگر مرکزی حکومت کے اس کالا قانون کے خلاف مسلمانوں کاجذبہ ایمانی اس مقام پر نظر آیا کہ قریب ساڑھے تین گھنٹوں تک اس سخت موسم میں بھی لوگ کھلے آسمان کے نیچےپوری دلجمعی کے ساتھ موجود رہ کر نہ صرف مقرروں کے خطاب کو سماعت کیا بلکہ وقفے وقفے سےمفتی طہ قاسمی کےذریعہ لگائے گئے پرجوش نعروں کا ساتھ  نعرہ لگاتے رہے۔

اس احتجاجی جلسے کی صدارت امارت شرعیہ ،پھلواری شریف پٹنہ کے نائب ناظم مولانا احمد حسین نے کی جبکہ نظامت کی ذمہ داری بالکل انوکھے انداز میں عیدگاہ والی مسجد کے امام وخطیب اور سنسکرت کے اسکالر مولانا تبارک حسین قاسمی چترویدی انجام دئیے۔بھیڑ کے اعتبار سے یہ اجلاس کامیاب رہا مگر حیرت کی بات ہے کہ جس جلسے کےلئے گزشتہ سال نومبر کےمہینے سے آسنسول ملی ویلفئیر سوسائٹی اور پچھلے قریب ایک ماہ سے تحفظ اوقاف کمیٹی ضلع پچھم بردوان کے اراکین شہر اور بیرون شہر کے مسلم علاقوں میں گھوم گھوم کر لگاتار بیداری مہم چلاتے رہےاور اس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے نظر آئے مگر اجلاس میں وہ بھیڑ نظر نہیں آئی جس کی توقع کی جارہی تھی۔جتنی منھ اتنی باتیں، کچھ نے کنوینر کے مستعفی ہونے توکچھ نے علماء وائمہ کرام تک اپنی تحریک ٹھیک طرح سے نہ پہنچانےتو کچھ نے ان کے  آپسی چپقلش کو بھیڑ کی کمی کا زمہ دار ٹھہرایا۔اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جلسے میں جو بھی بھیڑ تھی اکثریت ریلپار والوں کی ہی تھی۔ آسنسول جنوب اور بیرون آسنسول سے لوگوں کی نمائندگی تو ضرور رہی مگر عام لوگ اس جلسے سے غائب نظر ائے۔احتجاجی جلسے کاآغاز مولانا حشام کے تلاوت کلام پاک اور مولانا اکرام کے نعت پاک سے ہوا۔بعدازاں آسنسول ملی ویلفئیر سوسائٹی کے سکریٹری امتیاز احمد انصاری نے پہلگام کے دہشت گردانہ حملوں میں مارے جانے والے بےقصور سیاحوں کےلئے تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے اس خونی واقعہ کی تحفظ اوقاف کمیٹی اور اہلیان شہر کی جانب سےپرزور مذمت کی۔جلسے کو خطاب کرنے والوں میں مفتی شکیل الرحمٰن قاسمی ،مولانازین العابدین،مولانا کلیم قاسمی،مفتی زبیر احمد قاسمی،مفتی طہ قاسمی،مولاناطاہررشیدی،مشتاق احمد،مولانا نہال مصباحی ،مولانا مجاہد الاسلام،مولانا عبداللہ انس(پھلواری شریف،پٹنہ)،مفتی سعید اسعد قاسمی ودیگر کے نام شامل ہیں۔سبںھوں نے ملک اور ملک کے مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کا نقشہ کھینچا۔ آسنسول کے سنئیر وکیل شیکھر کنڈو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس کالا قانون کے کئی مضر اثرات  نمایاں کئے۔صدر جلسہ مولانا احمد حسین قاسمی نےبڑی تفصیل کے ساتھ ملک کی آزادی کی تحریک میں علمائے کرام اور عام مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئےوقف ترمیمی قانون کی آڑ میں مرکزی حکومت کےذریعہ مسلمانوں کے مساجد،مدارس،قبرستان سمیت وقف کی زمینوں پر قائم بےشمار خیراتی اداروں کوہڑپنے کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ،امارت شرعیہ،جمیعتہ العلماء ہندودیگر اداروں کی ہدایت پرآخری دم تک تحریک چلانے کی پکار دی۔ان ہی کی  دعاءپر احتجاجی جلسہ اختتام پذیر ہوا۔اظہار تشکر کے دوران تحفظ اوقاف کمیٹی کے کنوینر مفتی سعید اسعد قاسمی نے پٹنہ سے ائےمہمانوں،مقامی علماء کرام، ائمہ مساجد ، آسنسول میں اس  تحریک کی داغ بیل ڈالنے والا ادارہ آسنسول ملی ویلفئیر سوسائٹی کے تمام اراکین، تحفظ اوقاف کمیٹی کے تمام جوائنٹ کنوینر،لیگل سیل،ترجمان،متحرک ممبران،والنٹئیرس وکارکنان،جلسے میں شامل ہونے والے تمام افراد اور آسنسول درگاپور پولس کمشنریٹ کے اے سی پی، آسنسول ساؤتھ تھانہ کے افسرانچارج اور تمام پولس اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا۔واضح ہوکہ اول تو اس جلسے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہیں مل پارہا تھی مگر جب اجازت ملی تو پولس کا بھرپور تعاؤن حاصل ہوا۔ادھر والنٹیروں نے بھی اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائی اور اسٹیج پر موجود مہمانوں کے علاؤہ جلسہ میں شامل ہونے والوں کو شربت اور پانی کے بوتل پیش کرتے رہے۔اس احتجاجی جلسے کو کامیاب بنانےوالوں میں وسیم اکرم خان،شاہ عالم خان،دانش عزیز،محمد صلاح الدین ،کونسلر ایس ایم مصطفیٰ ،مفتی زبیر احمد،مشتاق احمد،مفتی طہ قاسمی،نعمان اسفر خان،ربیع الاسلام،اعجاز تنویر،تابش سرور،معراج احمد،تبریزعالم بابو،حسرت نواز،حافظ الطاف حسین،محمد اظہر،نیاز،اعجاز ،مرغوب،انور،عاطف،شہرت،قاسم،فیروز خان اور امتیاز احمد انصاری ودیگرکانام نہ لیا جائے تو یہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔