*خواتین کو تحفظات کی فراہمی کے معاملہ میں مرکزی کابینہ کا فیصلہ یکطرفہ*
*بی جے پی ہمیشہ ہی کی طرح دھوکہ دہی کی پالیسی اختیار کرنے کوشاں*
*2027کی مردم شماری تک انتظار اور متحدہ جدوجہد ہی واحد راستہ:کے کویتا*
صدرتلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے خواتین کو تحفظات کی فراہمی کے معاملہ پر مرکزی کابینہ کے فیصلہ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے شدید ہدف تنقید بنایا۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ مردم شماری میں اوبی سی طبقات کی علیحدہ گنتی کی جائے اور خواتین کوٹہ میں ان کےلئے سب کوٹہ فراہم کیاجائے۔انہوںنے واضح کیاکہ جاگروتی اس مطالبہ کی تکمیل تک شدت کے ساتھ تحریک چلائے گی۔کویتا نے کہاکہ خواتین ریزرویشن بل کےلئے جاگروتی کی جانب سے شروع کردہ جدوجہد کے نتیجہ میں ملک بھر کی خواتین کو فائدہ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ دہلی میں ان کی قیادت میں دھرنا منظم کیاگیاتھا۔جس میں بڑی تعداد میں جاگروتی کے قائدین اور کارکنوں نے شرکت کی تھی۔احتجاجی پروگرام میں 18سیاسی جماعتوں کو شامل کیاگیا۔جس کے نتیجہ میں پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث ممکن ہوسکی۔صدرتلنگانہ جاگروتی نے کہاکہ جاگروتی کی سیاسی جدوجہد اور دباﺅ کے باعث ہی خواتین ریزرویشن بل کو عملی شکل مل سکی۔تاہم انہوںنے اس بل کے فوائد کو ”پوسٹ ڈیٹڈ چیک “سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ اس کے حقیقی اثرات فوری طور پر سامنے نہیں آئے۔کویتا نے کہاکہ اس بل کو او بی سی خواتین کےلئے کسی سب کوٹہ کے بغیر منظور کیاگیا۔جب کہ اسے حد بندی ”ڈی لیمیٹیشن“کے ساتھ مشروط کردیاگیا۔جس کے باعث حالےہ پارلیمانی اور 12ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں خواتین کو اس کاکوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ کویتا نے مرکز کی اس پالیسی پر بھی اعتراض کیاکہ 2011کی مردم شماری کو بنیاد بناکر ریزرویشن دینے کی بات کی جارہی ہے۔جس سے دوبارہ خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ 2027کی نئی مردم شماری کے بعد ہی ریزرویشن کا نفاذ عمل میں لایاجائے اور اس میں اوبی سی طبقات کی مکمل گنتی کے بعد ان کی خواتین کےلئے مخصوص سب کوٹہ بھی شامل کیاجائے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی جانب سے جلد از جلد بل پر بحث کرانے کی بات کی جارہی ہے۔ مگر اب تک اس کا مسودہ بھی کسی بھی سیاسی جماعت کو فراہم نہیں کیاگیا جوکہ غیر جمہوری طرز عمل ہے۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر ڈرافٹ بل تمام جماعتو ںکے ساتھ شیئر کیاجائے تاکہ اس پر مناسب بحث ہوسکے۔صدرتلنگانہ جاگروتی نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی ہمیشہ کی طرح اس معاملہ میں بھی دھوکہ دہی کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے اور بل کو عجلت میں پیش کرتے ہوئے اعتراضات کی گنجائش ختم کرناچاہتی ہے۔کویتا نے کہاکہ اس مسئلہ پر 2027کی مردم شماری تک انتظار اور جدوجہد ضروری ہے۔ جس کےلئے اوبی سی طبقات کو متحدہ طور پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ اس معاملہ پر وہ پہلے سے ہی ساتھ دینے والی 18سیاسی جماعتوں کے قائدین سے دوبارہ بات کرے گی تاکہ خواتین کے حقوق کو مکمل طور پر حاصل کیاجاسکے۔کویتا نے اس عزم کااظہار کیاکہ خواتین نے اس بل کے ذریعہ جو حقوق حاصل کئے ہیں انہیں ہر صورت یقینی بنایاجائے گا اور جاگروتی اس مقصد کےلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔








