Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سائنس کا تاج یا اپنی پہچان؟ دسویں کے بعد فیلڈ کا انتخاب*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سائنس کا تاج یا اپنی پہچان؟  دسویں کے بعد فیلڈ کا انتخاب*

از قلم:اسماء جبین فلک

ہر سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ہندوستان کے لاکھوں گھروں میں ایک طوفان اٹھتا ہے۔نہ بارش کا، نہ آندھی کا، بلکہ سوالوں کا۔ دسویں کا نتیجہ آتے ہی گھر کے بڑے، رشتہ دار، محلے کے لوگ سب ایک ہی سوال لے کر آ دھمکتے ہیں: “آگے کیا لوگے؟ سائنس یا…؟”
اور اس “یا” کے بعد جو لفظ آتا ہے، وہ اکثر ادھورا رہ جاتا ہے ۔جیسے آرٹس اور کامرس کا نام لینا کوئی شرم کی بات ہو۔ جیسے ان راستوں کا ذکر کرنا ہی زندگی کی ناکامی کا اعلان ہو۔
ہمارے معاشرے میں سائنس کو صرف ایک تعلیمی شعبہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ کامیابی کی واحد علامت بنا دیا گیا ہے۔ دسویں میں اچھے نمبر آئے نہیں کہ بچے کے سر پر سائنس کا تاج رکھ دیا جاتا ہے، چاہے اس کا دل ادب میں لگتا ہو، تاریخ اسے اپنی طرف کھینچتی ہو یا اسے کاروبار اور معاشیات میں دلچسپی ہو۔ عجیب بات یہ ہے کہ اکثر لوگ سائنس کی تعریف تو کرتے ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہر انسان کی ذہنی ساخت، دلچسپی اور صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔
یہ سوچ دراصل اُس دور کی پیداوار ہے جب ہندوستان میں انجینئرنگ اور طب کے شعبے محدود تھے اور ان میں جانے والوں کو فوراً معاشی استحکام مل جاتا تھا۔ اُس زمانے میں سائنس واقعی ایک محفوظ راستہ تھی، لیکن وقت بدل چکا ہے۔ آج دنیا صرف ڈاکٹر اور انجینئر پر نہیں چلتی؛ آج میڈیا، قانون، معیشت، نفسیات، ڈیزائن، فلم، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سول سروسز اور کاروبار جیسے شعبے بھی اتنے ہی اہم اور باوقار ہیں۔ اس کے باوجود ہم اب تک پرانے زمانے کی سوچ کو نئے دور پر مسلط کیے ہوئے ہیں۔
اکثر ایک دلیل دی جاتی ہے کہ “سائنس لے لو، بعد میں کسی بھی فیلڈ میں جا سکتے ہو۔” بظاہر یہ بات بہت عقلمندانہ لگتی ہے، مگر حقیقت میں ہر طالبِ علم کے لیے درست نہیں ہوتی۔ اگر کسی بچے کی دلچسپی تاریخ، سیاسیات یا زبانوں میں ہو، لیکن وہ صرف سماجی دباؤ کی وجہ سے دو سال فزکس اور کیمسٹری میں گزار دے، تو یہ اس کی صلاحیتوں کا ضیاع بن جاتا ہے۔ وہی دو سال اگر وہ اپنی پسند کے مضمون میں گہرائی حاصل کرنے پر لگائے، تو شاید وہ اپنی منزل کے کہیں زیادہ قریب پہنچ جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ آرٹس محض ایک “آسان” فیلڈ نہیں، بلکہ انسانی شعور کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ آرٹس انسان کو معاشرے، تاریخ، سیاست، زبان، فلسفے اور نفسیات سے جوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سول سروسز جیسے امتحانات میں ہیومینیٹیز کے طلبہ اکثر نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں، کیونکہ وہاں صرف معلومات نہیں بلکہ تجزیہ، اظہار اور انسانی معاملات کی سمجھ دیکھی جاتی ہے۔ ایک اچھا وکیل، صحافی، ادیب، سفارت کار، پروفیسر یا ماہرِ نفسیات بننے کے لیے وہ بصیرت درکار ہوتی ہے جو آرٹس پیدا کرتی ہے۔
اسی طرح کامرس کو بھی اکثر صرف حساب کتاب تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ آج کی پوری دنیا معاشیات اور تجارت کے اصولوں پر کھڑی ہے۔ بینک، کمپنیاں، اسٹاک مارکیٹ، ٹیکس سسٹم، بزنس مینجمنٹ یہ سب کامرس کے بغیر نامکمل ہیں۔ ایک کامیاب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، بزنس لیڈر، فنانس ایکسپرٹ یا انٹرپرینیور نہ صرف عزت کماتا ہے بلکہ معاشرے کی معیشت کو بھی حرکت دیتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج کے دور میں کاروباری ذہن رکھنے والا شخص ملازمت ڈھونڈنے کے بجائے دوسروں کو ملازمت دینے والا بن سکتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سائنس بہتر ہے یا آرٹس و کامرس۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کا ایک ہی سانچہ بنا لیا ہے اور ہر بچے کو زبردستی اسی میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں بچے اپنی دلچسپی کے خلاف سائنس لے لیتے ہیں، پھر دو سال ذہنی بوجھ، خوف اور مایوسی میں گزارنے کے بعد خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ ناکامی ان کی نہیں، بلکہ اُس سوچ کی ہوتی ہے جس نے ان کی فطری صلاحیت کو سمجھنے کے بجائے صرف سماجی رتبے کو اہمیت دی۔
تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا بھی ہے۔ ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی کو مشینیں سمجھنے میں مزہ آتا ہے، کسی کو انسانوں کی نفسیات پڑھنے میں، اور کسی کو کاروبار کے اتار چڑھاؤ میں دلچسپی ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی دلچسپی کے مطابق راستہ چنتا ہے تو وہ نہ صرف بہتر کارکردگی دکھاتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی مطمئن رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے ماہرین ہمیشہ رجحان اور دلچسپی کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ صرف نمبروں کو نہ دیکھیں، بلکہ اپنے بچوں کی فطرت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بچے کن موضوعات پر زیادہ بات کرتے ہیں؟ کس کام میں وقت کا احساس کھو دیتے ہیں؟ کس چیز کو سیکھنے میں انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے؟ اکثر مستقبل کا راستہ انہی چھوٹی باتوں میں چھپا ہوتا ہے۔
سائنس، آرٹس اور کامرس ۔ یہ تینوں راستے اہم ہیں، کیونکہ دنیا کو تینوں طرح کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ سائنس ہمیں ٹیکنالوجی اور فطرت کو سمجھنا سکھاتی ہے، آرٹس انسان اور معاشرے کی پہچان دیتی ہے، جبکہ کامرس دنیا کی اقتصادی نبض سمجھنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی راستہ چھوٹا یا بڑا نہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کون سا راستہ آپ کی شخصیت کے مطابق ہے۔
دسویں کے بعد لیا گیا فیصلہ زندگی کا اہم موڑ ضرور ہے، لیکن یہ زندگی کی آخری منزل نہیں۔ انسان راستے بدل بھی سکتا ہے، خود کو دوبارہ تلاش بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ابتدا ہی اپنے دل کی آواز سے ہو، تو سفر زیادہ مضبوط، زیادہ پُرسکون اور زیادہ کامیاب بن جاتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ بچے دوسروں کی توقعات سے زیادہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں۔ وہ مضمون چنیں جو ان کے ذہن کو زندہ رکھے، جسے پڑھتے ہوئے تھکن نہ محسوس ہو، جس کے بارے میں سوچتے ہوئے دل میں شوق پیدا ہو۔ کیونکہ کامیابی صرف اُس کام میں نہیں ہوتی جسے دنیا بڑا سمجھتی ہے، بلکہ اُس کام میں ہوتی ہے جسے انسان پورے دل سے اختیار کرتا ہے۔
سائنس لینا یقیناً اچھی بات ہے، لیکن صرف معاشرے کی خوشی کے لیے سائنس لینا شاید سب سے بڑی غلطی ہے۔ اسی طرح آرٹس یا کامرس لینا کمزوری نہیں، بلکہ اپنے آپ کو سمجھنے اور اپنی اصل پہچان کو قبول کرنے کی علامت ہے۔
زندگی میں منزل سے زیادہ اہم وہ راستہ ہوتا ہے جس پر انسان اطمینان کے ساتھ چل سکے۔ اور وہ راستہ ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو انسان اپنے دل کی آواز سن کر چنتا ہے۔