Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ بنگال کے دن بی جے پی کو جھٹکا، روپک پانجا ترنمول کانگریس میں شامل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

وزیر اعظم نریندر مودی کے بنگال دورے کے دن ہی مغربی بردوان ضلع میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سنیچر کے روز بی جے پی کے آسنسول تنظیمی ضلع کے انچارج صدر روپک پانجا نے پارٹی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔
درگاپور میں ضلع ترنمول کانگریس کے دفتر میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ضلع صدر نریندر ناتھ چکرورتی نے انہیں پارٹی کا پرچم تھما کر باضابطہ طور پر ترنمول کانگریس میں شامل کیا۔ اس سیاسی تبدیلی کے بعد ضلع کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کے بعد روپک پانجا نے بی جے پی کے خلاف کئی سنگین الزامات عائد کیے۔ خاص طور پر انہوں نے بی جے پی لیڈر جتیندر تیواری کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔
روپک پانجا کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے بی جے پی سے وابستہ رہے، مگر وہاں انہیں توقع کے مطابق کام کرنے کا ماحول نہیں ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کے اندر کئی بے ضابطگیاں اور غیر جمہوری رویے پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے کچھ لیڈروں کا کوئلہ اور ریت کی چوری جیسے معاملات سے بھی تعلق ہے۔
روپک پانجا نے مزید کہا کہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں مغربی بنگال جس طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اس نے انہیں متاثر کیا ہے۔ ریاست میں عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے انہوں نے ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
ادھر ترنمول کانگریس کے ضلع صدر نریندر ناتھ چکرورتی نے روپک پانجا کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ بڑی تعداد میں ترنمول کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں ہی ریاست کی حقیقی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپک پانجا جیسے تجربہ کار سیاسی کارکن کی شمولیت سے تنظیم مزید مضبوط ہوگی۔
مجموعی طور پر اسمبلی انتخابات سے قبل مغربی بردوان میں بی جے پی میں اس طرح کی ٹوٹ پھوٹ سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ تاہم اس معاملے پر بی جے پی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔