Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اعتکاف کا بیان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے وفات تک آپ کا یہ معمول رہا آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اہتمام سے اعتکاف کرتی رہیں (صحیح بخاری و صحیح مسلم ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ایک سال آپ اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال 20دن کا اعتکاف فرمایا (جامع ترمذی) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرمایا کہ معتکف شرعی دستور اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کو جائے نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے باہر نکلے نہ عورت سے صحبت کرے نہ بوس وکنار کرے اور اپنی ضرورتوں کے لیے بھی مسجد سے باہر نہ جائے سوائے ان حوائج کے جو بالکل ناگزیز ہیں (جیسے پیشاب پاخانہ وغیرہ) اور اعتکاف روزہ کے ساتھ ہونا چاہیے بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں اور مسجد جامع میں ہونا چاہیے اس کے سوا نہیں (سنن ابی داؤد)۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ اعتکاف کی وجہ سے اور مسجد‌ میں مقید ہو جانے کی وجہ سے گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرح جاری رہتا ہے اور نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے(سنن ابن ماجہ)۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب بندہ اعتکاف کی نیت سے اپنے کو مسجد میں مقید کر دیتا ہے تو اگرچہ وہ عبادت اور ذکر و تلاوت وغیرہ کے راستہ سے اپنی نیکیوں میں خوب اضافہ کرتا ہے لیکن بعض بہت بڑی نیکیوں سے وہ مجبور بھی ہو جاتا ہے مثلا وہ بیماروں کی عیادت اور خدمت نہیں کر سکتا جو بہت بڑے ثواب کا کام ہے کسی لاچار مسکین یتیم اور بیوہ کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کر سکتا کسی میت کو غسل نہیں دے سکتا جو اگر ثواب کے لیے اور اخلاص کے ساتھ ہو تو بہت بڑے اجر کا کام ہے اسی طرح نماز جنازہ کی شرکت کے لیے نہیں نکل سکتا میت کے ساتھ قبرستان نہیں جا سکتا جس کے ایک ایک قدم پر گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہے لیکن اس حدیث میں اعتکاف والے کو بشارت سنائی گئی ہے کہ اس کے حساب اور اس کے صحیفہ اعمال میں اللہ تعالی کے حکم سے وہ سب نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جن کے کرنے سے وہ اعتکاف کی وجہ سے مجبور ہو جاتا ہے اور وہ ان کا عادی تھا – کیا نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے۔ معارف الحدیث ج چہارم ص 119’120’121’122

Latest News