Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*فوسبیکی کی نئی کمیٹی کا قیام، سچن رائے صدر منتخب، رانی گنج میں ہوا تنصیب کا پروگرام*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

جنوبی بنگال کی سب سے بڑی تجارتی تنظیم “فوسبیکی” (FOSBEKI) کی 2025-2027 مدت کے لیے نئی کمیٹی کا قیام عمل میں آیا ہے۔ آج رانی گنج کے بانسڑا علاقے میں ادارے کے دفتر میں اس نئی کمیٹی کی تنصیب کی تقریب منعقد ہوئی۔

آنے والے دو سالوں کے لیے ممتاز سماجی کارکن اور صنعتکار سچن رائے کو تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ نئی کمیٹی میں رانی گنج کے سندیپ جھنجھنوالا کو جنرل سیکریٹری بنایا گیا ہے جبکہ اُکھڑا چیمبر کے منوج سراف کو ورکنگ پریزیڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح پون گٹگٹیا، مدھو سودن بینرجی، ارون بھاٹیہ، چندن بوس، مہندر سنگھ سلو جا، سوپن کمار چودھری، مہندر شنگھائی، مدھو سودن داریپا اور روہت کھیتان کو سینئر نائب صدور کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ راجیش کمار داروکا کو خزانچی جبکہ پردیپ باجوریا کو تنظیمی سیکریٹری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

راجندر پرساد کھیتان، اشوک کمار سراف اور اجے کمار کھیتان کو سرپرست کے طور پر کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سبھاش چندر اگروال کو سرپرست اور چیئرمین کی دوہری ذمہ داری دی گئی ہے۔ وشنو باجوریا کو چیف ایڈوائزر نامزد کیا گیا ہے۔ دیگر مشیروں میں ایس این داروکا، برج موہن کنڈو، دیپک رودر، مہادیو دت، نریش اگروال، اوم پرکاش باجوریا، ومل پٹوارئ اور پون موانڈیا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آسن سول-دُرگاپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کوی دتہ کو بھی مشاورتی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

تنصیب کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر سچن رائے نے کہا کہ فوسبیکی ہمیشہ تاجروں کے مفاد کے لیے کام کرتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی سے متعلق کچھ مسائل ہیں جنہیں یہ تنظیم حکومت کے سامنے رکھے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی بنگال میں صنعتی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ “لینڈ سیلنگ” (زمین کی حد بندی) کے قانون کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں میں ایسی کوئی حد نہیں، لیکن بنگال میں 25 ایکڑ سے زیادہ زمین خریدنے کے لیے پیچیدہ ضوابط ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار حوصلہ شکنی کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ لینڈ سیلنگ کا قانون ختم کیا جائے تاکہ ریاست میں صنعت کاری کو فروغ مل سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کو صنعتی میدان میں آگے لانے پر زور دینے کی بات بھی کہی۔