*چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ویلما برادری کے خلاف تبصرے کی مذمت*
*تمام طبقات کا احترام لازمی، رویہ میں تبدیلی لانے پر زور*
*اسپیکر اسمبلی کی جانب سے رکن اسمبلی جگتیال کو کلین چٹ دینانامناسب : کے کویتا*
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے حالیہ ریمارکس پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے تمام آداب اور حدود کو پار کرتے ہوئے گفتگو کی اور ویلما برادری کو نشانہ بناتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز تبصرے کئے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے عہدہ سنبھالتے وقت آئین ہند پر حلف لیا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر تمام طبقات کا احترام کریں گے اور عوام سے کیا گیا یہ وعدہ آئینی ذمہ داری ہے، مگر اس کے باوجود ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانا ہرگز درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے وزیر اعلیٰ ایک مکمل برادری کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، جو نہ صرف نامناسب بلکہ خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ کو لازمی طور پر اپنے اس رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی۔
انہوں نے جگتیال کے ایم ایل اے سنجے کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ سنجے نے بی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی اور یہ شمولیت خود وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں ہوئی۔ وہ گاندھی بھون میں سرکاری طور پر ہونے والی میٹنگس میں شرکت کر رہے ہیں اور جگتیال میں میونسپل امیدواروں کے لئے کانگریس کی جانب سے بی فارم بھی جاری کئے، اس کے باوجود ایسے شخص کو اسپیکر کی جانب سے کلین چٹ دینا بالکل غلط ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر سنجے واقعی اخلاقیات اور دیانت داری کے حامل ہیں تو انہیں فوری طور پر ایم ایل اے کے عہدہ سے استعفیٰ دینا چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئینی حقوق کو ایک ایک کر کے پامال کرنا آنے والی نسلوں کے لئے ہرگز مناسب نہیں۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر فوری طور پر اپنے فیصلہ پر نظرثانی کریں اور اسے واپس لیں۔






