Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*وینزویلا کے صدر کے مبینہ اغوا کے خلاف آسنسول میں سی پی ایم کا احتجاج*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

امریکی فوج کی جانب سے لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں کیے گئے فوجی آپریشن اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے مبینہ اغوا کے خلاف آج آسنسول کے رابندر بھون کے سامنے سی پی ایم کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ اس احتجاج میں سی پی ایم آسنسول کے قائدین اور بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان موجود تھے۔
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے سی پی ایم رہنما پارتھو مکھرجی نے کہا کہ 3 جنوری کو امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا میں جو کارروائی کی گئی، اس کی مذمت کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا ایک خودمختار ملک ہے اور وہاں کے صدر اور صدر کی اہلیہ کو فوجی آپریشن کے ذریعے گرفتار یا اغوا کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، مگر افسوس کہ عالمی برادری اس معاملے پر خاموش ہے۔ پارتھو مکھرجی نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے اور امریکہ مخالف سرگرمیوں کا الزام لگا کر یہ کارروائی کروائی۔ ان کے مطابق اس پوری کارروائی کے پیچھے اصل مقصد وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ مسلسل ہندوستان کے خلاف بیانات دے رہا ہے اور ٹیرف وار بھی شروع کر چکا ہے۔ امریکہ ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ہندوستان کی جانب سے اس کے خلاف ویسا سخت ردِعمل سامنے نہیں آ رہا، جیسا لاطینی امریکی ممالک کے سربراہانِ مملکت کی طرف سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔
سی پی ایم رہنماؤں نے اس احتجاج کے ذریعے امریکہ کی مبینہ جارحانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خودمختار ممالک کے خلاف اس طرح کی کارروائیوں پر خاموش تماشائی نہ بنے۔