Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*غربت نے میرے بچّوں کو تہذیب سکھا دی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*غربت نے میرے بچّوں کو تہذیب سکھا دی*

تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی

غربت کو ہم عموماً محرومی، بے بسی اور ضرورت کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ انسان کی بہت سی خواہشوں کے سامنے دیوار بن جاتی ہے اور بعض اوقات معمولی ضرورت بھی بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔ لیکن زندگی کے تجربات ہمیشہ ایک ہی رخ نہیں رکھتے۔ بعض اوقات جو حالات ہمیں کمزور دکھائی دیتے ہیں، وہی اندر سے مضبوط بھی بنا رہے ہوتے ہیں۔ میرے بچوں نے بھی زندگی کی تنگی دیکھی ہے، مگر اسی تنگی کے درمیان انہوں نے کچھ ایسی باتیں سیکھ لی ہیں جو شاید آسائشوں میں پلنے والے بچے آسانی سے نہیں سیکھ پاتے۔ انہیں چیزوں کی قیمت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی قدر کرنا بھی آ گیا ہے۔
ایک دن میں بچوں کے ساتھ بازار گیا۔ ایک دکان کے سامنے خوب صورت کھلونے رکھے تھے۔ بچے کچھ دیر انہیں دیکھتے رہے۔ ان کی آنکھوں میں خواہش صاف نظر آ رہی تھی، لیکن کسی نے مجھ سے یہ نہیں کہا کہ مجھے یہ کھلونا خرید کر دیں۔ میں جانتا تھا کہ وہ مانگ سکتے ہیں، مگر انہوں نے میرے حالات کو شاید اپنی خواہش سے پہلے پڑھ لیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ خود ہی وہاں سے آگے بڑھ گئے۔ راستے میں میرے چھوٹے بیٹے نے صرف اتنا کہا، ’’ابو، ابھی رہنے دیجیے، پھر کبھی لے لیں گے۔‘‘ اس ایک جملے نے مجھے اندر تک چھو لیا، کیونکہ اس میں ضد کے بجائے سمجھ داری اور شکایت کے بجائے میرے حالات کا خیال موجود تھا۔
گھر میں کبھی کھانے کی کوئی چیز کم پڑ جاتی ہے تو بچوں کا رویہ مجھے حیران کرتا ہے۔ جو چیز انہیں پسند ہوتی ہے، اس کے لیے وہ ایک دوسرے سے چھین جھپٹ نہیں کرتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ سب کے حصے میں کچھ نہ کچھ ضرور آئے۔ کبھی ایک بچہ اپنی پسند کی چیز دوسرے کو دے دیتا ہے اور کبھی کوئی اپنی خواہش چھپا لیتا ہے۔ میں انہیں دیکھ کر سوچتا ہوں کہ بچوں میں بانٹنے کی عادت صرف نصیحت سے پیدا نہیں ہوتی، اسے زندگی بھی سکھاتی ہے۔ جب انسان خود کمی دیکھتا ہے تو اسے دوسروں کے حصے کا احساس ہونے لگتا ہے، اور یہی احساس میرے بچوں کے مزاج کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
روٹی کی قدر بھی میرے بچوں نے کسی کتاب سے نہیں سیکھی۔ انہوں نے گھر میں ایسے دن دیکھے ہیں جب دسترخوان پر بہت سی چیزیں موجود نہیں تھیں، لیکن جو کچھ تھا، اسے ضائع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اب اگر پلیٹ میں کھانا بچ جائے تو وہ خود اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جس گھر میں ضرورت کا احساس موجود ہو، وہاں معمولی چیز بھی نعمت محسوس ہوتی ہے۔ میرے بچوں کے لیے روٹی صرف کھانے کی چیز نہیں رہی، بلکہ اس کے پیچھے محنت، ضرورت اور شکرگزاری کا احساس بھی جڑ گیا ہے۔
کسی دوسرے بچے کے نئے کپڑے یا مہنگی چیز دیکھ کر بھی میرے بچوں کے دل میں اس کے لیے برا خیال پیدا نہیں ہوتا۔ انہیں معلوم ہے کہ ہر گھر کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کبھی ان کے دل میں بھی کوئی خواہش پیدا ہوتی ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ فلاں کے پاس یہ چیز کیوں ہے اور ہمارے پاس کیوں نہیں۔ میں ان کی یہ سمجھ داری دیکھ کر خوش بھی ہوتا ہوں اور دل میں ایک کسک بھی محسوس کرتا ہوں۔ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ انہوں نے حسد کو اپنے دل میں جگہ نہیں دی، اور کسک اس بات کی کہ حالات نے انہیں اتنی کم عمر میں خواہش اور ضرورت کا فرق سمجھا دیا۔
میرے بچوں کے لیے کسی انسان کی عزت اس کے لباس یا حیثیت سے وابستہ نہیں ہے۔ محلے کا کوئی مزدور سامنے آ جائے تو وہ اس سے اسی طرح بات کرتے ہیں جیسے کسی بڑے آدمی سے۔ کسی بزرگ کو دیکھتے ہیں تو سلام کرتے ہیں، راستہ ملے تو احترام سے پیش آتے ہیں اور کسی کمزور یا ضرورت مند کا مذاق اڑانا انہیں اچھا نہیں لگتا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خود زندگی میں کمی دیکھی ہے، اس لیے انہیں معلوم ہے کہ کسی کی حالت دیکھ کر اس کی عزت کم نہیں ہو جاتی۔ میرے نزدیک یہی احساس انسان کو تہذیب یافتہ بناتا ہے۔
ایک مرتبہ گھر میں بچوں کے درمیان معمولی سی بات پر بحث ہو گئی۔ میں نے غصے میں انہیں ڈانٹ دیا تو میرے ایک بچے نے بہت سادگی سے کہا، ’’ابو! ہمارے پاس کم ہے تو کیا ہوا، ہمیں کسی سے بدتمیزی تو نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ میں کچھ دیر خاموش رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ جس بات کی تعلیم میں اسے دینے کی کوشش کر رہا تھا، وہ زندگی نے اسے پہلے ہی سمجھا دی تھی۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ بچے ہماری باتوں سے کم اور ہمارے حالات اور رویوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
میں یہ ہرگز نہیں سمجھتا کہ غربت کوئی اچھی چیز ہے۔ غربت انسان سے بہت کچھ چھین لیتی ہے۔ ایک باپ کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے بچے کی جائز خواہش پوری کرنا چاہے اور جیب اجازت نہ دے۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ میرے بچوں کو بہتر تعلیم ملے، وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوں اور انہیں وہ پریشانیاں نہ دیکھنی پڑیں جو ہم نے دیکھی ہیں۔ میری دعا صرف اتنی ہے کہ آسائش ملنے کے بعد بھی ان کے اندر آج والی انسانیت باقی رہے۔
پیسہ زندگی کے لیے ضروری ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پیسہ اچھی تعلیم، بہتر علاج اور بہت سی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن پیسہ انسان کو صرف سہولت دے سکتا ہے، اچھا کردار نہیں دے سکتا۔ کردار گھر کے ماحول، تربیت اور تجربات سے بنتا ہے۔ اسی لیے میں اپنے بچوں کی کامیابی کو صرف اس بات سے نہیں دیکھنا چاہتا کہ وہ مستقبل میں کتنا کماتے ہیں، بلکہ اس بات سے بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان کے پاس دوسروں کے لیے کتنا احترام باقی رہتا ہے۔ میرے نزدیک کامیابی وہی ہے جس میں انسان آگے بڑھتے ہوئے انسانیت کو پیچھے نہ چھوڑے۔
مجھے کبھی کبھی یہ خوف بھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر کل میرے بچوں کے پاس بہت کچھ آ گیا تو کہیں وہ آج کی کمی کو بھول نہ جائیں۔ کہیں بڑا گھر انہیں چھوٹے گھر میں رہنے والے انسان سے دور نہ کر دے، کہیں اچھی گاڑی انہیں پیدل چلنے والے کی تکلیف سے بے خبر نہ کر دے اور کہیں دولت انہیں یہ نہ بھلا دے کہ ضرورت کیا ہوتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ ترقی کریں، لیکن اپنی ترقی کو دوسروں کی تحقیر کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اگر ان کے پاس وسائل بڑھ جائیں اور دل میں عاجزی بھی باقی رہے تو یہی میرے لیے ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
بچوں کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی۔ وہ گھر میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اگر والدین کسی غریب کے ساتھ احترام سے پیش آئیں تو بچہ احترام کرنا سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں کھانے کی قدر ہو تو بچہ اسے ضائع نہیں کرتا۔ اگر والدین کسی کی مجبوری کا مذاق نہ اڑائیں تو بچے کے دل میں بھی دوسروں کے لیے رحم پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ میرے بچوں نے غربت سے جتنی تربیت حاصل کی ہے، اتنی ہی گھر کے ماحول سے بھی حاصل کی ہے۔ دونوں چیزوں نے مل کر ان کے مزاج میں ایک ایسی سادگی پیدا کی ہے جسے میں بہت قیمتی سمجھتا ہوں۔
آج جب میں اپنے بچوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی بہت سی محرومیوں کا افسوس ہوتا ہے، لیکن ان کے اندر پیدا ہونے والی سمجھ داری مجھے تسلی بھی دیتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ زندگی میں کامیاب ہوں، مگر کامیابی کے ساتھ اپنے ماضی کو بھی یاد رکھیں۔ وہ دولت کمائیں، مگر دولت کو اپنی پہچان نہ بنائیں۔ وہ بڑے عہدوں پر پہنچیں، مگر کسی چھوٹے آدمی کے سلام کا جواب دینے میں اپنی توہین محسوس نہ کریں۔ اگر وہ بلندی پر پہنچ کر بھی زمین سے اپنا تعلق قائم رکھ سکے تو میں سمجھوں گا کہ میری ساری محنت رائیگاں نہیں گئی۔
زندگی میرے بچوں کو آگے کہاں لے جائے گی، یہ میں نہیں جانتا۔ شاید آنے والے دن ان کے لیے آسان ہوں، شاید انہیں بھی اپنی زندگی میں کئی مشکل راستوں سے گزرنا پڑے۔ لیکن ایک بات کی مجھے امید ہے کہ آج کی محرومیاں انہیں کل مغرور نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ضرورت مند ہونا کوئی جرم نہیں اور کسی کی کمزوری اس کی بے قدری کی وجہ نہیں بن سکتی۔ اگر یہ احساس ان کے اندر ہمیشہ زندہ رہا تو زندگی انہیں جو کچھ بھی دے، وہ اسے بہتر طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔
آج بھی بازار میں جب کوئی بچہ کسی دکان کے سامنے رک کر اپنی پسند کی چیز دیکھتا ہے اور پھر خاموشی سے میرے ساتھ چل پڑتا ہے تو میرے دل میں ایک ساتھ کئی احساس پیدا ہوتے ہیں۔ ایک باپ ہونے کے ناتے دل چاہتا ہے کہ اس کی ہر خواہش پوری کر دوں، مگر حالات ہمیشہ ساتھ نہیں دیتے۔ پھر اسی بچے کی خاموشی مجھے بتاتی ہے کہ اس نے انتظار کرنا سیکھ لیا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں محرومی ایک سبق بن جاتی ہے اور انسان کو دوسروں کے حالات سمجھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے ہمیشہ کمی میں زندگی گزاریں۔ میری خواہش ہے کہ ان کے گھر میں خوشحالی ہو، ان کے چہروں پر اطمینان ہو اور انہیں اپنی جائز ضرورت کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ لیکن خوشحالی کے ساتھ میں ان کے دل میں وہی نرمی بھی دیکھنا چاہتا ہوں جو آج ہے۔ اگر کل ان کے پاس بہت کچھ ہو اور پھر بھی وہ کسی غریب کی پریشانی سمجھ سکیں، کسی بزرگ کا احترام کر سکیں اور کسی چھوٹے انسان سے محبت سے بات کر سکیں تو میرے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوگی۔
غربت نے میرے بچوں سے بہت کچھ چھینا ہے۔ ان کی کئی خواہشیں وقت سے پہلے خاموش ہوئی ہیں اور کئی چیزیں انہوں نے دوسروں کے پاس دیکھ کر صرف اس لیے چھوڑ دی ہیں کہ ہمارے حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔ لیکن اسی زندگی نے انہیں انتظار، قناعت، احترام اور دوسروں کے درد کو سمجھنے کا سلیقہ بھی دیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ غربت کی زندگی دوبارہ جئیں، مگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ زندگی انہیں کبھی اتنا بے نیاز نہ کرے کہ وہ غریب کی بے بسی بھول جائیں۔
اب جب میں اپنے بچوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل تربیت بڑے بڑے لیکچروں سے نہیں، زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات سے ہوتی ہے۔ ایک ادھورا کھلونا، آدھی روٹی، انتظار کا ایک دن، کسی بزرگ کا سلام اور کسی ضرورت مند کے لیے دل میں پیدا ہونے والا احساس، یہ سب مل کر انسان کے اندر ایک کردار بناتے ہیں۔ میرے بچوں نے بھی انہی چھوٹے تجربات سے زندگی کو سمجھنا شروع کیا ہے۔ اگر کل وہ کامیاب ہو کر بھی اس سمجھ کو اپنے ساتھ لے گئے تو میں اپنی تمام محرومیوں کو ایک نئے معنی میں دیکھ سکوں گا۔
غربت نے میرے بچوں کو شاید وہ سہولتیں نہیں دیں جن کی ایک باپ اپنے بچوں کے لیے خواہش کرتا ہے، لیکن اس نے انہیں ایک ایسی چیز ضرور دی ہے جس کی قیمت کسی بازار میں نہیں ملتی۔ انہوں نے سیکھا ہے کہ کم ہونا شرم کی بات نہیں، مگر کمزور کو حقیر سمجھنا ضرور شرم کی بات ہے۔ انہوں نے جانا ہے کہ دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ اس کا برتاؤ اسے بڑا بناتا ہے۔ اور اگر کل زندگی انہیں بہت کچھ دے کر بھی ان کے دل میں آج کی یہی نرمی باقی رکھتی ہے، تو میں سمجھوں گا کہ میری غربت نے میرے بچوں سے کچھ نہیں چھینا؛ اس نے انہیں انسان بننے کا ایک ایسا سبق دیا ہے جسے میں زندگی بھر ان کی سب سے بڑی دولت سمجھوں گا۔مضمون نگار،آل انڈیا ماٸناریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکرٹری ہیں۔