*مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے بک اسٹال میں امڈی غیر اردو داں طبقہ کی بھیڑ*
*ایڈوکیٹ سنبل صبا،ایس ایم مصطفےٰ اورسعید اسعد قاسمی نے خوشی کا اظہار کیا*
پچھم بردوان ضلع ہیڈ کوارٹر آسنسول کے پولو گراؤنڈ میں منعقدہ آٹھواں ضلعی کتابی میلہ میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے فعال و متحرک ممبران محترم شکیل انور اور محترمہ کہکشاں ریاض خوشی کی کوششوں سے امسال اکاڈمی کی مطبوعات پر مشتمل بک اسٹال اردو داں طبقہ کے ساتھ غیر اردو داں والوں کے لیے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔آسنسول و اطراف کے کالج اور قاضی نذرل یونیورسٹی کے طلباء وطالبات جوق درجوق اکاڈمی کے اسٹال پہنچ کر اکاڈمی کی اردو کتابوں سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔غور طلب ہے کہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے واءس چیءر مین و راجیہ سبھا ایم پی آنجناب ندیم الحق صاحب اور اکاڈمی کی سکریٹری محترمہ نزہت زینب صاحبہ کی پیش قدمی و سرپرستی میں لگاءے گیے اسٹال میں اردو طبقہ کی جانب سے اچھا رسپانس مل رہا ہے۔میلہ کے تیسرے دن بھی جہاں ایک جانب اہل اردو، دانشوران ،سیاسی شخصیات کی آمد ہورہی ہے وہیں آج آسنسول ضلع عدالت کی ایڈوکیٹ سنبل صبا، وارڈ 25 کے کانگریسی کانسلر ایس ایم مصطفےٰ ، مفتی سعید اسعد قاسمی ، سری پور کے شاعر عالم انجم،قاضی نذرل یونیورسٹی شعبہ اردو کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر فاروق اعظم، جموڑیا کی رہنے والی ریسرچ اسکالر شاہینہ پروین کے علاوہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے اسٹاف محمد فیروز خان، محمد شہباز، محمد سیف،محمد سالک نے شرکت کی۔ بک اسٹال میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے سید محمد رفیع اللہ اور محمد گلزار عالم نے تمام شرکاء کا پرتپاک خیرمقدم کیا ۔اسٹال میں تشریف فرما غیر اردو زباں والوں نے اردو سے اپنی بے پناہ محبت اور رغبت کا اظہار کرتے ہوءے کہا کہ اکاڈمی کے ذریعہ آسنسول میں اردو زبان سکھانے کا کوءی معقول انتظام ہو تو ہم لوگوں کے لیے اس زبان کو سیکھنے کی راہ ہموار ہوجاتی ۔آسنسول ضلع عدالت کے سینءر وکیل و بنگلہ زبان کے ادیب آشیش مکھرجی نے اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوءے اردو زبان سیکھنے کی دلی خواہش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اردو زبان میں لٹریچر کی بہت ساری کتابیں ہیں جنہیں پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن اردو زبان سے نا بلد ہونے کے سبب اپنی تشنگی بجھانے سے قاصر ہوں۔انہوں نے اسٹال سے اکاڈمی کی مطبوعات “ایشو اردو سیکھیں” کی خریداری کی۔وہیں آسنسول گرلس کالج سے تعلق رکھنے والی ایوی پرکاشی نے پچھم بردوان ضلع کتابی میلہ میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کا اسٹال دیکھ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اردو ہندستان کی خالص زبان ہے اس کی چاشنی ہے ہر خاص و عام کو اپنی جانب راغب کیا۔ میں خود اردو زبان سیکھنا چاہتی ہوں اس لیے میں اکاڈمی کی کتاب” ایشو اردو سیکھی” خریدی ہوں۔ انہوں نے اسٹال میں اپنی ڈیوٹی نبھا رہے اکاڈمی کے اسٹاف سید محمد رفیع اللہ اور محمد گلزار عالم کے تءیں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوءے کہا کہ انہوں نے میری رہنماءی فرماءی۔آسنسول بی بی کالج کے سابق لایبریرین انیل رنجن سرکار نے کہا کہ اکاڈمی کا یہ ایک مستحسن قدم ہے جس سے حب الوطنی کو فروغ ملے گا۔ غیر اردو زبان والے بھی اس اسٹال سے استفادہ حاصل کریں گے۔کلٹی سے آءی شاہین پروین نے بھی کتابی میلہ میں اکاڈمی کا اسٹال دیکھ کر اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہوءے کہا کہ پہلی مرتبہ اکاڈمی کا اسٹال آنے کا موقع ملا۔اکاڈمی کے اراکین اور اسٹاف کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ منشی پریم چند کے افسانے اور اسلامی تاریخ کی کتابیں اسٹال میں دستیاب نہیں ہے لیکن امید ظاہر کرتی ہوں کہ آءندہ سال یہ کتابیں بھی اسٹال میں دستیاب ہونگی۔اسلام پور سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ سماجی خدمتگار و ایف کے گروپ کے چیءر مین فیروز خان (ایف کے) نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوءے کہا کہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی کا اسٹال دیکھ کر بہت خوشی ہوءی۔کتابوں کی تعداد خاطر خواہ ہے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشاءاللہ میں یہاں لگاتار آتا رہونگا اس کے ساتھ انہوں نے اردو والوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ بھی اکاڈمی کے اسٹال پہنچ کر اردو کتابوں سے استفادہ حاصل کریں۔پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کے کمار ڈوبی شبلی باڑی علی محلہ سے اپنی اہلیہ کے ساتھ تشریف فرما معمر شخص محمد احرار ہندی نے کہا کہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے اسٹال میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔چند پسندیدہ کتابیں بھی خریدیں۔سری پور فری پراءمری اسکول کے معاون مدرس امتیاز احمد انصاری بھی اپنے رفقاء کے ساتھ تشریف لاءے اور اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوءے کہا کہ 8 واں ضلعی کتابی میلہ میں پہلی بار اردو کتابوں کا اسٹال موجود پاکر دلی مسرت ہوءی۔میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے تمام اراکین کے ساتھ اکاڈمی کے آسنسول سے تعلق رکھنے والے ممبران محترم شکیل انور صاحب اور محترمہ کہکشاں ریاض خوشی صاحبہ کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا کہ ان لوگوں نے آسنسول اکاڈمی کی شاخ کی ٹیم لےکر کتابی میلہ میں اردو اسٹال کی شروعات کی۔اس اسٹال میں کتابوں کے مطالعہ کے شوقین لوگوں کے لیے مختلف موضوعات پر مبنی کتابیں موجود ہیں اور وہ بھی انتہاءی رعایتی قیمت پر۔اس لیے اسٹال پہنچ کر کتابیں نہ خریدنا بڑی بھول ہوگی۔ایک بات جس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اردو کے اسٹال میں ادب اطفال یعنی بچوں کی کتابوں کی کمی کا احساس ہورہا ہے۔اکاڈمی کے ذمہ داران اس جانب خصوصی توجہ کی گزارش ہے۔اسٹال میں سید محمد رفیع اللہ صاحب اور محمد گلزار عالم صاحب کی خوش اخلاقی نے کافی متاثر کیا۔آر کے مشن ودیا پٹھ کے مدرس انوارالحق نے بھی اکاڈمی کے اس قدم کی سراہنا کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔








آسنسول گرلس کالج کے سبکدوش پرنسپل پی کے دے سرکار نے اسٹال کا دورہ کیا ۔اکاڈمی کے کاج کی تعریف کی اور کہا کہ ہم لوگ بھی اردو زبان سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اردو بڑی پیاری زبان ہے۔ہندی زبان والوں نے اکاڈمی سے اپیل کی کہ جس طرح بنگلہ سے اردو سیکھنے کے لیے اکاڈمی نے کتاب مہیا کراءی ہے اسی طرح ہندی سے اردو زبان سیکھنے کے لیے کتابوں کی اشاعت ہو تو اردو زبان سیکھنے سے متعلق ہماری پریشانیاں دور ہوں۔اکاڈمی کے ممبران شکیل انور اور کہکشاں ریاض خوشی نے بتایا کہ آءندہ 4 جنوری کو اکاڈمی کی عمارت آسنسول شاخ میں شاعر محبوب انور صاحب پر ایک سیمینار بھی ہونے جارہا ہے اور اس کے دوسرے ہی دن 5 جنوری سے رانی گنج میں منعقد ہونے والے کتابی میلہ میں اکاڈمی کا اسٹال لگنے کا مژدہ سنایا۔

















