Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ڈیجیٹل قید خانہ کیا ہے؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ڈیجیٹل قید خانہ کیا ہے؟*

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

ہم اکیسویں صدی کے ایک ایسے دَور میں جی رہے ہیں،جہاں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی معلومات اور چمکتی اسکرینوں نے ہماری دنیا کو ایک عالمی گاؤں بنا دیا ہے۔ لیکن اسی گاؤں کی گلیوں میں ایک نادیدہ قید خانہ بھی تعمیر ہوا ہے، جس کی دیواریں اینٹ اور پتھر کی نہیں، بلکہ لائکس، کمنٹس اور فالوورز کی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل قید و بند ہے: ایک ایسی نفسیاتی اسیری جہاں انسان اپنی روح کا سکون، اپنی ذات کی سچائی اور اپنے لمحات کی اصلیت کو ایک ایسی ڈیجیٹل شناخت پر قربان کر دیتا ہے جو اکثر ایک خوبصورت فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اس قید کا سب سے بڑا مظہر سوشل میڈیا پر ہماری زندگی کی وہ چوبیس گھنٹے کی پرفارمنس ہے، جہاں ہر شخص ایک اداکار ہے اور پوری دنیا اس کا تماشائی۔ اس شور اور دکھاوے کے درمیان، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خاموشی کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کی یہ خاموشی کمزوری یا لاتعلقی نہیں، بلکہ اس ڈیجیٹل غلامی کے خلاف ایک گہری، جذباتی بغاوت اور حقیقی آزادی کا پرشکوہ اعلان ہے۔
اس قید خانے کی بنیاد بیسویں صدی کے عظیم سماجیات دان اِروِنگ گافمَین  کے اس نظریے پر رکھی گئی ہے کہ ہماری سماجی زندگی ایک تھیٹر ہے۔ ہم سب اداکار ہیں جو مختلف کردار نبھاتے ہیں تاکہ دوسروں پر ایک مخصوص تاثر چھوڑ سکیں۔ سوشل میڈیا نے گافمَین کے اس تھیٹر کو ایک ایسا عالمی اسٹیج بنا دیا ہے جس کا پردہ کبھی نہیں گرتا۔ یہاں ہر تصویر ایک منصوبہ بند سین ہے، ہر اسٹیٹس ایک سوچا سمجھا ڈائیلاگ۔ جب آپ کسی پہاڑی پر غروبِ آفتاب کا منظر دیکھتے ہیں تو اس لمحے کی خاموشی اور ہیبت میں ڈوب جانے کے بجائے آپ کا ذہن ایک “پرفیکٹ” سیلفی لینے میں الجھ جاتا ہے۔ آپ اس لمحے کو جیتے نہیں، اسے قید کر لیتے ہیں، تاکہ اسے دوسروں کے سامنے پیش کر سکیں۔ آپ اپنی خوشی محسوس نہیں کرتے، بلکہ اسے ثابت کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آپ اپنی زندگی کے مالک نہیں رہتے، بلکہ اپنی آن لائن امیج کے غلام بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ نیویارک کے انسان (Humans of New York) جیسے پروجیکٹس دکھاتے ہیں کہ تصاویر کہانیاں سنا کر ہمدردی جگا سکتی ہیں، وہیں اکثر وہ ہمیں اپنی ہی کہانی کا محض ایک کردار بنا کر چھوڑ دیتی ہیں۔
اس نہ ختم ہونے والی پرفارمنس کو ایندھن فراہم کرتی ہے “سوشل کمپیریزن تھیوری”۔ ہم انسان فطرتاً اپنا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا نے اس موازنے کو ایک زہریلی وبا میں بدل دیا ہے۔ یہاں ہم اپنی عام، غیر فِلٹر شدہ زندگی کا موازنہ دوسروں کی چمکتی دمکتی، احتیاط سے تراشی ہوئی زندگیوں سے کرتے ہیں؛ان کی پرتعیش چھٹیاں، ان کی پیشہ ورانہ کامیابیاں، ان کے “پرفیکٹ” رشتے۔ یہ موازنہ ہمارے اندر حسد، بے چینی اور احساسِ کمتری کا ایک ایسا طوفان اٹھاتا ہے جو ہماری ذہنی صحت کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہیں سے “فیئر آف مِسنگ آؤٹ” (FoMO) کا جنم ہوتا ہے، یعنی یہ خوف کہ ہم اس اجتماعی جشن سے باہر رہ گئے ہیں جس میں باقی سب شریک ہیں۔ یہ خوف ہمیں ایک ڈیجیٹل چوہے کی طرح اسکرین کے پہیے پر بھاگتے رہنے پر مجبور کرتا ہے، اس امید میں کہ شاید اگلا لائیک، اگلا کمنٹ ہمیں وہ سکون دے دے جو ہم اپنی حقیقی زندگی میں کھو چکے ہیں۔
اس قید کی دیواروں کے پیچھے ایک ٹھنڈا، بے رحم معاشی نظام کام کر رہا ہے جسے ہارورڈ کی پروفیسر شوشانہ زبوف “نِگرانی کا سرمایہ دارانہ نظام” (Surveillance Capitalism) کہتی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مفت نہیں؛ ہم ان کی قیمت اپنی روح کے ٹکڑے بیچ کر ادا کرتے ہیں۔ ہمارا ہر کلک، ہر سرچ، ہماری ہر نجی گفتگو کو ریکارڈ کیا جاتا ہے، اس کا تجزیہ ہوتا ہے، اور پھر اس ڈیٹا کو کمپنیوں کو بیچا جاتا ہے تاکہ وہ ہمارے رویوں کو کنٹرول کر سکیں۔ ہم صارف نہیں، ہم بلکہ پروڈکٹ ہیں۔ یہ ایک ایسی جیل ہے جہاں قیدی خوشی خوشی اپنی زنجیروں کو چومتا ہے اور اپنی نگرانی کرنے والوں کو مزید ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کی عملی شکل چین کے “سوشل کریڈٹ سسٹم” جیسی صورتوں میں نظر آتی ہے، جہاں آپ کا آن لائن رویہ آپ کے حقیقی زندگی کے مواقع کا تعین کرتا ہے۔ اس تناظر میں پرائیویسی ایک باغیانہ عمل بن جاتا ہے۔ جو لوگ اپنی زندگی کو آن لائن لانے سے گریز کرتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی ذہنی صحت بچا رہے ہیں، بلکہ وہ اس استحصال پر مبنی معاشی نظام کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت بھی کر رہے ہیں۔
تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا صرف ایک قید خانہ نہیں، یہ آزادی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ یہ اقلیتوں کو آواز دیتی ہے، سماجی ناانصافیوں کو بے نقاب کرتی ہے، اور #MeToo جیسی تحریکوں کو جنم دے کر طاقت کے ایوانوں کو ہلا دیتی ہے۔ یہ دور بیٹھے عزیزوں کو جوڑتی ہے اور علم کے خزانوں تک رسائی کو آسان بناتی ہے۔ اسی طرح، جو لوگ آن لائن اپنی زندگی کی نمائش نہیں کرتے، وہ سب فلسفی یا باغی نہیں ہوتے۔ کچھ کے لیے یہ پرائیویسی کا ایک شعوری انتخاب ہے، کچھ سائبر کرائم اور آن لائن ہراسانی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خوفزدہ ہیں، اور کچھ کے لیے یہ محض عدم دلچسپی کا معاملہ ہے۔ ہمارے جیسے اجتماعی معاشروں میں، جہاں “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف ہماری رگوں میں بستا ہے، وہاں سوشل میڈیا پر دکھاوے کا دباؤ مغربی معاشروں سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ یہاں ایک تصویر صرف ایک تصویر نہیں ہوتی، بلکہ سماجی حیثیت، خاندانی وقار اور ذاتی کامیابی کا ایک اشتہار ہوتی ہے۔
تو پھر اس ڈیجیٹل قید و بند سے فرار کا راستہ کیا ہے؟ حل اسکرین کو توڑ دینے میں نہیں، بلکہ اس کا شعوری استعمال سیکھنے میں ہے۔ راستہ “ڈیجیٹل لِٹرِیسی” کو عام کرنے میں ہے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس ٹیکنالوجی کے نفسیاتی ہتھکنڈوں کو سمجھ سکیں۔ راستہ “مائنڈ فُل ٹیکنالوجی” کے استعمال میں ہے؛جان بوجھ کر نوٹیفکیشنز کو بند کرنا، دن میں کچھ وقت کے لیے “ڈیجیٹل ڈیٹاکس” کرنا، اور یہ یاد رکھنا کہ ہماری قدر کا تعین لائکس اور فالوورز سے نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی اور ایسے الگورتھم بنانے ہوں گے جو انسانی فلاح کو ترجیح دیں، نہ کہ صرف منافع کو۔
حقیقی آزادی اسکرین سے باہر کی دنیا میں ہے۔ یہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستے ہوئے اس لمحے کو کیمرے میں قید کرنے کی فکر کیے بغیر جینے میں ہے۔ یہ ایک کتاب پڑھتے ہوئے، ایک بچے کو کھیلتے ہوئے دیکھتے ہوئے، یا صرف خاموشی سے بیٹھ کر اپنی سانسوں کو محسوس کرنے میں ہے۔ یہ اس گہرے، پرسکون احساس میں ہے کہ آپ کا وجود مکمل ہے، چاہے کوئی اسے دیکھے یا نہ دیکھے، چاہے کوئی اسے سراہے یا نہ سراہے۔ ڈیجیٹل قید سے رہائی کا راستہ باہر نہیں، اندر ہے۔ یہ اپنی ذات سے دوبارہ جڑنے، اپنی حقیقت کو قبول کرنے اور یہ سمجھنے میں ہے کہ زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ وہ لمحات ہیں جو کبھی کسی اسٹیٹس اپ ڈیٹ کا حصہ نہیں بنتے۔ یہی وہ آزادی ہے جس کے لیے ہماری روحیں تڑپ رہی ہیں، اور یہی وہ انتخاب ہے جو آج ہمیں کرنا ہے۔