سالان پور بلاک کے جیماری علاقے میں ایک میڈیکل دکان دار کی شدید غفلت اور من مانی کے باعث ایک حاملہ خاتون کا اسقاطِ حمل ہو جانے کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ الزام ہے کہ میڈیکل اسٹور کے مالک نے ڈاکٹر کے نسخے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی سے ہائی پاور دوا دے دی، جس کے استعمال سے ایک جان ضائع ہو گئی۔ جیماری شریش بیڑیا کی رہنے والی چاندنی مہتو کی طبیعت خراب ہونے پر اہل خانہ انہیں مقامی معالج ڈاکٹر چودھری کے پاس لے گئے تھے۔ ڈاکٹر نے حالت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کم طاقت اور محفوظ ادویات تجویز کی تھیں۔ بعد ازاں جب اہل خانہ جیماری ریلوے گیٹ کے قریب واقع ایک میڈیکل اسٹور سے دوا لینے پہنچے تو الزام ہے کہ دکان دار ونئے پال نے ڈاکٹر کے لکھے ہوئے نسخے میں تبدیلی کرتے ہوئے اسی سالٹ کی زیادہ طاقت والی دوا دے دی۔
اہل خانہ کے مطابق دوا کی پہلی خوراک لینے کے فوراً بعد چاندنی مہتو کی حالت بگڑنے لگی۔ انہیں شدید درد اور زیادہ خون بہنے لگا۔ گھبراہٹ کے عالم میں جب وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو دوا دیکھ کر ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔ ڈاکٹر نے صاف طور پر بتایا کہ یہ دوا حاملہ خاتون کے لیے نہایت خطرناک اور اوور ڈوز ہے۔ حالت مزید بگڑنے پر مریضہ کو پیٹھا کیاری اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ خاتون کا اسقاطِ حمل ہو چکا ہے۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگوں میں زبردست غصہ دیکھنے کو ملا۔ بڑی تعداد میں دیہاتیوں نے مذکورہ میڈیکل اسٹور کا گھیراؤ کیا اور فوری طور پر دکان بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ یہ دکان دار طویل عرصے سے خود کو ڈاکٹر سمجھ کر غلط دوائیں دیتا آ رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر سالان پور تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور مشتعل بھیڑ کو قابو میں کیا۔ تاہم ملزم دکان دار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ڈاکٹر سے فون پر بات کرنے کے بعد دوا تبدیل کی تھی، لیکن متاثرہ خاندان اور مقامی لوگوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس نے تحریری شکایت درج کر کے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ گاؤں والوں نے ڈرگ انسپکٹر سے ادویات کی جانچ اور قصوروار دکان دار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے دردناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔





