*تلنگانہ رکشنا سینا پارٹی کو شناخت دی جائے*
*مرکزی الیکشن کمیشن کو کلواکنٹلہ کویتا کا جواب*
*ای سی کی منظوری سے کئی پارٹیوں کے نام ایک جیسے ہیں۔ دلائل پیش*
صرف تلنگانہ میں ہی تلنگانہ راجیہ سمیتی اور تلنگانہ رکشنا سمیتی ناموں سے دو پارٹیوں کو شناخت دی گئی ہے, انہیں کوئی اعتراض نہیں تو تلنگانہ رکشنا سینا پر کیوں اعتراض کیا جارہا ہے؟ ہماری پارٹی کے رجسٹریشن کے خلاف آنے والے ایک ہزار اعتراضات ہمیں بھیجیں۔ تلنگانہ رکشنا سینا پارٹی کو شناخت دینے کی پارٹی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے اپیل کی ہے۔ اس ماہ کی 7 تاریخ کو دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق مرکزی الیکشن کمیشن کو جواب دیا گیا۔تلنگانہ رکشنا سینا کے جنرل سکریٹری انیل کمار نے اتوار کے روز مرکزی چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کو مکتوب تحریر کیا ۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی الیکشن کمیشن نے اس سال 28 اپریل کو خط کے ذریعے “تلنگانہ رکشنا سینا” پارٹی کا نام الاٹ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی نام الاٹ ہونے کے بعد ریاست بھر کے 105 اسمبلی حلقوں میں پارٹی جھنڈے لہرائے گئے اور تنظیمی سرگرمیاں شروع کی گئیں ۔انہوں نے بتایا کہ 23 جون کو الیکشن کمیشن نے خط لکھ کر کہا کہ پارٹی رجسٹریشن پر تقریباً ایک ہزار اعتراضات موصول ہوئے ہیں، لیکن اب تک ایک بھی اعتراض کی نقل فراہم نہیں کی گئی، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اعتراض کس نے کیا اور اس میں کیا نکات شامل ہیں، ایسے میں جواب کیسے دیا جائے؟
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے اور صرف ایک ہزار اعتراضات کی بنیاد پر فیصلہ لینا درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ اعتراضات کے پیچھے قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا کسی نے منظم طریقے سے یہ سب کروایا ہے؟ یہ تب ہی معلوم ہوگا جب اعتراضات کی نقول فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے منظور کردہ نام پر بھروسہ کرتے ہوئے پارٹی کو مضبوط کیا گیا۔ اب نام تبدیل کرنے کا مطالبہ شدید نقصان اور ناانصافی ہوگی۔انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ذاتی سماعت سے قبل تمام اعتراضات کی نقول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ مناسب جواب دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ “تلنگانہ رکشنا سینا” نام مکمل نیک نیتی اور آزادانہ سوچ کے تحت رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نام سے ملک میں کوئی اور سیاسی جماعت رجسٹرڈ نہیں ہے اور نہ ہی یہ نام کسی دوسری پارٹی سے مشابہت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی ناموں کا موازنہ کرتے وقت مکمل نام کو ایک اکائی کے طور پر دیکھا جانا چاہئے نہ کہ اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ “تلنگانہ رکشنا سمیتی (ڈیموکریٹک) 2024” اور “تلنگانہ راجیہ سمیتی 2023” الگ الگ نام، شناخت اور قیادت رکھنے والی پارٹیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ناموں کے مقابلے میں “تلنگانہ رکشنا سینا” ایک الگ، واضح اور منفرد سیاسی جماعت ہے اور کسی موجودہ پارٹی سے مماثلت نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں صرف جغرافیائی یا نظریاتی الفاظ کی مماثلت کی بنیاد پر پارٹی رجسٹریشن مسترد نہیں کیا گیا اور ملک میں ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی پریورتن پارٹی، عام آدمی پارٹی، عام آدمی سنگھرش پارٹی، پرجا سینا پارٹی، پرجا سیوا پارٹی، جن ادھیکار، راشٹریہ جنتا، ڈیموکریٹک، سوشل، ریپبلک انڈیا، شیرومنی جیسے الفاظ پر مشتمل سینکڑوں پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں، اس کو مدنظر رکھا جائے۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے منظور شدہ اسی نوعیت کے ناموں والی پارٹیوں کی فہرست بھی خط کے ساتھ منسلک کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ “تلنگانہ رکشنا سینا” کے نام پر آئے تمام اعتراضات اور ان کے خلاف استعمال ہونے والے تمام شواہد فراہم کئے جائیں۔انہوں نے اپیل کی کہ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لینے اور جواب دینے کے لئے مناسب وقت دیا جائے، اس کے بعد ہی شخصی سماعت کے لئے طلب کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ تمام تفصیلات فراہم ہونے کے بعد ہی وہ مؤثر طریقے سے اپنا موقف پیش کر سکیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف جغرافیائی یا قیاسی مخففات کی بنیاد پر کئے گئے اعتراضات کو مسترد کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق غیر جانبدار، معقول اور واضح وجوہات کے ساتھ فیصلہ کیا جائے۔انہوں نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29A کے تحت “تلنگانہ رکشنا سینا” پارٹی کی رجسٹریشن درخواست کو منظور کرنے کی اپیل کی ہے۔










