Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*پینے کے پانی کا شدید بحران، ’’پانی نہیں تو ووٹ نہیں‘‘ کا نعرہ گونجا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

آسنسول میں ایک بار پھر پینے کے پانی کے بحران نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ منگل کے روز آسنسول میونسپل کارپوریشن وارڈ نمبر 58 کے جگت ڈیہہ گاؤں میں پانی کی قلت کے خلاف مقامی لوگوں کا غصہ سڑکوں پر پھوٹ پڑا اور علاقے میں ’’پانی نہیں تو ووٹ نہیں‘‘ کا نعرہ گونج اٹھا۔ مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ طویل عرصے سے ان کے گھروں میں قانونی طور پر پینے کے پانی کی کوئی مستقل سہولت موجود نہیں۔ بار بار شکایتوں کے باوجود مسئلے کا کوئی پائیدار حل نہیں نکالا گیا۔ مجبوری کے عالم میں لوگوں نے قریبی پائپ لائنوں سے عارضی اور غیر قانونی طریقے سے پانی حاصل کرنا شروع کیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق سوموار کو اچانک آسنسول میونسپل کارپوریشن اور پی ڈبلیو ڈی کے چند اہلکار گاؤں میں پہنچے اور ان عارضی پانی کنکشنز کو کاٹ دیا، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ اس کارروائی کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ مشتعل دیہاتی سڑک پر اتر آئے اور زوردار احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے دو ٹوک اعلان کیا کہ جب تک ہر گھر میں قانونی طور پر پینے کے پانی کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک اس وارڈ کے پولنگ بوتھ میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا جائے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پانی ان کا بنیادی حق ہے اور اگر انتظامیہ اس حق کو فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ووٹنگ کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے واضح طور پر خبردار کیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں وہ انتخابات کے بائیکاٹ پر مجبور ہوں گے۔
قابل ذکر ہے کہ اس وارڈ کے کونسل سنجے نونیا ہیں اور متعلقہ پولنگ بوتھ نمبر 119 ہے۔ واقعے کے بعد سے علاقے میں ماحول کشیدہ ہے، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔