*خشک سالی سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات میں چیف منسٹر بری طرح ناکام: کلواکنٹلہ کویتا*
*ریونت نے پریس کانفرنس میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے ہاتھ اٹھالئے*
*زرعی مزدوروں کو 12 ہزار روپئے امداد کے ساتھ لائف انشورنس فراہم کیا جائے*
*مانگ کر لائیں یا خریدیں۔ نومبر کے آخر تک کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم کرنا ضروری*
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں خشک سالی سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کرنے میں ریونت ریڈی حکومت بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس میں چیف منسٹر کی باتوں سے ان کی بے بسی ظاہر ہوئی۔ کویتا نے کہا کہ رواں سال جنوری ہی میں دنیا بھر میں ایل نینو کے خدشات سے متعلق انتباہات جاری کئے گئے تھے لیکن حکومت نے اس وقت سے ہی ضروری اقدامات کیوں نہیں کئے؟ انہوں نے کہا کہ اگست میں بارش معمول سے 28 فیصد کم ہونے پر پڑوسی ریاستوں نے الرٹ جاری کرتے ہوئے خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کا اعلان کیا۔مرکز کو رپورٹس بھیجیں اور ضروری اقدامات کئے لیکن تلنگانہ میں ایسا نہیں کیا گیا جس کے باعث یہاں خشک سالی کی صورتحال دیگر ریاستوں سے زیادہ سنگین ہوگئی۔
کویتا نے کہا کہ چھ ماہ گزرنے کے بعد اب کسانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ فصلیں نہ بوئیں اور قربانی دیں جبکہ حکومت خود قربانی دینے کے بجائے کسانوں کی تنظیموں میں بھی اپنے لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اقتدار میں آئے 30 ماہ گزرنے کے باوجود پالمورو۔رنگاریڈی پروجیکٹ مکمل نہیں کیا گیا اور میڈی گڈہ بیرج کی مرمت بھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت آخر کب تک سابقہ حکومت کو مورد الزام ٹھہراتی رہے گی۔ کویتا نے کہا کہ چیف منسٹر کی پریس کانفرنس اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے تک محدود رہی۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ اگر چیف منسٹر نے اپنے خاندان کے مفادات اور مبینہ لوٹ مار پر توجہ دینے کے بجائے عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دی ہوتی تو ریاست کو آج اس قدر ابتر صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تئیں حکومت کی عدم توجہی ہی موجودہ بحران کی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خود کو پالمورو کا فرزند کہنے والے ریونت ریڈی نے بھیمااور نٹیم پاڈو پروجیکٹ کیوں مکمل نہیں کئے؟ انہوں نے بتایا کہ ضلع محبوب نگر کے آئیجا منڈل سے روزگار کی تلاش میں کرناٹک جانے والے دو مزدور ایک حادثہ میں ہلاک ہوگئےجبکہ تقریباً پانچ دیگر زخمی ہوکر اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کویتا نے سوال کیا کہ جب کسانوں کو فصلیں نہ بونے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تو زرعی مزدوروں کا کیا ہوگا؟ روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرنے والے مزدوروں کو وہاں بھی کام نہیں مل رہاہے۔ حکومت نریگا کے تحت مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے کی بات کر رہی ہے لیکن مرکز کی منظوری کے بغیر ایسے وعدے کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پہلے جہاں نریگا میں 25 ہزار افراد کام کرتے تھے اب مبینہ طور پر ان کی تعداد ڈھائی لاکھ بتائی جا رہی ہے۔کیا ان سب کے لئے مرکز سے فنڈز حاصل ہوں گے یا حکومت مرکزی منظوری کی امید پر مزدوروں کو غیر یقینی صورتحال میں چھوڑ دے گی؟ اگر اب کمیٹی قائم کی جائے تو وہ کب رپورٹ دے گی اور مرکز کب منظوری دے گا؟
کویتا نے مطالبہ کیا کہ خشک سالی کے پیش نظر کانگریس نے انتخابات کے دوران زرعی مزدوروں سے 12 ہزار روپئے کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 فیصد زرعی مزدوروں کے پاس اپنی زمین نہیں ہوتی اور اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو ان کے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے زرعی مزدوروں کو لائف انشورنس فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے دوران خواتین کو گھڑے لے کر کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اگر چیف منسٹر کو خواتین کی مشکلات کا ذرا بھی احساس ہے تو مشن بھگیرتھا کو فوری طور پر مکمل کیا جائے کیونکہ ہر گھر تک نل کے ذریعہ پانی پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
کویتا نے کہا کہ آئندہ دس ماہ تک بارش نہ ہونے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں، ایسے میں حکومت میڈی گڈہ بیرج کی مرمت کب مکمل کرے گی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرمت کی تکمیل کی تاریخ واضح کی جائے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تاخیر کے باعث گوداوری کا پانی استعمال کئے بغیر ضائع ہوتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تنقید اور الزام تراشی بند کرکے تعمیراتی کام شروع کرنے چاہئیں۔
کویتا نے الزام عائد کیا کہ حیدرآباد میں پینے کے پانی کی قلت کی وجہ صرف ایل نینو نہیں بلکہ کانگریس قائدین بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد حیدرآباد میں آٹھ ہزار تالاب غائب ہوگئے، جس کے باعث زیر زمین پانی کی سطح متاثر ہوئی اور پانی کی قلت پیدا ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حیدراکیا کر رہا ہے اور مطالبہ کیا کہ حیدرآباد کے تالابوں کی صورتحال پر رپورٹ جاری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ایک سال کے لئے کرشنا کے پانی سے متعلق معاہدہ کیا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے اسی معاہدے کو بہانہ بناتےکرشنا کا پانی حاصل نہیں کیا۔ کویتا نے الزام لگایا کہ پانی کے معاملے میں چیف منسٹر کو مکمل معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جبکہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی 26 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جانے کے باوجود ایک بھی پروجیکٹ مکمل نہیں کیا گیا۔
کویتا نے یادادری پاور پلانٹ کے بعض حصوں کی نجکاری کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ اس پلانٹ سے بجلی پیدا کرنا ممکن نہیں یا اس کی لاگت زیادہ ہےتو دوسری جانب اس کے بعض حصوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے پر اپنے اختیار کی بات کرتی ہے، لیکن خود ہی پاور پلانٹ کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ اس کوشش کو فوری طور پر روکا جائے اور پاور میکس کمپنی کے ساتھ حکومت کے تعلقات اور معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی پہلے ہی بجلی کے بحران کے خدشات ظاہر کر چکی ہے۔ اگر نومبر کے آخر تک کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم نہیں کی گئی تو بورویل پر انحصار کرنے والے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب بجلی دستیاب رکھنے کی گنجائش موجود ہے تو حکومت کسانوں کو بجلی اور پانی فراہم کیوں نہیں کر رہی ہے؟ ریاست میں اضافی بجلی رکھنے والی ریاستوں سے بجلی خریدنے کی کوشش پہلے ہی کیوں نہیں کی گئی؟ کویتا نے کہا کہ اس بحران کے باوجود حکومت کی توجہ مبینہ بدعنوانی پر ہے جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کے عوام اور کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کو سمجھیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی پارٹی اس بحران میں کسانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی اور اپنی جانب سے ممکنہ مدد فراہم کرے گی۔
کویتا نے کے ٹی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھروسہ کرنے والوں کو مشکل میں چھوڑ دینا کے ٹی آر کی فطرت ہے۔ کویتا نے پرتیما سرینواس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خط لکھے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ پرتیما سرینواس نے تلنگانہ تحریک کے دوران بی آر ایس کی بہت مدد کی تھی، لیکن پارٹی کے لئے خدمات انجام دینے والی شخصیت کے خلاف ہی خط لکھ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط لاعلمی میں لکھا گیا یا جان بوجھ کر، اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ اگر لاعلمی میں لکھا گیا تو یہ ان کے علم کی کمی ظاہر کرتا ہے اور اگر جان بوجھ کر لکھا گیا تو یہ بھروسہ کرنے والوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کے ٹی آر نے ان لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاجنہوں نے ان کی مدد کی حتیٰ کہ اپنے قریبی افراد اور خود کویتا کے خلاف بھی مبینہ طور پر کرایہ کے لوگوں سے بیانات دلوائے گئے۔ کویتا نے کہا کہ یہ معاملہ کے ٹی آر کے رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی بھی اس معاملے میں پرتیما سرینواس کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، حالانکہ اب تحقیقات کی بات کی جا رہی ہے۔
کویتا نے کہا کہ کے ٹی آر کی جانب سے سنگارینی میں منعقدہ جلسہ مزدوروں کے مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد اور تشہیر پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس مزدوروں کے لئے تحریک چلانے کے بجائے دکھاوے کی سیاست کر رہی ہے اور یہ جلسہ سنگارینی کے مزدوروں کے لئے کم جبکہ کے ٹی آر کے لئے زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے لئے میڈیکل بورڈ قائم کرنے جیسے اہم مسائل کو نظرانداز کیا گیا جبکہ ان کی پارٹی نے سنگارینی ملازمین کے لئے میڈیکل بورڈ کے قیام کی خاطر جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے سنگارینی انتخابات میں ایچ ایم ایس اور ٹی آر ایس کامیابی حاصل کریں گے۔
انہوں نے چیف منسٹر کی جانب سے اب آل پارٹی وفد کو دہلی لے جانے کے اعلان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ اقدام جنوری میں کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ بی سی بل کے معاملے پر اس وقت آل پارٹی وفد دہلی کیوں نہیں لے جایا گیا؟ کویتا نے کہا کہ جب حکومت مشکلات میں گھرتی ہے تو اسے فنکار، فلمی شخصیات اور آل پارٹی وفد یاد آتے ہیں جبکہ ایک حقیقی حکمران کے پاس دور اندیشی ہونی چاہئے۔
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ آندھرا کے حکمرانوں کی وجہ سے ریاست کو پانی نہیں مل رہا ہے لیکن ریاست کے قیام کے بعد بھی آبی ذخائر اور پروجیکٹس مکمل کیوں نہیں کئے گئے؟ کویتا نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت کے تین سال کے دور میں ایک بھی پروجیکٹ مکمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سابقہ حکومت کے دور میں کنٹراکٹ لکچررس سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں ’’گُنتا نَکّا‘‘ کو اہم کردار قرار دیا اور الزام لگایا کہ موجودہ کانگریس حکومت ریت، مٹی اور مورم کی لوٹ مار میں ملوث ہے۔
کویتا نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ نومبر کے آخر تک کسانوں کو مفت بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اس معاملے پر مرکزی وزیر کشن ریڈی اور بنڈی سنجے سے بھی ملاقات کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے کسانوں سے فصلیں نہ بونے کو کہا ہے، لیکن اس کے بدلے معاوضے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ کے سی آر کے فارم ہاؤس میں اسائنڈ اراضی سے متعلق سوال پر کویتا نے کہا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔










