Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کھمم انہدامی کارروائی متاثرین کی ہرممکن مدد کا وعدہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کھمم انہدامی کارروائی متاثرین کی ہرممکن مدد کا وعدہ*

*خواتین اور معصوم بچوں کی حالت زار دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے*

*انصاف کے حصول تک جدوجہد کا کویتا کا عزم*

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کھمم ضلع کے ویلوگمٹلا علاقہ کے متاثرین سے ملاقات کی اور کہا کہ بے گھر ہونے والے خاندانوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کی حالت دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیاسی قائدین کو یہاں موجود خواتین کے دکھ دردکا احساس ہونا چاہئے، کیونکہ ایک بیٹی کے آنسو  کسی گھر کیلئے نیک شگون نہیں ہوتے، جبکہ یہاں درجنوں خواتین شدید کرب اور بے بسی کے عالم میں ہیں۔کویتا نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے مکانات ایسے وقت میں بلڈوزروں کے ذریعہ منہدم کئے گئے جب بچوں کے امتحانات جاری تھے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ گھروں کے ساتھ بچوں کی کتابیں اور سامان بھی ملبہ تلے دب گیا۔ ان کے مطابق والدین عموماً امتحانات کے دوران بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند رہتے ہیں لیکن یہاں راتوں رات گھروں کو مسمار کر کے خاندانوں کو بے سہارا کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کی تکلیف کو کچھ سیاسی جماعتوں نے محض ایک تماشہ بنا دیا اور کئی قائدین یہاں آکر صورتحال دیکھ کر چلے گئے۔ کویتا نے واضح کیا کہ وہ صرف رسمی ہمدردی کے اظہار کیلئے یہاں نہیں آئیں بلکہ متاثرین کے مسائل کو تفصیل سے سن کر حکومت سے بات چیت کے ذریعہ حل نکالنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سماجی و عوامی تنظیمیں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہیں جن میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی جے اے سی، دھرم سماج پارٹی اور دیگر عوامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ تلنگانہ جاگروتی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کے مکمل حل تک متاثرین کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔کویتا نے متاثرین کی موجودہ رہائش کے انتظامات پر بھی شدید ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ انہیں ایک جگہ جمع کر کے رکھا گیا ہے جہاں خواتین کیلئے علیحدہ سہولتیں تک موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے یہاں تک کہ ایک ہیلت کیمپ بھی منعقد نہیں کیا۔ ان کے مطابق متاثرین کا کہنا ہے کہ ضلع کلکٹر اب تک ایک دن کیلئے بھی یہاں نہیں آئے جبکہ ضلع کے تین وزراء بھی اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اور ضلع کے وزراء فوری طور پر اس مسئلہ پر وضاحت پیش کریں اور سب سے پہلے ضلع کلکٹر کو متاثرہ مقام کا دورہ کرنا چاہئے۔ کویتا نے کہا کہ متاثرین کے مکانات جہاں منہدم کئے گئے ہیں وہیں انہیں نئے مکانات تعمیر کر کے دیئے جائیں اور انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔


انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست بھر میں غریب عوام کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں جبکہ بااثر افراد کی بڑی عمارتوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل آئین کی روح کے خلاف ہے اور غریب عوام کے حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
کویتا نے کہا کہ متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے ایک منظم لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر مسئلہ کے مستقل حل تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔