ریاستی بینک کے ایک ریٹائرڈ ملازم خود سائبر فراڈ کا شکار بن گئے۔ کُوک اوون تھانہ علاقے کے نَڈیہہا دکشناین باشندہ دیباشیش سرکار کے ساتھ پیش آئے اس واقعے نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ موبائل پر آئے ایک لنک اور فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد ان کے بینک اکاؤنٹ سے 10 لاکھ روپے اڑالیے گئے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کُوک اوون تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق دیباشیش سرکار نے 2021 میں ایک ریاستی بینک کی شاخ سے ملازمت سے سبکدوشی اختیار کی تھی۔ زندگی بھر کی کمائی کو محفوظ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہوئے وہ ہمیشہ محتاط رہے۔ لیکن 23 اکتوبر 2025 کو ان کے موبائل پر ایک لنک موصول ہوا جس پر اسی بینک کا لوگو لگا ہوا تھا جہاں وہ کام کرتے تھے۔ لنک میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بینک کی جانب سے آن لائن لائف سرٹیفکیٹ فارم پُر کرنے اور رقم محفوظ رکھنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اپنے ہی بینک کا نشان دیکھ کر انہوں نے فارم بھرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران ایک فون کال آئی اور کہا گیا کہ ان کا کام فوراً مکمل کر دیا جائے گا۔ بس پھر چند منٹوں میں ہی دو مرحلوں میں پانچ پانچ لاکھ روپے، یعنی مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے، ان کے کھاتے سے نکال لیے گئے۔ جب انہوں نے بینک اسٹیٹمنٹ دیکھا تو ہوش اڑ گئے۔ خود بینک ملازم ہونے کے باوجود انہیں اس دھوکے کا اندازہ تک نہیں ہوا تھا۔
دیباشیش سرکار نے جن اکاؤنٹس میں رقم منتقل ہوئی تھی، ان کی تفصیلات بھی تھانے میں جمع کرا دی ہیں۔ لیکن ان کا الزام ہے کہ تفتیشی افسر مسلسل ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ دو ماہ گزر جانے کے باوجود اب تک رقم کا کوئی سراغ نہیں ملا، جس کی وجہ سے گھر میں تشویش کا ماحول ہے۔ دیباشیش سرکار کا کہنا ہے:
“میں سائبر فراڈ کا شکار ہو گیا ہوں۔ جن اکاؤنٹس میں پیسہ گیا ہے ان کی تفصیلات میں نے پولیس کو دے دی ہیں۔ پولیس چاہے تو فوری کارروائی ممکن ہے، لیکن دو ماہ گزر گئے، ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔” پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور سائبر کرائم سیل رقم کی بازیابی کی کوشش کر رہا ہے۔ درگا پور کے اس واقعے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ سائبر ٹھگ اب تربیت یافتہ اور باشعور افراد کو بھی آسانی سے نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے ہر شہری کو غیر مانوس لنک، فون کال اور آن لائن فارم سے ہوشیار رہنا چاہیے۔








