*فاسٹ فوڈ کلچر کا بڑھتا رجحان،سماج کو کہاں لے جارہا ہے؟*
سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
گزشتہ مہینے اتر پردیش کے ضلع امروہہ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو انتہائی افسوسناک ہے،اس واقعے میں محض ایک طالبہ کی موت ہی نہیں ہوئی بلکہ یہ ہمارے سماج کے اس المیے کی علامت ہے جو خاموشی سے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے،انٹرنیٹ جیسے مسابقتی امتحان کی تیاری کرنے والی اور مستقبل کی ڈاکٹر تصور کی جانے والی 19 سالہ طالبہ علمہ قریشی کی موت نے ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے کہ غیرصحت بخش خوراک،آلودہ غذائی اجزاء اور صحت کے تئیں لاپرواہی کس حد تک جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔یہ واقعہ ہمیں اس پرمجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے بدلتے ہوئے طرز زندگی اور خوراکی عادت پر سنجیدگی سے غور کریں،اطلاعات کے مطابق علمہ قریشی برگر،نوڈولس اور دیگر فاسٹ فوڈ کی عادی تھیں،ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فاسٹ فوڈ میں استعمال ہونے والی پتا گوبھی کے ذریعے کیڑا جسم میں داخل ہوا جو آنتوں کے راستے دماغ تک پہنچا اور وہاں متعدد گانٹھیں بنادی،وقت گزرنے کے ساتھ ان گانٹھوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور بالآخر اس نے ایک ہونہار طالبہ کی جان لے لی۔یہ حقیقت نہایت تشویش ناک ہے کہ ایک ایسی بیماری جو بروقت احتیاط اور آگہی سے روکی جا سکتی تھی،غفلت و لاپرواہی کے سبب ایک نوجوان زندگی کے خاتمے کا سبب بن گئی،یہ سانحہ اس بڑھتے ہوئے فاسٹ فوڈ کلچر کی سنگینی کو بھی اجاگر کرتا ہے جو خاص طور پر طلبہ اور نوجوانوں میں تیزی کے ساتھ فروغ پارہا ہے،تعلیمی دباؤ،وقت کی کمی اور سہولت پسندی نے گھریلو اور متوازن غذا کی جگہ فاسٹ فوڈ کو دے دی ہے،ایسے خانے نہ صرف غذائیت سے محروم ہوتے ہیں بلکہ اکثر غیر معیاری سبزیوں،آلودہ پانی اور ناقص صفائی کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں،جس سے مختلف قسم کے جراثیم اور کیڑے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں،افسوسناک عمل یہ ہے کہ خوراک کی صفائی اور حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے،سبزیوں کو اچھی طرح دھونا، ابالنا یا پکانے سے پہلے مناسب صفائی کرنا اب ایک غیرضروری مشقت سمجھ لی گئی ہے،دیہی اور نیم شہری علاقوں میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے جہاں آلودہ پانی،غیر محفوظ زرعی طریقے اور غیر معیاری ذخیرہ اندوزی خوراک کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے،یہ واقعہ ہمارے صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے، علمہ کے والد نے مہنگے خانگی علاج کے بعد سرکاری ہسپتال کا رخ کیا لیکن وہاں بھی علاج کے باوجود اس طالبہ کی حالت سنبھل نہ سکی،ایسے میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا ہرشہری کو ملک میں بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر ہیں؟ کیا ابتدائی سطح پر ایسی بیماریوں کی تشخیص اور روک تھام کے لیے مناسب نظام موجود ہے؟ اگر ابتدائی مرحلے میں ہی مکمل جانچ اور مؤثر علاج ممکن ہوتا تو شاید یہ سانحہ ٹل سکتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات سماج کے لئے نئے نہیں ہیں،ماضی میں بھی پتا گوبھی اور دیگر سبزیوں میں موجود کیڑوں کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں مگر بدقسمتی سے ان تجربات سے کوئی اجتماعی سبق حاصل نہیں کیا گیا نہ تو خوراک کے معیار پر حکومت کی جانب سے سخت نگرانی ہے،نہ ہی عوامی سطح پر موثر آگہی کا کوئی تصور ہے اور نہ ہی سماجی تنظیمیں اس تعلق سے کوئی مہم چلاتی ہیں،ہندوستان کے چھوٹے، بڑے تقریبا ہر شہروں میں اب یہ فیشن عام ہوتا جارہا ہے کہ گھر میں کھانے، پکانے کے بجائے پوری پوری فیملی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ کا رخ کرنے لگی ہے،اچھے خاصے اور دین دار گھرانے کے لوگ بھی اب اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں،بچے،بوڑھے،نوجوان اور خواتین سب کے لئے گھر سے باہر جاکر ہوٹلوں میں کھانا،ہوٹل بازی کرنا یا آن لائن کے ذریعے باہر کا کھا نا منگانا اور آرڈر کرنا اب فیشن بن چکا ہے،جسے سماج اور معاشرے کےلئے یقینی طور پر اچھا نہیں کہا جاسکتا۔ہوٹلوں میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ سماج کو ہوٹل کا شوقین بنایا جارہا ہے،اگر سماج ہوٹل کی جانب بڑھ رہا ہے یا بڑی تعداد میں ہوٹلوں کا رخ کررہا ہے تو یہ افسوسناک ہے۔ایک بہتر اور تعمیری سماج کبھی ہوٹلوں کا شوقین نہیں ہوسکتا اور بلاوجہ ہوٹلوں کا رخ نہیں کرسکتا۔
برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریسٹورنٹ کا کھانا انسانی صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں ملنے والا کھانا فاسٹ فوڈ سے بھی زیادہ مضر ہے،یہ انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف لیورپول کے ماہرینِ صحت نے مختلف ہوٹلز سے ملنے والے کھانوں کا مشاہدہ کیا۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ریسٹورنٹ سے ملنے والے کھانے میں اوسطاً 1033 کیلوریز موجود ہوتی ہیں جبکہ انسانی جسم کو بیک وقت 600 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق فاسٹ فوڈ میں شامل اشیاء میں 751 کیلوریز ہوتی ہیں جو ویسے ہی انسانی صحت کے لیے مضر ہیں اور ان کے استعمال سے مختلف امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔تحقیق کے دوران ماہرین نے ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد کھانوں کا مشاہدہ کیا جن میں 1000 سے زائد کیلوریز پائی گئیں جبکہ ایک ہی کھانا ایسا تھا جو انسان کے لیے قابل استعمال تھا۔پروفیسر ایرک راہن سن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی تحقیق میں میٹھے اور سافٹ ڈرنک کی کیلوریز کو تو شامل ہی نہیں کیا،یہ روز مرہ میں استعمال ہونے والے کھانے ہیں جن کے نتائج حیران کُن اور تشیویشناک ہیں‘۔ڈاکٹر راہن سن کا کہنا تھا کہ ’حکومتوں کو قانون سازی کرنی ہوگی کہ وہ ہوٹل مالکان کو تنبیہ کریں وہ کیلوریز کی مقدار کے حوالے سے گاہک کو لازم آگاہ کریں تاکہ ہر ایک اپنی صحت کا خود بھی خیال رکھے۔
اوپر کی اس رپورٹ کو غور سے پڑھئے اور سوچئے کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ہمارا سماج اور معاشرہ کہاں جارہا ہے؟ کیا ہم خود ہی اپنی اور اپنی فیملی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں؟ ہم اس سے بچنے کے لئے تیار ہیں؟ اسی طرح ایک رپورٹ کے مطابق اخبارات کی ردی کو تیل میں تلی ہوئی اشیائے خورد نوش کو جو پیک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،اس پر موجود سیاہی صحت انسانی کے لیے انتہائی مضر ہے اور بتدریج انسان کو کمزور کرنے کے علاوہ نظام مدافعت کو نقصان پہنچانے کا سبب بننے لگتا ہے،اس سلسلے میں متعدد ماہر اطباء کی تحقیق منظر عام پر آچکی ہیں اور وہ اپنے مریضوں کو شائع شدہ اخبارات میں پیاک کی ہوئی اشیاء کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ دینے لگے ہیں،تلی ہوئی اشیاء جیسے مرچی بھجیا وغیرہ جو کہ عام طور پر اخبارات یا کتابوں کی ردی میں ہی باندھ کردی جاتی ہیں ان تلی ہوئی اشیاء کے ذریعے نکلنے والا تیل اور کاغذ پر موجود سیاہی کے سبب،سیاہی کا اثر کھانے کی شیئی تک سرایت کرجاتا ہے جس کے سبب سیاہی کھانے کے اشیاء کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے،واضح رہے کہ سیاہی کی تیاری میں انتہائی خطرناک کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس کیمیکل کے استعمال کے وقت اگر اس سے نکلنے والی بدبو کوئی راست سونگھ لے تو ایسی صورت میں اسے سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے،اس طرح کے کیمیکل سے تیار کی جانے والی سیاہی سے شائع کردہ اخبارات اور کتابوں کی ردی کے استعمال سے انسانی جسم میں موجود قوت مدافعت میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔جس کی وجہ سے انسان میں بے چینی اور متلی کے علاوہ دیگر کئی شکایات محسوس ہوتی ہیں،دی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھاریٹی آف انڈیا کے عہدے داروں کے مطابق اخبارات یا کتابوں کی ردی میں اشیائے خرد و نوش کو باندھ کر فروخت کیاجانا،انتہائی غیر صحت مندانہ عمل ہے۔اور اس شائع شدہ کاغذ میں پیاک کی گئی اشیاء کا استعمال انتہائی مضر ہے اس سلسلے میں عوام کے درمیان شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،اخبارات یا شائع شدہ کاغذ میں باندھ کراستعمال کی جانے والی اشیائے تغزیہ معدہ کی کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں،ابتدا میں ہاضمہ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو السر اور دیگر سنگین امراض کا سبب بن سکتے ہیں،ماہر اطبا کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ پیاکنگ میں باندھ کر دی جانے والی اشیائے خرد و نوش کے استعمال سے احتیاط کیا جانا چاہیے اور جب کبھی باہر یہ اشیاء خریدی جائیں تو اس بات سے احتیاط کریں کہ دکاندار شائع شدہ کاغذ میں ان اشیاء کو پیاک نہ کریں۔اس وقت ہندوستان سمیت خلیجی ممالک کے حالات بھی دگرگوں ہورہے ہیں،ہم میں سے بہت سے لوگ انہی ممالک سے آنے والی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔اسی کمائی کی بنیاد پر ہمارے گھروں میں عیش و آرام کی زندگی گزاری جارہی ہے۔ایسے حالات میں ہمیں مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔غیر ضروری طور پر ہوٹلوں میں کھانے کے بجائے کوشش کریں کہ گھر کا سادہ اور پاکیزہ کھانا استعمال کریں۔اس سے نہ صرف اخراجات میں کمی ہوگی بلکہ اس میں برکت بھی ہوگی۔لاکھوں لوگوں کو عرب ممالک سے ہندوستان واپس بھیجا جاچکا ہے۔خدا کے واسطے سادگی کو اپنائیں اور اپنے گھروں میں خود اپنے ہاتھ سے پکاکر کھانے کو ترجیح دیں،کسی مجبوری کے وقت اگر ہوٹل کا رخ کرلیا گیا تو یہ الگ بات ہے،لیکن گھنٹوں ہوٹل میں جاکر لائن لگانا اور پھر رات دیر گئے وہاں سے کھانا کھاکر واپس لوٹنا،انتہائی ناپسندید ہے،اس پر روک لگانے کی ضرورت ہے،اگر ہم نے ان چیزوں سے احتیاط نہ کی تو آنے والے دنوں میں کئی سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔لہٰذا ہوش کے ناخن لیں اور اپنی زندگی میں سادگی،میانہ روی اور اعتدال اختیار کریں،ہوٹلوں میں کھانا،پیسے کی بربادی،صحت کی بربادی اور دیگر کئی نقصان کا سبب ہے جس سے سماج کو بچانے اور شعور بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے،باہر ہوٹلوں میں جاکر کھانا یا آن لائن آرڈر کرکے ہوٹلوں سے پارسل منگانا یہ سب نقصاندہ ہے،اس سے اجتناب کرنا چاہئے،ملک کے جو حالات اس وقت چل رہے ہیں ایسے میں ہمیں بہت سوچ سمجھ کر زندگی گزارنے کی ضرورت ہے،ایک ایک روپے کی حفاظت اور اسے بے تحاشا و فضول چیزوں میں خرچ کرنے کے بجائے محتاط انداز میں خرچ کیا جائے اور سیونگ کا مزاج بناناچاہئے۔علماء و خطباء حضرات کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس تعلق سے عوام میں شعور بیدار کریں اور ایک مثالی و پاکیزہ سماج تشکیل کریں۔
*(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com








