درگاپور کے ملان دیگھی علاقے میں واقع ایک نجی اسپتال کی ایک نرس کی پُراسرار موت نے کانکسا علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ متوفیہ کی شناخت مندیرا پال کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بدھ کی رات پیش آیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، متوفیہ گزشتہ ایک سال سے گوپال پور کے ایک نجی بی ایڈ کالج کے سامنے واقع بارہ منزلہ رہائشی عمارت میں دیگر نرسنگ اسٹاف کے ساتھ کرائے پر رہ رہی تھیں۔ اس عمارت میں تقریباً چالیس نرسنگ اسٹاف مقیم تھے۔ بدھ کی شام تقریباً ساڑھے سات بجے نائٹ شفٹ ڈیوٹی کے لیے اسپتال کی بس عمارت کے سامنے پہنچی، مگر مندیرا پال بس میں سوار نہیں ہوئیں۔ ان کی عدم موجودگی پر ساتھیوں نے تلاش شروع کی۔ کچھ دیر بعد ان کی لاش عمارت کی باہری دیوار کے قریب زمین پر پڑی ہوئی ملی۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی کانکسا تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ متوفیہ کا گھر ضلع بانکوڑا کے بشنوپور میں ہے۔ رات ہی کو اہلِ خانہ بھی پہنچ گئے اور پولیس ان سے گفتگو کر رہی ہے۔ اس واقعہ کے بعد کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کیا بارہ منزلہ عمارت میں رہنے والے نرسنگ اسٹاف کی سیکیورٹی کے انتظامات مناسب تھے یا اس میں کوتاہی برتی جا رہی تھی؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کی چھت کا دروازہ اکثر کھلا رہتا تھا اور نگرانی کا خاطر خواہ انتظام نہیں تھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ مندیرا پال چھت تک کیسے پہنچیں اور آیا انہوں نے خود چھلانگ لگائی یا اس کے پسِ پردہ کوئی اور پہلو ہے؟
ساتھی ملازمین نے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ نائٹ ڈیوٹی پر جانے سے پہلے یا گزشتہ چند دنوں میں متوفیہ کے ساتھ کیا پیش آیا، اس بارے میں بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کچھ افراد اسے ابتدائی طور پر خودکشی کا معاملہ قرار دے رہے ہیں، تاہم اصل حقیقت پولیس تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اہلِ خانہ اگر کوئی شکایت درج کراتے ہیں تو اسے بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔ فی الحال پورا علاقہ اس افسوسناک اور پُراسرار واقعہ کے سبب تشویش میں مبتلا ہے۔










