*بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین*
بھارت، جو کبھی اپنی جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی پر فخر کرتا تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آئین کی روح کو بلڈوزر کے بے رحم پہیوں تلے کچلا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک استعارہ نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے “بلڈوزر جسٹس” کا نام دیا گیا ہے—ایک ایسا ریاستی عمل جہاں انتظامیہ خود ہی منصف، جلاد اور جج بن کر محض الزام کی بنیاد پر شہریوں کے گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیتی ہے۔ اس عمل نے نہ صرف قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکالا ہے، بلکہ اس نے ایک زیادہ خطرناک سوال کو جنم دیا ہے: جب ریاست خود آئین شکنی پر اتر آئے، تو اس کا محافظ، یعنی عدالتِ عظمیٰ، اتنی طویل مدت تک خاموش تماشائی کیوں بنا رہا؟ یہ کہانی صرف ایک حکومت کی آمریت کی نہیں، بلکہ ایک عدالتی ادارے کی بے بسی اور تاخیر سے کیے گئے انصاف کی بھی ہے۔
اس تباہ کن پالیسی کا آغاز اتر پردیش سے ہوا، جہاں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ ایک “مضبوط” اور “بے رحم” حکمران کی شبیہ کو فروغ دیا جا سکے۔ “بلڈوزر بابا” کا لقب محض ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک اکثریتی ووٹ بینک کو یہ پیغام دینے کی کوشش تھی کہ ریاست اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو، بغیر کسی قانونی کارروائی کے سزا دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ جلد ہی، یہ زہریلا ماڈل بی جے پی کی دیگر حکومتوں نے بھی اپنا لیا، اور پورے ملک میں انتقامی کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ پریاگ راج میں سماجی کارکن جاوید محمد کے گھر کی مسماری اس ریاستی دہشت کی محض ایک مثال تھی، جہاں ایک پورے خاندان کو ایک شخص کی مبینہ سرگرمیوں کی سزا دی گئی۔ یہ کارروائیاں، جنہیں “غیر قانونی تجاوزات” کے خلاف ایکشن کا نام دیا گیا، درحقیقت قانون کے لبادے میں ایک سیاسی انتقام تھیں جن کا اصل مقصد اختلاف رائے کو کچلنا اور ایک مخصوص کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ اس عمل میں ان گنت خاندان، جن میں عورتیں، بوڑھے اور بچے شامل تھے، راتوں رات کھلے آسمان تلے آ گئے، اور ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ملبے میں تبدیل ہو گئی، جبکہ قانون اور انصاف کے ادارے بے حسی کی تصویر بنے رہے۔
آئینِ بھارت کی دھجیاں اڑانے والا یہ عمل اس کے بنیادی ستونوں پر براہِ راست حملہ تھا۔ یہ “قانون کی حکمرانی” کے اصول کی توہین تھی، جہاں حکومت نے عدلیہ کو مکمل طور پر بائی پاس کرتے ہوئے ایک متوازی اور وحشیانہ نظامِ انصاف قائم کر دیا۔ یہ فطری انصاف کے ان تمام اصولوں کا گلا گھونٹنے کے مترادف تھا جو کسی بھی ملزم کو اپنی صفائی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت فراہم کردہ “زندگی کے حق” اور “پناہ کے حق” پر ایک کاری ضرب تھی۔ یہ محض گھروں کی مسماری نہیں تھی، بلکہ یہ آئین کی اس ضمانت کا قتل تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف اور وقار سے پیش آئے گی۔
اس پوری آئینی تباہی کے دوران بھارتی سپریم کورٹ کا کردار شدید تنقید کی زد میں ہے۔ جب بلڈوزر ریاست کے کونے کونے میں بے گناہوں کے گھروں کو روند رہے تھے، تب ملک کی سب سے بڑی عدالت ایک پراسرار خاموشی کی چادر اوڑھے رہی۔ اس کی یہ بے عملی ایک طرح سے ریاستی غنڈہ گردی کی خاموش توثیق کے مترادف تھی۔ عدالت کی یہ ناکامی کہ وہ اس رجحان کو ابتدا ہی میں روک دیتی، اس نے حکومتوں کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ اس غیر قانونی عمل کو ایک معمول کی پالیسی بنا لیں۔ جب بالآخر جمعیت العلماء ہند جیسی تنظیموں کے مسلسل دباؤ کے بعد عدالت بیدار ہوئی، تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ نومبر 2024 کا فیصلہ، جس میں بلڈوزر کارروائیوں پر رہنما اصول وضع کیے گئے، بلاشبہ ایک اہم قدم تھا، لیکن یہ اس زخم پر مرہم رکھنے کے مترادف تھا جو ناسور بن چکا تھا۔ چیف جسٹس بی آر گوائی کا یہ کہنا کہ “بھارت قانون سے چلتا ہے، بلڈوزر سے نہیں”، ایک کھوکھلا بیان محسوس ہوتا ہے جب اسی نظام نے بلڈوزر راج کو مہینوں تک پھلنے پھولنے دیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک فعال محافظ کا نہیں، بلکہ ایک ایسے ادارے کا تاثر دیتا ہے جو شدید عوامی اور قانونی دباؤ کے بعد محض ساکھ بچانے کے لیے حرکت میں آیا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ “بلڈوزر جسٹس” بھارت کے جمہوری چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہ ایک ایسی حکومت کی سفاکی کی علامت ہے جو سیاسی فائدے کے لیے آئین کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ لیکن یہ بھارتی سپریم کورٹ کی اس ناکامی کا بھی نوحہ ہے کہ وہ وقت پر اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت کا تاخیر سے آیا ہوا فیصلہ ان ہزاروں لوگوں کے آنسو نہیں پونچھ سکتا جن کے گھر اور خواب ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ آئینی اقدار اور سیاسی آمریت کے درمیان ایک مسلسل کشمکش ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا ملک جہاں حکومت قانون کی طاقت استعمال کرنے کی بجائے طاقت کا قانون استعمال کرے، اور جہاں عدلیہ وقت پر مداخلت کرنے سے ہچکچائے، خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کا حق رکھتا ہے؟
*نوٹ : مضمون میں مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔*












