جاموڑیا: آسنسول کے جاموڑیا تھانہ علاقے کے آمبگان میں جمعہ کی دیر رات ایک غیر قانونی کوئلہ کان میں زہریلی گیس کی زد میں آ کر دو مزدوروں کی موت ہو گئی۔ متوفیوں کی شناخت 42 سالہ روی کرمکار اور 30 سالہ سنجیت باؤری کے طور پر ہوئی ہے، جو بارول گاؤں کے رہائشی تھے۔
دونوں مزدور 400 روپے کی دیہاڑی پر غیر قانونی طور پر کوئلہ نکالنے کے لیے تقریباً پچاس فٹ گہری کان میں اترے تھے۔ ان کے ساتھ موجود دو دیگر ساتھیوں نے دیکھا کہ وہ زہریلی گیس کی لپیٹ میں آ کر بے ہوش ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد دونوں ساتھی موقع سے بھاگ کر گاؤں پہنچے اور مقامی لوگوں اور متوفیوں کے اہل خانہ کو اطلاع دی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ اور دیہاتی پوری رات کان کے دہانے پر جمع ہو گئے اور لاشوں کو نکالنے کی مانگ کرتے ہوئے احتجاج کرنے لگے۔
اطلاع پاتے ہی جاموڑیا اسمبلی حلقے کے ایم ایل اے اور مغربی بردوان ضلع ترنمول کانگریس کے چیئرمین ہری رام سنگھ جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں انہیں مقامی لوگوں کے سخت غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ ناراض گاؤں والوں نے ایم ایل اے کا گھیراؤ کیا اور ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔

بعد میں جاموڑیا تھانہ پولیس، رانی گنج سے فائر بریگیڈ کی خصوصی ٹیم، اور ای سی ایل کے افسران موقع پر پہنچے۔ ہفتہ کی صبح انتظامیہ نے کان میں زہریلی گیس کی موجودگی کی جانچ کے لیے ایک زندہ مرغی کو رسی سے باندھ کر اندر بھیجا۔ کچھ وقت بعد جب مرغی کو باہر نکالا گیا تو وہ مردہ پائی گئی، جس سے تصدیق ہو گئی کہ کان میں زہریلی اور جان لیوا گیس موجود ہے۔
مقامی لوگوں نے خصوصی بچاؤ ٹیم کو فوری بلانے کی مانگ کی، جس دوران ان کی پولیس و انتظامیہ کے ساتھ کئی بار بحث بھی ہوئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ای سی ایل کی ریسکیو ٹیم کو اطلاع دے دی گئی ہے، لیکن وہ اب تک موقع پر نہیں پہنچی ہے۔
متوفیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صرف 400 روپے کے عوض ان کے پیارے کان میں کوئلہ نکالنے گئے تھے، جہاں وہ زہریلی گیس کا شکار ہو گئے۔ وہ فوری کارروائی اور لاشوں کو جلد از جلد نکالنے کی مانگ کر رہے ہیں۔
ہفتہ کی صبح تقریباً 11 بجے، سنجیت باؤری کی لاش برآمد کر لی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، ایک مقامی شخص نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کان میں داخل ہو کر سنجیت کی لاش کو رسی سے باندھ دیا تھا۔ تاہم، کان میں زہریلی گیس کی شدت کے باعث فوری طور پر لاش باہر نہیں لائی جا سکی، لیکن بعد میں مقامی لوگوں نے پولیس کی موجودگی میں رسی کھینچ کر لاش کو باہر نکالا۔
دوسرے مزدور روی کرمکار کی لاش اب تک نہیں نکالی جا سکی ہے۔ مقامی لوگ اس وقت تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں جب تک لاش کو نکال کر متوفی کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کیا جاتا۔
یہ واقعہ نہ صرف غیر قانونی کانکنی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ متعلقہ حکام کی لاپرواہی اور مزدوروں کی زندگی کی ناقدری پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔




















