*تہاڑ کی دیواریں اور نیویارک کی آواز: عمر خالد کا مقدمہ*
*ظہران ممدانی کا خط: انسانی حقوق کا عالمی استعارہ*
*سلاخوں کے پیچھے قید ضمیر: عالمی برادری کا بڑھتا ہوا احتجاج*
بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
جنوری 2026 کی ایک سرد اور دھند آلود صبح، جب نیویارک شہر کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کا مکتوب نئی دہلی کی تہاڑ جیل کی آہنی دیواروں تک پہنچا، تو یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں تھا بلکہ عالمگیریت کے اس دور میں ریاستی خودمختاری اور آفاقی انسانی حقوق کے مابین جاری کشمکش کا ایک نیا استعارہ تھا۔ 5 برس سے زائد عرصہ یعنی 60 ماہ اور 1800 سے زائد دن قیدِ تنہائی میں گزارنے والے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق محقق عمر خالد کے نام یہ پیغام، اور اس کے ساتھ ہی امریکی ایوانِ نمائندگان کے 8 اراکین کا بھارتی سفیر سے انصاف کا تقاضا، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت عالمی سطح پر اپنی جمہوری ساکھ منوانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ یہ واقعہ محض ایک اسیر کی رہائی کا مطالبہ نہیں، بلکہ یہ بھارت کے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین، عدالتی سست روی اور ریاستی بیانیے کے سامنے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا اگر غیر جذباتی، علمی اور قانونی باریکیوں کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ عمر خالد کا مقدمہ اب ایک فرد کے جرم یا بے گناہی کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ بھارتی نظامِ عدل کی ساکھ اور ساخت کا امتحان بن چکا ہے۔
اس مقدمے کی سب سے پیچیدہ اور فنی بحث کا محور وہ قانون ہے جس کے تحت عمر خالد کو ستمبر 2020 سے پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے، یعنی انسدادِ غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ جسے عرفِ عام میں یو اے پی اے کہا جاتا ہے۔ قانونی ماہرین اور دستوری تجزیہ نگاروں کے نزدیک، اس قانون کی دفعہ 43 ڈی (5) بھارتی عدالتی تاریخ کا وہ تاریک باب ہے جس نے ضمانت بنیادی حق ہے اور قید ایک استثنا کے سنہری اصول کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا 2019 کا مشہور زمانہ فیصلہ ظہور وٹالی مقدمہ اس ضمن میں ایک ایسی آہنی دیوار بن چکا ہے جو ماتحت عدالتوں اور عالیہ عدالتوں کے ہاتھ باندھ دیتا ہے۔ اس عدالتی نظیر کے تحت، منصف ضمانت کی سماعت کے دوران پولیس کے پیش کردہ شواہد کے معیار یا سچائی کی گہرائی میں اترنے کا مجاز نہیں بلکہ اسے پولیس کی ابتدائی رپورٹ کو بادی النظر میں سچ تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ قانونی بھول بھلیاں ہیں جن میں عمر خالد گزشتہ 5 برسوں سے الجھے ہوئے ہیں۔
تاہم، ظہران ممدانی اور امریکی قانون سازوں کے خطوط نے بالواسطہ طور پر اسی قانونی خلا کی طرف اشارہ کیا ہے، جسے خود بھارتی سپریم کورٹ نے یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب (2021) مقدمے میں تسلیم کیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ اگر مقدمے کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر واقع ہو جائے اور ملزم اپنی ممکنہ سزا کا ایک بڑا حصہ بطور زیرِ سماعت قیدی کاٹ لے، تو آئین کی دفعہ 21 جو زندگی اور آزادی کے حق کی ضامن ہے انسدادِ دہشت گردی قانون کی سختیوں پر بھی حاوی ہو جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 5 سال بغیر مکمل سماعت کے قید رکھنا غیر معمولی تاخیر کے زمرے میں نہیں آتا؟ یہ وہ سوال ہے جو اب بین الاقوامی ایوانوں میں گونج رہا ہے۔
اس تناظر میں جب ہم قومی ادارہ برائے ریکارڈ جرائم کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہیں تو ایک تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے جو امریکی قانون سازوں کے خدشات کو تقویت دیتی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سخت گیر قانون کے تحت درج مقدمات میں سزا کی شرح یعنی جرم ثابت ہونے کا تناسب انتہائی کم ہے، جو کہ اوسطاً 3 فیصد سے بھی کم رہتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس مفروضے کو جنم دیتے ہیں کہ اس قانون کا اصل مقصد مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچانا نہیں، بلکہ ملزم کو پیچیدہ عدالتی چارہ جوئی میں الجھا کر اس کی زندگی کے قیمتی سال ضائع کرنا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے قانونی عمرانیات میں ضابطہِ کار ہی اصل سزا ہے کہا جاتا ہے۔ عمر خالد کے مقدمے میں، ہزاروں صفحات پر مشتمل فردِ جرم، گواہوں کے بیانات میں تضاد، اور پھر ضمانت کی سماعتوں کا مہینوں ملتوی ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں مقصد انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ قید کے دورانیے کو طویل کرنا ہے۔ امریکی قانون سازوں کا خط دراصل اسی تاخیری حربے کو بطور سزا استعمال کرنے کے خلاف ایک سفارتی احتجاج ہے، جو یہ باور کراتا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں مقدمے کے فیصلے سے قبل طویل قید کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ظہران ممدانی کے خط کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے جغرافیائی سیاسی اور سماجی پس منظر کا بھی احاطہ کرنا ہوگا۔ ممدانی محض نیویارک کے میئر نہیں ہیں، بلکہ وہ ممتاز بھارتی فلم ساز میرا نائر اور مشہور یوگنڈائی نژاد محقق محمود ممدانی کے صاحبزادے ہیں۔ ان کا یہ اقدام مغرب میں مقیم جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کی سوچ میں رونما ہونے والی ایک بڑی تبدیلی کا عکاس ہے۔ روایتی طور پر یہ طبقہ اپنی آبائی حکومتوں کا حامی رہا ہے، لیکن اب ایک نئی نسل ابھر رہی ہے جو انسانی حقوق کو اندھی قوم پرستی پر ترجیح دیتی ہے۔ نیویارک سے اٹھنے والی یہ آواز دراصل واشنگٹن کے ان طاقتور حلقوں کی نمایندگی کرتی ہے جو بھارت کو چین کے خلاف ایک تزویراتی شراکت دار تو مانتے ہیں، لیکن ساتھ ہی بھارت کے داخلی انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ یہ نرم قوت اور ثقافتی اثر و رسوخ کا وہ دباؤ ہے جسے نظر انداز کرنا نئی دہلی کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی قانون سازوں کا یہ کہنا کہ وہ عمر خالد کے مقدمے کی شفافیت پر نظر رکھیں گے، سفارتی زبان میں ایک سخت انتباہ ہے کہ بھارت کے عدالتی نظام کی کارکردگی اب عالمی جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔
فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو عمر خالد کی موجودہ صورتحال اطالوی مفکر جیورجیو اگامبن کے تصور استثنائی حالت کی عملی تفسیر نظر آتی ہے۔ جدید ریاستیں بعض اوقات قانون کا سہارا لے کر ہی قانون کی روح کو معطل کر دیتی ہیں اور شہریوں کو ایسے وجود میں تبدیل کر دیتی ہیں جنہیں حقوق سے عاری سمجھا جاتا ہے۔ عمر خالد کو بھی ریاست نے شہریت کے مکمل حقوق سے محروم کر کے ایک ایسے دائرے میں دھکیل دیا ہے جہاں آئین موجود تو ہے لیکن اس کا اطلاق معطل ہے۔ ظہران ممدانی کا خط دراصل انسان کو اس کے انسانی شرف سے محروم کرنے کے عمل کے خلاف مزاحمت ہے۔ جب وہ لکھتے ہیں کہ ہم آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو وہ عمر خالد کو دوبارہ ایک سیاسی اور سماجی وجود کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ یہ نفسیاتی سطح پر ریاست کے اس بیانیے کی شکست ہے جو عمر خالد کو محض ایک شر پسند یا مجرم ثابت کرنا چاہتی ہے۔
یہاں اس دلیل کا جائزہ لینا بھی ازحد ضروری ہے جو اکثر ریاستی موقف کے حامیوں کی جانب سے پیش کی جاتی ہے، یعنی ریاستی خودمختاری اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت۔ بلاشبہ، ہر آزاد ملک کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے قوانین کے مطابق عدالتی کارروائی کرے اور بیرونی مداخلت کو مسترد کرے۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کا روایتی موقف یہی رہا ہے کہ بھارت کا عدالتی نظام آزاد اور خود مختار ہے۔ تاہم، 21 ویں صدی کے بین الاقوامی قوانین کے ماہرین اس دلیل کو اب حتمی اور مطلق تسلیم نہیں کرتے۔ انسانی حقوق کا آفاقی منشور، جس پر بھارت دستخط کنندہ ہے، اور شہری و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ ریاستوں کو پابند کرتے ہیں کہ وہ منصفانہ سماعت اور آزادیِ اظہار کے حقوق کی پاسداری کریں۔ جب کوئی ریاست 5 سال تک اپنے ہی شہری کا مقدمہ شروع کرنے میں ناکام رہے، تو یہ معاملہ اندرونی انتظامی مسئلے کی حد سے نکل کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بن جاتا ہے، جس پر عالمی برادری کا سوال اٹھانا مداخلت نہیں بلکہ ایک قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا، ممدانی اور امریکی اراکین کا خط بھارت کی خودمختاری پر حملہ نہیں، بلکہ بھارت کو اس کے اپنے آئینی وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی یاد دہانی ہے۔
مزید برآں، یہ معاملہ صرف قانونی یا سیاسی نہیں ہے، بلکہ یہ بھارت کی سول سوسائٹی اور عدلیہ کی ادارہ جاتی صحت کا بھی عکاس ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت میں، عدلیہ انتظامیہ کی طاقت پر قدغن لگاتی ہے اور توازن قائم کرتی ہے۔ لیکن عمر خالد، اور ان جیسے دیگر ملزمان جیسے بھیم کوریگاؤں مقدمے کے اسیران کے معاملے میں عدلیہ انتظامیہ کی توسیع نظر آتی ہے۔ ضمانت کی سماعتوں میں تاخیر، ججوں کے تبادلے، اور بینچوں کا ٹوٹنا یہ سب عوامل اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ عدلیہ دباؤ کا شکار ہے۔ امریکی قانون سازوں کی جانب سے بروقت سماعت کا مطالبہ دراصل بھارتی عدلیہ کے لیے ایک آئینہ ہے کہ وہ اپنی ہی قائم کردہ نظیروں پر عمل کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ کیا ایک طالب علم رہنما ریاست کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہے کہ اس کے لیے تمام قانونی اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے؟ یہ وہ سوال ہے جو اب نہ صرف دہلی کے دانشور حلقوں میں بلکہ واشنگٹن اور نیویارک کی راہداریوں میں بھی گونج رہا ہے۔
اس تمام تجزیے کا لبِ لباب یہ ہے کہ عمر خالد کا مقدمہ اب ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ریاست کی طاقت ہے جو قومی سلامتی کے نام پر طویل اور غیر معینہ قید کو جواز فراہم کرتی ہے، اور دوسری طرف آئین، انسانی حقوق اور اب بڑھتا ہوا بین الاقوامی دباؤ ہے۔ ظہران ممدانی اور امریکی قانون سازوں کے خطوط نے اس مقدمے میں نئی حرکیات پیدا کر دی ہیں۔ اگر بھارتی حکومت اور عدلیہ نے اس دباؤ کو مثبت انداز میں لیا اور عدالتی عمل کو تیز کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ کیا، تو یہ بھارتی جمہوریت کی فتح ہوگی۔ لیکن اگر اس آواز کو سازش قرار دے کر مسترد کر دیا گیا اور عمر خالد کی قید کو مزید طویل کیا گیا، تو یہ اس بات کی تصدیق ہوگی کہ بھارت میں اختلافِ رائے کی گنجائش سکڑتی جا رہی ہے اور قانون اب انصاف کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی انتقام کا ہتھیار بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عدالتی ایوان خاموش ہو جاتے ہیں تو ضمیر کے قیدیوں کی آوازیں جیل کی دیواریں پھلانگ کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ عمر خالد کی مسکراہٹ اور ممدانی کا خط دونوں اس بات کی نوید ہیں کہ جبر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، امید اور یکجہتی کے چراغ بجھائے نہیں جا سکتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 2026 کا سورج عمر خالد کے لیے انصاف کی کرن لے کر طلوع ہوتا ہے یا انتظار کی ایک اور طویل رات ان کا مقدر بنتی ہے۔










