جموڑیہ تھانہ کے نندی شمشان کے قریب نندی اور دامودر پور کے درمیان سوموار دوپہر تقریباً 12 بجے ایک دل دہلا دینے والا ریلوے حادثہ پیش آیا۔ بارابنی سے انڈال کی سمت جا رہی مال گاڑی کے سامنے اچانک ایک ٹریکٹر آ گیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ مال گاڑی ٹریکٹر کو سیکڑوں میٹر تک گھسیٹتی ہوئی لے گئی۔ حادثے میں ٹریکٹر پر سوار تین افراد میں سے ایک کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ ہلاک شدہ شخص کی شناخت 35 سالہ بھٹکا سورین، ساکن سیسر ڈانگا، جموڑیہ کے طور پر ہوئی ہے۔ زخمیوں میں راجو مرمو اور سنیل ٹوڈو شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر آسنسول ضلع اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں دونوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ یہ دلخراش واقعہ جنگل کے بیچ واقع ایک سنسان مقام پر پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ خبر ملتے ہی جموڑیہ تھانہ پولیس جائے حادثہ پر پہنچی اور ریلوے پولیس (GRP) کو بھی مطلع کیا۔ انڈال جی آر پی اور ریلوے کا خصوصی ریسکیو دستہ (اے آر ٹی ) فوری طور پر موقع پر پہنچا۔ بھٹکا سورین کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے انڈال جی آر پی ساتھ لے گئی۔مقامی ذرائع کے مطابق ٹریکٹر اینٹ بھٹّے سے اینٹیں لاد کر نندی سے دامودر پور کی طرف جا رہا تھا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ نندی سے دامودر پور جانے کے لیے اس غیر محفوظ ریلوے کراسنگ کا استعمال اکثر ٹریکٹر ڈرائیور اور دیگر گاڑی سوار شارٹ کٹ کے طور پر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں حادثات کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔
تیزی سے ریلوے لائن پار کرنے کی کوشش ایک شخص کی زندگی لے گئی۔ اس دل خراش حادثے میں بھٹکا سورین نامی شخص ٹریکٹر سمیت مالگاڑی کی زد میں آکر ہلاک ہو گیا۔ اس مقام پر نہ تو کوئی لیول کراسنگ ہے اور نہ ہی کوئی متبادل راستہ، جس کی وجہ سے لوگ روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر پٹری عبور کرنے پر مجبور ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بھٹکا سورین نے ممکنہ طور پر جلدبازی میں ٹریکٹر سمیت لائن عبور کرنے کی کوشش کی، لیکن اسی دوران تیز رفتاری سے آرہی مال گاڑی نے ٹکر مار دی۔ ٹریکٹر کا اگلا حصہ بری طرح تباہ ہو کر انجن کے ساتھ پھنس گیا، جس کے سبب مال گاڑی کئی گھنٹوں تک ٹریک پر بند رہی۔ ریلوے کا اے آر ٹی موقع پر پہنچی اور پہلے گیس کٹر سے ٹریکٹر کے پھنسے حصوں کو کاٹا، پھر جے سی بی کی مدد سے ملبہ ہٹا کر مال گاڑی کو ٹریک سے ہٹانے کا کام شروع کیا گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔ مرنے والا بھٹکا سورین مزدوری کرتا تھا اور اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا۔ مقامی لوگوں نے ریلوے انتظامیہ سے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس جگہ فوری طور پر ایک متبادل پل یا باضابطہ لیول کراسنگ تعمیر کی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے جانوں کو بچایا جا سکے۔ ریلوے حکام نے اس معاملے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ فی الحال جی آر پی اور جموڑیہ پولیس کیس کی تفتیش کر رہی ہے۔










