*ڈاکٹر ارونِما سکسینہ کو ’’تُلسی رتنوالی ایوارڈ 2025‘‘ سے نوازا گیا*
لکھنؤ (ابوشحمہ انصاری) مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں منعقد ہونے والی پُروقار ’’تُلسی رتنوالی ایوارڈ 2025‘‘ تقریب میں اتر پردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ کی معروف ادیبہ اور سبکدوش پرنسپل ڈاکٹر ارونِما سکسینہ کو اس سال کا ممتاز ’’تُلسی رتنوالی ایوارڈ‘‘ پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز گوسوامی تلسیداس کی علمی و روحانی خدمات کے اعتراف میں ہر برس اُن ممتاز ادیبوں کو دیا جاتا ہے جو ادب اور معاشرت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ارونِما سکسینہ کو یہ ایوارڈ ان کی آٹھ معروف اور وقیع تصنیفات یادوں کے گیت، آشا (امید)، مجبور کنارے، پوجن کے پُشپ (نذرانے)، تَشنگی، ارونِما کی غزلیں، محبتیں، ستارے کی ادبی اہمیت اور ہمہ گیر قدر کے اعتراف میں دیا گیا۔ ان کی تخلیقات میں زندگی کے کڑے حقائق، انسانی جذبات، سماجی احساسات اور رشتوں کی لطافت کو نہایت سادگی، گہرائی اور اثر انگیزی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جو انہیں ادبی منظرنامے میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
ملک بھر سے آئے ممتاز ادیبوں، نقادوں، دانش وروں اور ادب نواز افراد کی موجودگی میں جب ڈاکٹر ارونِما سکسینہ نے یہ اعزاز قبول کیا تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اتر پردیش کی اس باصلاحیت بیٹی نے بھوپال کی سرزمین پر ادب کی دنیا میں اَودھ کا وقار سربلند کر کے ریاست کا نام روشن کیا۔
اعزاز حاصل کرنے کے بعد اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے پیچھے اُن کے مخلص دوست اور نامور ادیب انجینئر آدرنیہ وِنود نین جبَلپُری کی رہنمائی اور مسلسل حوصلہ افزائی کا بنیادی کردار ہے۔ ان کی سرپرستی کے بغیر یہ سفر ادھورا رہ جاتا۔
ڈاکٹر ارونِما سکسینہ ایک حساس تخلیق کار، کہنہ مشق شاعرہ اور گہری بصیرت رکھنے والی ادیبہ ہیں۔ ان کی تحریریں نہ صرف قاری کے دل میں اُتر جاتی ہیں، بلکہ وہ ہندوستانی عورت کی شخصیت، احساسات اور جدوجہد کو بھی نئی سمت اور تازہ توانائی بخشتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسان دوستی، نرم دلی، اقدار پسندی اور سماجی آسودگی کا پیغام نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
تُلسی رتنوالی ایوارڈ کمیٹی نے ڈاکٹر ارونِما سکسینہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رچناؤں میں گوسوامی تلسیداس کی تعلیمات رحمت، انسانیت اور بھلائی کی روح آج کے دور میں بھی پوری تابندگی کے ساتھ جلوہ گر ہے۔










