*جشن جمہوریت اور یوم جمہوریت*
*محمد ہاشم القاسمی* (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال ) موبائل 9933598528
پورے ملک میں ہر سال 26 جنوری کو “جشن جمہوریت اور یوم جمہوریت” منا کر شہیداء مجاہدین آزادی اور آئین ہند کے بانیین ومرتبین کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے ۔لیکن ہمارے ملک میں یہ جشن جمہوریت کی بہاریں یونہی نہیں آئی ہے، ہندوستان میں جمہوری نظام لانے اور انگریزی تسلط ختم کرنے کی جدوجہد بڑی سخت اور طویل رہی ہے، آزادی کا یہ پرخطر سفر کوئی آسان کھیل نہیں تھا۔ داستان آزادی بڑی دلدوز اور دلسوز ہے ، جس کا یہاں مختصر احاطہ پیش کیا جا رہا ہے۔ 1498میں پرتگال (یورپ) والے ایک عربی ملاح “واسکوڈی گاما” کی مدد سے پہلی مرتبہ بحری راستے سے ہندوستان پہنچے اور کلکتہ سے اپنی تجارتی سر گرمیوں کا آغاز کیا اور ایک عرصے تک خوب منافع کمایا، انکی دیکها دیکهی یورپ کے دوسرے ممالک مثلا ہالینڈ، اور انگلستان والوں نے بهی ہندوستانی دولت لوٹنے کا پلان تیارکیا، چنانچہ انگلستان کے 101 تاجروں نے 30 ہزار پونڈ (انگریزی روپیہ) جمع کرکے “ایسٹ انڈیا کمپنی” کے نام سے ایک کمپنی بنائی اور 1601 میں انکا پہلا جہاز ہندوستان آیا، اس وقت ہندوستان میں جہانگیر بادشاه کی حکومت تھی (یہ اکبر بادشاہ کا لڑکا تھا اس کا اصل نام سلیم نورالدین اور لقب جہانگیر تھا) اس نے انگریزوں کا خیرمقدم کیا لیکن انگریزوں کو باقاعده تجارت کی اجازت جہانگیر کے دوسرے لڑکے شاه خرم (شاہجہاں) نے دی تھی۔رفتہ رفتہ اس کمپنی نے تجارت کی آڑ میں اپنی فوجی طاقتوں میں اضافہ کرنا شروع کیا (یعنی مال کی جگہ ہتھیار اور ملازم کی آڑ میں فوجیوں کی آمد) لیکن اس وقت مرکز میں مغلیہ سلطنت اس قدر مضبوط تھی کہ انگریزوں کو خاطر خواه کامیابی نہیں ملی ، شاہجہاں کے دوسرے لڑکے اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کمزور ہونے لگی، اٹهارہویں صدی میں مغلیہ سلطنت کی عظمت کا سکہ کمزور ہوتے ہی طوائف الملوکی کا دور شروع ہو گیا۔ عیار اور شاطر انگریزوں نے پورے ملک پر قبضے کا پلان بنا لیا، اور ہندوستانیوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا منصوبہ طے کر لیا انکے خطرناک عزائم اور منصوبے کو بهانپ کر سب سے پہلے پلاسی کے میدان میں جس مرد مجاهد نے انگریزوں سے مقابلہ کیا اور 1757 میں جام شہادت نوش کیا وه شیر بنگال نواب سراج الدولہ تھا، پھر 1799 میں سرنگا پٹنم میں انگریزوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شیر میسور سلطان ٹیپو نے ملک پرجان قربان کردی، جسکی شہادت پر انگریز فاتح لارڈ ہارس نے فخر و مسرت کیساتھ اعلان کیا تھا کہ” آج ہندوستان ہمارا ہے” واقعتاً اب انکے مقابل کوئی اور نہیں تھا اور دہلی تک راستہ صاف تھا، 1803میں انگریزی فوج دہلی میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئی اور بادشاہ وقت “شاه عالم ثانی “سے جبرا ایک معاهده لکھوایا کہ “خلق خداکی، ملک بادشاہ سلامت کا اور حکم کمپنی بہادر کا” یہ بات اس قدر عام ہوگئ کہ لوگ کہنے لگے “حکومت شاہ عالم از دہلی تا پالم” یہ معاهده گویا اس بات کا اعلان تھا کہ ہندوستان سے اب اسلامی اقتدار ختم ہو چکا ہے، وحشت و بربریت ،ظلم و ستم کی گهنگهور گهٹائیں پوری فضا کو گهیر چکی ہیں ، وطنی آزادی اور مذهبی شناخت ان کے رحم وکرم پر ہوگی ایسے بهیانک ماحول اور پرفتن حالات میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے شاه عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے پوری جرأت و بیباکی کے ساتھ فتوی جاری کیا کہ ” ہندوستان دارالحرب ہے” یعنی اب ملک غلام ہو چکا لهذا بلا تفریق مذہب وملت ہر ہندوستانی پر انگریزی تسلط کے خلاف جہاد فرض ہے، ان کے فتوی کی روشنی میں علماء کرام کهڑے ہوئے، سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ اور شاه اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ آگے بڑهے، پورے ملک کا دوره کرکے قوم کو جگایا اور ہر طرف آزادی کی آگ لگادی اور 1831 کو بالاکوٹ کی پہاڑی پر لڑ کر جام شہادت نوش کیا۔ دهیرے دهیرے پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف ماحول بننے لگا، اور انگریزوں کے مظالم کوئی ڈهکے چهپے نہ تھے چنانچہ میلکم لوئین جج عدالت عالیہ مدراس و ممبر کونسل نے لندن سے اپنے ایک رسالہ میں ظلم و بربریت پر لکها تھا کہ “ہم نے ہندوستانیوں کی ذاتوں کو ذلیل کیا انکے قانون و راثت کو منسوخ کیا، بیاه شادی کے قاعدوں کو بدل دیا، مذہبی رسم و رواج کی توہین کی، عبادت خانوں کی جاگیریں ضبط کرلیں، سرکاری کاغذات میں انهیں کافر لکها، امراء کی ریاستیں ضبط کرلیں، لوٹ کهسوٹ سے ملک کوتباه کیا، انہیں تکلیف دیکر مالگزاری وصول کی، سب سے اونچے خاندانوں کو برباد کرکے انہیں آوارہ گرد بنا دینے والے بندوبست قائم کئے ” (مسلمانوں کاروشن مستقبل ص،110) 1857 میں دہلی کے 34 علماء نے جہاد کافتوی دیا جسکی وجہ سے معرکہ کارزار پهر گرم ہوگیا۔ دوسری طرف انگریزی فوجیں پورے ملک میں پھیل چکی تھیں اور ہندوستان سے مذہبی بیداری و سرگرمی ختم کرنے کے لئے انگریزوں نے بےشمار عیسائی مبلغین (پادری ) کومیدان میں اتار دیا تھا جسے انگریزی فوج کی پشت پناہی حاصل تھی جوجگہ جگہ تقریریں کرتے اور عیسائیت کا پرچار کرتے، اسی دوران یہ خبر گشت کرنے لگی کہ انگریزی حکومت نے ہند و مسلم کا مذہب خراب کرنے کے لئے اور دونوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کیلئے آٹے میں گائے اور سور کی ہڈی کا براده ملا دیا ہے، کنویں میں گائے اور سور کا گوشت ڈلوا دیا ہے، ان واقعات نے ہندوستانیوں کےدلوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی ایک آگ لگادی ،انکی ان مذہب مخالف پالیسیوں کی وجہ سے انگریزی فوج میں ملازم ہند و مسلم سب نے زبردست احتجاج کیا۔ کلکتہ سے یہ چنگاری اٹهی اور دهیرے دهیرے بارک پور، انبالہ لکهنو میرٹھ ، مرادآباد اور سنبهل وغیره تک پہنچتے پہنچتے شعلہ بن گئی۔احتجاج کرنیوالے سپاہی أور انقلابی منگل پانڈے اور انکےساتھیوں کو پهانسی دےدی گئ، اور جہاں جہاں احتجاج ہوا اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے سخت قوانین بنادئے گئے، احتجاجیوں کی بندوقیں چهین لی گئیں، وردیاں پهاڑ دی گئیں،
دوسری طرف 1857میں ہی جبکہ ہرطرف بغاوت کی لہر پهوٹ چکی تھی لوگ ادهر ادهر سے آکر حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں انگریزوں سے مقابلہ کے لئے بےتاب تھے بانی دارالعلوم دیوبند مولا ناقاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ، مولانا رشیداحمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ، مولانا منیر رحمتہ اللہ علیہ و حافظ ضامن شہید رحمتہ اللہ علیہ بطورخاص حاجی صاحب کی قیادت میں شاملی کے میدان میں انگریزوں کا مردانہ وارمقابلہ کیا۔ دوسری طرف: جگہ جگہ بغاوت پهوٹنے کے بعد زیاده تر انقلابی فوجیوں نے دہلی کا رخ کیا اور جنرل بخت خان کے ساتھ ملکر پورے عزم وحوصلہ کے ساتھ دہلی شہر اور مغلیہ حکومت کا دفاع کرتے رہے، ناناصاحب، تاتیا ٹوپے، رانی لکشمی بائ، رانابینی مادهو سنگه وغیره بهی پیش پیش تھے ، مگر انگریزوں کی منظم فوج کے سامنے بغاوت ناکام ہوگئ اور انگریزوں نے 20ستمبر 1857 کو لال قلعہ پر باقاعده قبضہ کرلیا اور سلطنت مغلیہ کے آخری چراغ بہادرشاه کو گرفتار کرکے رنگون (برما) جلا وطن کر دیا گیا۔
سن 1857 کی بغاوت جسے انگریزوں نے”غدر” کانام دیا تھا ناکام ہونےکے بعد انگریزوں نے ظلم وستم کی جو بجلیاں گرائی ہیں، الامان والحفیظ چونکہ انگریزوں کے مقابلے میں مسلم عوام اور علماء صف اول میں تھے اس لئے بدلہ بهی ان سے خوب لیا گیا، مولویت بغاوت کے ہم معنی قرار دے دی گئ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے یہ حکم جاری کیا گیا تھا کہ لمبی داڑھی اور لمبےکرتے والے جہاں ملیں تختہ دار پر چڑها دیا جائے، قتل و پهانسی کا یہ سلسلہ تقریبا دو ہفتہ چلتا رہا، ایک ہندو مؤرخ میوارام گپت کے بقول :”ایک اندازے کے مطابق 1857 میں پانچ لاکھ مسلمانوں کوپهانسیاں دی گئیں ”
ایڈورڈ ٹائمس کی شہادت ہے کہ صرف دہلی میں 500 علماء کو تختہ دارپر لٹکایا گیا (ابهی تک گاندھی جی یا کانگریس کا وجود نہیں ہے کیونکہ گاندھی جی تو 1869میں پیداہوئے تھے) 30 مئ 1866 کو اکابرین علماء امت اور یہی بچے کهچے مجاہدین نے دیوبند میں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی جو آگے چل کر “دارالعلوم دیوبند”کےنام سے مشہور ہوا۔ 1878 میں اسی درسگاہ کے ایک فرزند مولانا محمود حسن دیوبندی نے (جو آگے چل کر”شیخ الهند”کےنام سے مشہور ہوئے انگریزوں کے لئے مسلسل درد سر بنے رہے “تحریک ریشمی رومال یاتحریک شیخ الهند”بزبان حکومت برٹش “ریشمی خطوط سازش کیس “انہیں کی پالیسی کا حصہ تھی )” ثمرة التربیت “کے نام سے ایک انجمن قائم کی جسکا مقصد انقلابی مجاهدين تیار کرنا تھا 1885 میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد ڈالی گئ ، کچھ عرصہ کے بعد لوک مانیہ بال گنگادهر تلک نے “سوراج ہمارا پیدائشی حق ہے” کانعره بلند کیا اور 1909میں “جمعیةالانصار” کے نام سے ایک تنظیم قائم ہوئ جسکے پہلے ناظم مولانا عبیداللہ سندهی منتخب ہوئے اور 1911یا12 میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمتہ اللہ علیہ نے کلکتہ سے الهلال اخبار کے ذریعہ آزادی کا صور پهونکا 1915میں ریشمی رومال کی تحریک چلی 1916 میں ہند و مسلم اتحاد کی تحریک چلی اور 1919 میں دہلی میں خلافت کانفرنس کا اجلاس ہوا اور اسی جلسے میں باضابطہ “جمعیةعلماء هند” کی تشکیل ہوئی جسکے پہلے صدر مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ علیہ منتخب ہوئے 1919 میں ہی امرتسر کےجلیاں والاباغ کے ایک جلسے میں انگریزوں کی فائرنگ سے ان گنت ہند و مسلم کاخون بہا ۔ 1920میں حضرت شیخ الهند نےترک موالات کافتوی دیا جسے مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد بہاری نے مرتب کر کے جمعیت کی طرف سے شائع کیا 1921میں مولانا حسین احمد مدنی نےکراچی میں پوری جرأت کیساتھ اعلان کیاکہ “گورنمنٹ برطانیہ کی اعانت اور ملازمت حرام ہے” 1922 میں ہند و مسلم اتحاد ختم کرنے کے لئے انگریزوں نے شدهی اور سنگهٹن تحریکیں شروع کیں جسکی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات پهوٹے 1926میں کلکتہ میں جمعیت کے اجلاس میں جسکی صدارت مولانا سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ نے کی مکمل آزادی کی قرار داد منظور ہوئی 1929 اور 30 میں گاندهی جی نے”ڈانڈی مارچ اور نمک ستیہ گره (نمک سازی تحریک)”چلائی 1935 میں حکومت ہند کا ایک دستور بنایا گیا 1939 میں دوسری جنگ عظیم چهڑگئی 1942 میں” انگریزو ! ہندوستان چهوڑو “تحریک چلی بالآخر برٹش سرکار جهکی اور—-15/اگست 1947 کو ہمارا ملک ہندوستان آزاد ہو گیا۔ “المختصر ! وطن عزیز کو آزاد کرا نے میں زبردست قربانیاں پیش کی گئی اور ظلم و بربریت کی ایک طویل داستان لکھی گئ جسکا ہرصفحہ ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں کےخون سے لت پت ہے، جذبہ آزادی سے سرشار اور سر پر کفن باندھ کر وطن عزیز اور اپنی تہذیب کی بقاء کیلئے بےخطر آتش فرنگی میں کود نے والوں کے ہر دستہ میں مسلمان صف اول میں تھے۔ لیکن نہ جانے وطنِ عزیز کو کس کی نظر بد لگ گئی ہے کہ پورے ملک میں بد امنی اور بےچینی بڑهتی جا رہی ہے، کچھ لوگوں کو یہاں کا میل جول ہندو مسلم اتحاد بالکل پسند نہیں ہےحالانکہ یہاں مختلف افکار و خیالات اور تہذیب وتمدن کے لوگ بستے ہیں اور یہی تنوع اور رنگا رنگی تہذیب یہاں کی پہچان ہے
چند فرقہ فرست عناصر ہیں جنہیں ملک کی یکتائی اور اسکا سیکولر نظام بالکل پسند نہیں وه ساری اقلیتوں کو اپنے اندر جذب کرنے یا بالکلیہ انکا صفایا کرنے یا ملک کے جمہوری ڈهانچے کو تبدیل کرنے کیلئے بےتاب ہیں۔
بڑے تعجب کی بات ہے جنکا جنگ آزادی میں کوئی رول نہیں، وطن کی تعمیر میں کوئی کردار نہیں بلکہ انکے سروں پر بابائے قوم گاندھی جی کا خون ہو، جسکی پیشانی پر مذہبی تقدس کو پامال کرنے کا کلنک ہو اور جسکے سروں پر ہزاروں فسادات، لاکهوں بے قصور انسانوں کے قتل اور اربوں کھربوں کی تباہی کا قومی گناه ہو اسکے نظریات کی تائید کیسے کی جا سکتی ہے ؟ ؟؟
اور کیا ایسے لوگوں کے ہاتھ اقتدار دیکر ملک کی بےمثال جمہوریت اور خوبصورت نظام کے باقی رہنے کی توقع کی جا سکتی ہے؟ جبکہ ملک اس وقت ایک تلخ تجربے سے گزر رہا ہے۔آج ملک بهر میں حتی کہ مدارس میں بهی پورے جوش و خروش کیساتھ 76 واں جشن جمہوریت منایا جا رہا ہے۔
اے کاش آیئن کے تحفظ اور جمہوری اقدار کی بقا پر قسمیں کھائی جاتیں، نفرت بهرے ماحول کو امن و بهائی چارے سے بدلنے کی باتیں کی جاتیں، مساویانہ آئینی حقوق کو یقینی بنایا جاتا، ملک دشمن عناصر اور فکر کو پابند سلاسل کیا جاتا ؟،
اے کاش گنگا جمنی تہذیب کی لاج رکهی جاتی، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کےخلاف آگ اگلنے والی زبانوں پر بریک لگائی جاتی، نانک و چشتی، کے خوابوں کی تعبیر ڈهونڈ نے کا عزم کیا جاتا۔ بہرحال
آزادی ملنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہ سامنے آ یا کہ ملک کا دستور کیسا ہو؟ مذهبی ہو یا لامذهبی؟ اقلیت و اکثریت کے درمیان حقوق کس طرح طے کئے جایئں؟ آزادی کے بعد ملک میں سیکولر جمہوری نظام نافذ کرانے میں جمعیتہ علماء هند کا رول نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے بحیثیت رکن دستور ساز اسمبلی اقلیتوں کو مراعات دلانے میں نمایاں حصہ لیا ۔ چنانچہ آیئن هند کے ابتدائی حصے میں صاف صاف یہ لکها گیا ہے کہ”ہم ہندوستانی عوام تجویز کرتے ہیں کہ انڈیا ایک آزاد، سماجوادی، جمہوری ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جاے جس میں تمام شہریوں کیلئے سماجی، معاشی، سیاسی، انصاف، آزادئ خیال، اظہارراے،آزادئ عقیدہ ومذهب وعبادات، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جاے گا اور ملک کی سالمیت ویکجہتی کو قائم و دائم رکها جائیگا” 1971 میں اندرا گاندهی نے دستور کے اسی ابتدائیہ میں لفظ “سیکولر”کا اضافہ کیا ہندوستانی جمہوری نظام ایک بہترین نظام ہے اس میں مختلف افکار و خیالات اور تہذیب و تمدن کے لوگ بستے ہیں اور یہی تنوع اور رنگا رنگی یہاں کی پہچان ہے ۔26 جنوری کو اسی مساوی دستور و آیئن کی تائید میں باہمی یکجہتی اور میل جول کے اس عظیم ملک ہندوستان کی جمہوریت پر ناز کرتے ہیں۔*** “




















