Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*وشوگرو کی پکار: رِیل سے روزگار*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*وشوگرو کی پکار: رِیل سے روزگار*

بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین

ہماری جوانی میں ‘کام’ ایک ٹھوس، وزنی اور نظر آنے والی شے کا نام تھا۔ لوہار کی دھونکنی سے نکلتی چنگاریاں، بڑھئی کے رندے سے اٹھتے لچھے، کسان کے ماتھے پر پسینے کے قطرے، اور بابو کے قلم سے ٹپکتی سیاہی; یہ سب ‘کام’ تھے۔ اب تو سنی سنائی باتوں پر اعتبار کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک دوست کے ہاں جانا ہوا تو ان کے صاحبزادے، جو ماشاءاللہ عنفوان شباب میں ہیں، اپنے کمرے میں بند پائے گئے۔ دوست نے فخریہ بتایا، “لڑکا کام کر رہا ہے۔” ہم نے کان لگا کر سنا تو اندر سے کسی بھوجپوری گانے کی آواز آرہی تھی اور ساتھ میں دھم دھم کی صدا، جیسے کوئی بھاری بوری پٹخ رہا ہو۔ ہم نے گھبرا کر پوچھا، “خیریت تو ہے؟ یہ کیسا کام ہے؟” کہنے لگے، “یہی تو نیا کام ہے۔ ڈیجیٹل ہے۔ ایکسپورٹ کوالٹی کا ہے۔ لڑکا ‘ریل’ بنا رہا ہے۔”
یہ ‘ریل’ کا لفظ سن کر ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ کچھ دن پہلے ہی انتخابی جلسے میں ایک جلیل القدر رہنما نے بآواز بلند اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت کی بدولت بہار کا نوجوان ‘ریل’ بنا کر لاکھوں کما رہا ہے۔ ہمیں تب بھی یہی مغالطہ ہوا تھا کہ شاید حکومت نے نوجوانوں کو قلی بھرتی کر لیا ہے جو ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کا سامان اٹھا کر روزی کماتے ہیں۔ ہم نے سوچا، چلو، قلی بھی محنت کش ہے، اس میں کیا عار؟ مگر یہ دھم دھم کی آواز اور ساتھ میں”بے بی بیئر پی کے ناچے لگلی چھمک چھمک چھم” کا سنگیت… اس کا قلی کے کام سے کیا تعلق؟
ہماری حیرت بھانپ کر دوست ہمیں کھینچ کر صاحبزادے کے کمرے میں لے گئے۔ اندر کا منظر کسی جدید آرٹ کی نمائش گاہ جیسا تھا۔ ایک کونے میں رنگ برنگی بتیوں والا ایک گول سا حلقہ (جسے بعد میں ‘رنگ لائٹ’ بتایا گیا)، سامنے ایک تپائی پر موبائل فون یوں نصب تھا جیسے کوئی مقدس صحیفہ رکھا ہو، اور بیچ میں میاں صاحبزادے، جن کا آن لائن نام ‘جمی جینیئس’ ہے، پھٹی ہوئی جینز پہنے اچھل کود میں مصروف تھے۔ ہمیں دیکھ کر رکے اور ہانپتے ہوئے بولے، “انکل! ایک منٹ، بس ‘ٹرانزیشن’ ریکارڈ کر رہا تھا۔” ہم نے دیکھا کہ وہ ایک لباس میں اچھلتے ہیں، کیمرہ بند ہوتا ہے، پھر دوسرا لباس پہن کر اسی جگہ سے دوبارہ اچھلتے ہیں۔ بعد میں ان دونوں ٹکڑوں کو جوڑ کر یہ تاثر دیا جائے گا کہ انہوں نے پلک جھپکتے میں کپڑے بدل لیے۔ ہم نے دل میں سوچا، ہمارے بچپن میں یہ کام تو سپرمین کیا کرتا تھا، اور وہ بھی بغیر کسی شور شرابے کے۔
ہم نے دوست سے سرگوشی میں پوچھا، “اس مشقت شاقہ کا معاوضہ کیا ملتا ہے؟” کہنے لگے، “ابھی تو نہیں، مگر جب ‘وائرل’ ہو جائے گا تو برانڈز آئیں گے، پھر ڈالروں میں کمائی ہوگی۔” یہ ‘وائرل’ کا لفظ بھی ہمارے لیے نیا تھا۔ ہمارے زمانے میں تو صرف بخار وائرل ہوتا تھا جس میں مریض پھنکنے لگتا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ آدمی بھی وائرل ہوتا ہے اور اس میں بھی وہ بخار کی طرح ہی الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہے۔
اس نئے روزگار کی معیشت کو سمجھنے کے لیے ہم نے ‘جمی جینیئس’ سے کچھ سوالات کیے۔
“بیٹا، اس میں لاگت کیا آتی ہے؟”
“کچھ نہیں انکل! بس ایک اچھا سا فون، رنگ لائٹ، مائیک، انٹرنیٹ کا پیکج، نئے نئے کپڑے، جوتے، اور دن کے آٹھ دس گھنٹے۔”
ہم نے حساب لگایا تو یہ ‘کچھ نہیں’ بھی ہمارے پورے دفتر کی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ تھا۔ ہم نے دوسرا سوال داغا، “اور آمدن؟”
کہنے لگے، “انکل، آپ پرانی باتیں کرتے ہیں۔ یہ ‘جاب’ نہیں، ‘پیشن’ ہے۔ اس میں آمدن نہیں، ‘فالووز’ دیکھتے ہیں۔”
ہمیں وہ زمانہ یاد آ گیا جب لوگ پیروں اور فقیروں کے فالوور (مرید) ہوا کرتے تھے، اس امید پر کہ کچھ روحانی فیض حاصل ہوگا۔ اب کے مرید بھی ڈیجیٹل ہیں اور پیر بھی۔ اور فیض کا یہ عالم ہے کہ پیر خود مریدوں کے ‘لائیکس’ اور ‘کمنٹس’ کی بھیک مانگتا نظر آتا ہے۔
رہنماوں کا یہ دعوی کہ انہوں نے ڈیٹا چائے سے سستا کر دیا ہے، بذات خود ایک ایسا طنز ہے جس پر اچھا خاصا مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ ہم نے ایک دن اپنے محلے کے لڑکے کو ایک کپ چائے پلا کر کہا، “بیٹا، ذرا مہینے بھر کا ڈیٹا ڈلوا دو۔” وہ ہماری طرف یوں دیکھنے لگا جیسے ہم نے اس سے گردہ مانگ لیا ہو۔ کہنے لگا، “چچا، اتنے میں تو صرف تین دن کا ایک جی بی والا پیکج بھی نہیں آئے گا۔” ہم نے سوچا، یا تو ہمارے رہنما چائے بہت مہنگی پیتے ہیں، یا انہوں نے کبھی خود ریچارج نہیں کروایا۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ملکہ میری اینٹو اینٹ نے کہا تھا کہ روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لو۔ ہمارے ہاں فرمایا جا رہا ہے کہ نوکری نہیں ہے تو ‘ریل’ بنا لو۔
اس سارے قضیے کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ خاموش المیہ ہے جو ہر اس گھر میں رونما ہو رہا ہے جہاں کوئی ‘جمی جینیئس’ پل رہا ہے۔ وہ والدین جنہوں نے اپنی ہڈیاں گلا کر بچوں کو اس لیے پڑھایا تھا کہ وہ خاندان کا نام روشن کرے گا، اب اسے اپنے ہی گھر کے ایک کونے میں موبائل کے سامنے ناچتے، منہ بناتے اور نقالی کرتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ مہمانوں کے سامنے تو کہہ دیتے ہیں کہ “لڑکا آئی ٹی فیلڈ میں ہے، سوشل میڈیا مارکیٹنگ کرتا ہے”، مگر جب تنہا ہوتے ہیں تو شاید ایک دوسرے سے پوچھتے ہوں گے کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی؟ یہ وہ نوحہ ہے جسے ہنسی کے قہقہوں میں چھپا دیا گیا ہے۔
ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ کام وہ ہے جس میں برکت ہو۔ جس سے دو وقت کی روٹی بھی ملے اور عزت بھی۔ ہمیں تو اس نئے ‘ریل والے روزگار’ میں نہ روٹی نظر آتی ہے، نہ عزت۔ ہاں، ایک ڈیجیٹل کشکول ضرور نظر آتا ہے جسے لے کر آج کا نوجوان پوری دنیا کے سامنے کھڑا ہے اور ‘لائیک، کمنٹ، شیئر’ کی صدا لگا رہا ہے۔ یہ بھیک کی وہ جدید ترین شکل ہے جسے ‘کنٹینٹ کریئیشن’ کا خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔
اب جب بھی کوئی ہم سے پوچھتا ہے کہ بھارت ترقی کر رہا ہے، تو ہم کہتے ہیں، جی ہاں، ضرور کر رہا ہے۔ پہلے ہمارے پاس صرف بے روزگار ہوتے تھے، اب ہمارے پاس ‘انفلووینسرز’، ‘یوٹیوبرز’ اور ‘ریل میکرز’ بھی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے والے بے روزگار کو معلوم تھا کہ وہ بے روزگار ہے، اور یہ نئے والے اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ ‘کنٹینٹ کریٹر’ ہیں۔ اور خوش فہمی، صاحب، وہ واحد سرمایہ ہے جس پر نہ ٹیکس لگتا ہے، نہ قرض ملتا ہے، اور نہ کسی کا پیٹ بھرتا ہے۔