سوموار کی شام تقریباً ساڑھے چار بجے ریاست کے گورنر سی وی آنند بوس نجی میڈیکل کالج اسپتال پہنچے۔ وہ تقریباً ایک گھنٹہ تک اسپتال میں رہے اور اس دوران انہوں نے مبینہ زیادتی کی شکار طالبہ اور اس کے اہلِ خانہ سے بات چیت کی۔ گورنر نے اسپتال انتظامیہ کے ذمہ داران کے ساتھ بھی مفصل گفتگو کی۔ اسپتال میں ہی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سی وی آنند بوس نے کہا کہ یہ انتہائی دردناک واقعہ ہے۔ “میں نے متاثرہ لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ سے بات کی ہے۔ جو گفتگو ہوئی ہے وہ رازدارانہ ہے۔ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے ہم ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ متاثرہ شدید خوف اور صدمے میں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ اس ریاست میں پہلی بار نہیں ہوا۔ “حالیہ دنوں میں اس طرح کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جس بنگال نے نشاۃ ثانیہ کی رہنمائی کی تھی، اسی بنگال میں ایسے واقعات انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہیں۔”












