Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*دُرگا پور کے میڈیکل کالج میں دوسرے سال کی طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی، شہر میں سنسنی اور غم و غصہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

درگا پور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے شہر کو سنسنی اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک نجی میڈیکل کالج و اسپتال میں دوسرے ریاست سے تعلق رکھنے والی دوسرے سال کی ایک میڈیکل طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا الزام سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کی شب پیش آیا، جس کے بعد اسپات نگری کہلانے والے درگا پور میں خوف، غم و غصہ اور بےچینی کی فضا پھیل گئی ہے۔ شکایت درج ہوتے ہی درگا پور نیو ٹاؤن شپ تھانے کی پولیس نے فوری طور پر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی متاثرہ طالبہ کے والد اور اہل خانہ اڈیسہ کے جالیسور سے فوراً درگا پور پہنچ گئے۔
سیاسی سطح پر بھی اس واقعے نے ہلچل مچا دی ہے۔ ریاست کی اصلی اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے اس واردات کو کولکاتا کے معروف آر جی کر اسپتال کیس سے جوڑتے ہوئے مغربی بنگال میں بگڑتی ہوئی قانون و نظم کی صورتحال پر سوال اٹھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جمعہ کی رات تقریباً نو بجے متاثرہ طالبہ اپنے ایک مرد ہم جماعت کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے کیمپس سے باہر گئی تھی۔ کچھ دیر بعد وہی ساتھی واپس آیا اور اسے بچا کر کالج لے آیا۔ اسی دوران پانچ نوجوان وہاں پہنچے اور ان دونوں کو روک لیا۔ ان ملزمان نے طالبہ سے رقم کا مطالبہ کیا۔ رقم نہ دینے پر اس کا موبائل فون چھین لیا گیا۔ الزام ہے کہ اس دوران طالبہ کے ساتھ موجود اس کا ساتھی نوجوان وہاں سے فرار ہوگیا۔ اسی موقعے پر ان پانچوں نے طالبہ کو زبردستی سڑک سے گھسیٹ کر نزدیک کے جنگل میں لے جاکر مبینہ طور پر ایک نوجوان کے ذریعے اس کی عصمت دری کی۔ کچھ دیر بعد وہی ہم جماعت واپس آیا اور طالبہ کو وہاں سے نکال کر کالج لے آیا۔ متاثرہ کو فوراً اسپتال میں داخل کیا گیا، اور اسپتال انتظامیہ نے پولیس کو پوری اطلاع فراہم کی۔ طالبہ کے ساتھی نے ہی اہل خانہ کو فون پر واقعے کی خبر دی، جس کے بعد وہ رات میں ہی درگا پور پہنچ گئے۔ متاثرہ کے گھر والوں نے اس ساتھی طالب علم کے کردار پر شدید شبہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب واردات ہوئی تو اس نے بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور موقع سے بھاگ گیا تھا۔ پولیس نے ساتھی طالب علم سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ تاہم، پولیس اور میڈیکل کالج انتظامیہ کے ذمہ داران کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی شکایت درج کر لی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔ سنیچر کو متاثرہ طالبہ کے والد نے غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“میں نے اپنی بیٹی کو ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے درگا پور بھیجا تھا۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہولناک واقعہ پیش آئے گا۔ موجودہ حالات میں میں اپنی بیٹی کو یہاں مزید پڑھنے نہیں دوں گا۔”
سنیچر کی صبح خبر ملی ہے کہ قومی خواتین کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور اس کی ٹیم متاثرہ سے ملاقات کے لیے درگا پور پہنچ رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اگست 2024 میں کولکاتا کے آر جی کر میڈیکل کالج و اسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور اس کی موت کے سانحے نے پورے بنگال میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا تھا۔ درگا پور کا یہ تازہ واقعہ ایک بار پھر اسی دردناک یاد کو تازہ کر رہا ہے۔

Latest News

Related News