Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کویتا کی نئی سیاسی طاقت سے پرانی جماعت میں خوف کا ماحول*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کویتا کی نئی سیاسی طاقت سے پرانی جماعت میں خوف کا ماحول*

*تلنگانہ راشٹرا سینا کا بی آر ایس پر سخت تنقید، سوشل میڈیا مہمات پر وارننگ*

*کویتا کی قیادت میں تلنگانہ کے تحفظ اور عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان*

بنجارا ہلز میں تلنگانہ راشٹرا سینا قائدین کی منعقدہ پریس میٹ میں پارٹی رہنماؤں نے بی آر ایس قیادت اور اس کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئی پارٹی کے قیام سے بی آر ایس میں خوف پیدا ہوگیا ہے، اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر “اوریجنل اور ڈوپلیکیٹ” جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے گمراہ کن مہم چلائی جا رہی ہے۔
تلنگانہ راشٹرا سینا کے قائد روپ سنگھ نے کہا کہ ٹی آر ایس سے بی آر ایس میں تبدیلی کے بعد عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے، اس لئے اب تلنگانہ کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کی ذمہ داری کویتا نے اپنے ہاتھ میں لی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیڈ سوشل میڈیا کے ذریعے غلط پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور خبردار کیا کہ آئندہ اس طرح کی کوششوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔
قائد گونگلا رنجیت کمار نے کہا کہ پارٹی کے قیام نے بی آر ایس کو ہلا کر رکھ دیا ہے اسی لئے وہ خود کو “اوریجنل” قرار دے رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے تلنگانہ کی اصل روح کو چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کویتا نے تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور دہلی میں سونیا گاندھی سے ملاقات کا انتظام بھی کروایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے قیام کے 12 سال بعد بھی عوامی امنگیں پوری نہیں ہوئیں اور کویتا کی جانب سے پارٹی کے اعلان نے بی آر ایس کو بڑا سیاسی دھچکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی تلنگانہ کے مسائل شہداء کے مقاصد اور عوامی مشکلات کے لئے اگر کوئی جدوجہد کر رہا ہے تو وہ صرف کویتا ہیں۔
سید اسماعیل نے کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سینا کے قیام کے ذریعے ریاست کی تعمیر نو کی سنجیدہ کوشش شروع ہوئی ہے جس سے شہداء کے خاندانوں اور کارکنان میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تلنگانہ مخالف عناصر سازشیں کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے زہر پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ایسی مہمات ناکام ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی یا کویتا کے خلاف کسی بھی قسم کی ٹرولنگ برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایم ورلکشمی نے کہا کہ پارٹی کے قیام پر تنقید کرنا مضحکہ خیز ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی آر ایس قیادت نے خود ٹی آر ایس کو تبدیل کرکے تلنگانہ کے نظریے کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ کویتا کو پارٹی سے بے دردی سے نکالا گیا جبکہ وہ عوام کے درمیان رہ کر کام کرتی رہیں اس کے برعکس دیگر قائدین صرف سوشل میڈیا تک محدود رہے۔ انہوں نے کہا کہ کویتا کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ بدلتی ہوئی سیاست کے خلاف بات کر رہی ہیں۔
نریش پرجاپتی نے کہا کہ بی آر ایس نے تلنگانہ نظریے کو چھوڑ دیا اور تحریک کے کارکنان کو نظر انداز کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سینکڑوں شہداء کے خاندانوں کو مناسب مدد نہیں دی گئی اور کئی وعدے پورے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پارٹی خود اپنی شناخت کے بارے میں واضح نہیں ہے جبکہ کویتا نے 2006 سے 2014 تک تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا اور کسی عہدے کی خواہش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تلنگانہ نظریہ اور ٹی آر ایس کی اصل شناخت انہی کے پاس رہے گی کیونکہ کویتا کو طویل عرصہ سے تنظیمی تجربہ حاصل ہے۔
پریس میٹ میں قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تلنگانہ کے شہداء کے مقاصد عوامی حقوق اور ریاست کی اصل شناخت کے تحفظ کے لئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔