*سنگارینی میں اندرون ایک ماہ ڈیپینڈنٹ ملازمتیں فراہم کی جائیں*
*بصورت دیگر بھوک ہڑتال منظم کرنے کا حکومت کو انتباہ*
*بھوپال پلی میں پارٹی پرچم کشائی تقریب سے کے کویتا کا خطاب*

سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا نے بھوپال پلی میں پارٹی پرچم کشائی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے حکومت کو سخت انتباہ دیا اور کہا کہ اگر اندرون ایک ماہ ڈپینڈنٹ ملازمتیں فراہم نہیں کی گئیں تو وہ یہیں آکر بھوک ہڑتال منظم کریں گی۔کویتا نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں سے وہ سنگارینی مزدوروں سے مسلسل ملاقاتیں کر رہی ہیں اور ان کے مسائل سن رہی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کو پینے کے لئے صاف پانی تک فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپینڈنٹ ملازمتوں کے مسئلہ پر ایک بزرگ نے اپنی فریاد سنائی تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مزدوروں کو اسی طرح پریشان کیا گیا تو ان کی آہیں حکومت کو ضرور لگیں گی۔کویتا نے کہا کہ کوئلہ کانوں کے اطراف رہنے والے عوام کو امید ہوتی ہے کہ کم از کم انہیں سنگارینی میں ملازمت ملے گی جبکہ ریٹائر ہونے والے ملازمین بھی اپنے بچوں یا رشتہ داروں کے لئے ڈپینڈنٹ نوکری کی توقع رکھتے ہیں مگر حکومت میڈیکل بورڈ قائم نہ کرتے ہوئے انہیں مایوسی کا شکار بنا رہی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ بھوپال پلی میں پارٹی کا پہلا پرچم لہرایا گیا ہے اور ہم آنے والے دنوں میں یہاں اسمبلی سیٹ بھی جیتیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ہمیشہ مزدوروں کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔کویتا نے کہا کہ وہ خواتین کی حوصلہ افزائی کے باعث پارٹی قائم کی ہیں ۔ انہوں نےعوام سے حمایت کی اپیل کی۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چھ گارنٹیوں کے وعدے کئے گئے تھے، مگر مفت بس کے علاوہ کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مفت بس اسکیم سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور بسوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ بزرگ شہریوں اور معذور افراد کو بھی مفت سفر کی سہولت دی جانی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا ک کے سی آر کٹ جیسی اسکیمیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات کے وقت راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی کے ذریعہ وعدے کروائے گئے، مگر اب عوام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔کویتا نے کہا کہ بی آر ایس بھی اپنی اصل شناخت چھوڑ چکی ہے اور کانگریس اور بی جے پی کی طرح بدل گئی ہے، جس کے باعث عوام کے مسائل اٹھانے والا کوئی نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو آج بھی گھروں کی ضرورت ہے اور حقیقی مستحقین کو مکانات فراہم نہیں کئے گئے۔ ان کی پارٹی غریب خواتین کو گھر دلانے کے لئے کام کرے گی۔انہوں نے بھوپال پلی کی پسماندگی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضلع مرکز بننے کے باوجود یہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، پل خستہ حال ہیں اور آؤٹر رنگ روڈ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی مفادات کے باعث سڑکوں کے نقشے تبدیل کئے جا رہے ہیں۔کویتا نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے لئے زمین دینے والے متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے سابق اور موجودہ عوامی نمائندوں پر زمینوں پر قبضے، تالابوں اور جنگلات کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کئے۔انہوں نے کہا کہ اوپن کاسٹ کان کنی کے لئے 140 ایکڑ زمین دینے والے متاثرین کو اب تک معاوضہ نہیں دیا گیا، جس پر حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ عوام اور مزدوروں کے مسائل فوری حل کئے جائیں بصورت دیگر ان کی پارٹی سخت احتجاجی راستہ اختیار کرے گی۔










