Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*انسان بدلیں… تبھی زمانہ بدلے گا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*انسان بدلیں… تبھی زمانہ بدلے گا*

تحریر: *ابو شحمہ انصاری*
سعادت گنج،بارہ بنکی

دن، مہینے اور سال بدلتے رہتے ہیں۔ کیلنڈر کی تاریخیں ازخود پلٹتی رہتی ہیں۔ گھڑی کی سوئیاں اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ دنیا کی بساط پر موسم بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ سب تبدیلیاں اُس وقت تک بیکار ہیں جب تک انسان خود کو بدلنے کا حوصلہ نہ کرے، اپنے اندر جھانک کر خود کو پرکھنے کی ہمت نہ پیدا کرے، اور زندگی کو محض گزارنے کے بجائے سمجھ کر جینے کا عہد نہ کرے۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ترقی کے شور نے انسان کے اندر کی خاموشی چھین لی ہے۔ گھروں میں آسائشیں بڑھ گئیں مگر سکون کم ہوگیا۔ وسائل کی فراوانی آئی مگر دل چھوٹے پڑ گئے۔ رشتے پہلے مضبوط ہوا کرتے تھے، اب رابطے مضبوط ہیں اور رشتے کمزور۔ ہر شخص دوڑ میں ہے مگر کسی کو یہ معلوم نہیں کہ آخر جانا کہاں ہے۔ ہر چہرے پر مسکراہٹ ہے مگر دلوں کے اندر اضطراب کی گرد جمی ہوئی ہے۔ یہی وقت ہے خود کو ٹٹولنے کا، یہ دیکھنے کا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کس سمت بڑھ رہے ہیں۔
زندگی اس وقت خوبصورت بنتی ہے جب انسان اپنے کردار، اپنی سوچ اور اپنے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ ہم دوسروں سے بہت سی امیدیں رکھتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ حکومت بدلے، نظام بدلے، معاشرہ بدلے، حالات بدل جائیں، لیکن خود کو بدلنے کی بات کم ہی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو پہچان لے، اپنے حصے کی شمع جلا دے، تو اندھیرے خود بخود کم ہونے لگتے ہیں۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، افراد درست ہوں تو معاشرہ خودبخود درست ہو جاتا ہے۔
آج ہمیں سب سے پہلے اپنے لہجے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے سے بات کرتے وقت احترام، نرمی اور شائستگی جیسے اوصاف ختم ہوتے جارہے ہیں۔ زبان دل کا آئینہ ہوتی ہے۔ لہجہ ہی دلوں کو جوڑتا بھی ہے اور توڑتا بھی ہے۔ اختلاف رائے فطری ہے مگر تلخی ضروری نہیں۔ اگر ہم بات کرنے کا سلیقہ سیکھ لیں، سننے کی عادت اپنا لیں، تو آدھے مسائل خود حل ہو جائیں۔
خاندان اور گھر وہ پہلی درسگاہ ہیں جہاں سے زندگی کا شعور ملتا ہے۔ افسوس کہ آج گھر ایک چھت کے نیچے چند افراد کا مجموعہ تو ہیں، مگر دل ایک دوسرے سے دور ہیں۔ پہلے محفلیں ہوتی تھیں، مسائل گفتگو سے حل ہوتے تھے، بزرگوں کی نصیحتیں چراغ راہ بنتی تھیں۔ اب سب کچھ کمروں تک محدود ہے، اور گفتگو سکرینوں میں قید ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بہتر مستقبل پائیں تو ہمیں گھروں کو دوبارہ محبت، تربیت اور اخلاق کا مرکز بنانا ہوگا۔
سماج کی بہتری اس وقت ممکن ہے جب انسان اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے۔ ہم خاموش تماشائی بنے رہیں، صرف تنقید کرتے رہیں، دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے رہیں، تو کسی قسم کی بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنے معاشرے کے لیے کیا کیا؟ اپنے محلے، اپنی بستی، اپنے شہر کے لیے کیا کردار ادا کیا؟ معاشرے کو محض نعروں سے نہیں کردار سے بدلا جاتا ہے۔
انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے رکتا نہیں۔ ماضی اپنی جگہ چھوڑ جاتا ہے اور مستقبل ہماری طرف بڑھتا رہتا ہے۔ ہم بارہا وعدے کرتے ہیں، ارادے باندھتے ہیں، لیکن چند دنوں کے بعد سب کچھ بھول بیٹھتے ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کسی اچھی بات کا ارادہ کرے اور پھر اس پر ڈٹ کر قائم رہے۔ خود سے یہ عہد کرے کہ سچ بولے گا، بےجا نفرت نہیں پھیلائے گا، حق پر ساتھ دے گا، کمزور کا ہاتھ تھامے گا اور دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرے گا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ترقی کا اصل معیار صرف بڑی عمارتیں، بڑی گاڑیاں اور بڑی پوزیشنیں نہیں، بلکہ بڑا دل، وسیع سوچ، بلند کردار اور انسانیت کی خدمت ہے۔ وہ انسان کامیاب ہے جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، جو زخموں پر مرہم رکھے، جو کسی کی آنکھوں کے آنسو پونچھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ تاریخ ایسے ہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنی زندگی محض اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی گزارتے ہیں۔
آج دنیا کو جنگوں نہیں، محبتوں کی ضرورت ہے۔ تفرقوں نہیں، وحدت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں نہیں، انسانیت کی ضرورت ہے۔ کسی بھی مذہب، کسی بھی نظریے، کسی بھی تہذیب کی بنیاد نفرت پر نہیں ہوتی بلکہ امن، اخلاق، بھائی چارے اور عدل پر ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے لیے وہی سوچ رکھنی ہوگی جو اپنے لیے رکھتے ہیں۔
زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ وقت کے گزر جانے کے بعد صرف حسرتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ جو کر سکتے ہیں وہ آج کریں، جو بدل سکتے ہیں وہ ابھی بدلیں۔ اپنی ذات سے شروعات کریں، اپنے گھر سے ابتدا کریں، اپنے معاشرے تک سفر بڑھائیں۔ یاد رکھیے! جب انسان بدلتا ہے تو گھر بدلتا ہے، جب گھر بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، جب معاشرہ بدلتا ہے تو دنیا بدل جاتی ہے۔
اب ضرورت یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اپنی خامیوں کو دور کریں، محبت کے چراغ روشن کریں، ذمہ داری کا شعور بیدار کریں اور انسانیت کے راستے کو اختیار کریں۔ کیونکہ زمانہ تبھی بدلے گا… جب انسان خود بدلنے کا حوصلہ کرے گا۔
مضمون نگار آل انڈیا ماٸناریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرو اشاعت کے سکریٹری ہیں۔