آسنسول :’تم تو زیادہ دن زندہ رہنے والے نہیں ہو، مجھے ایک سہارے کی ضرورت ہے۔“ اہلیہ کی زبانی ایسی باتیں سن کر شوہر ششدر رہ گیا۔ جی ہاں سدھناتھ کی بیوی نے اپنے شوہر سے بلا جھجھک ایسی باتیں کہیں اور اپنے جیون ساتھی کو چھوڑ کر ایک ڈبلیو بی سی ایس آفیسر کے ساتھ زندگی کے بقیہ ایام گزارنے چلی گئی۔
ایک شادی شدی جوڑے کی زندگی میں اس وقت بھونچال آیا جب بیوی نے اپنے شوہر سدھناتھ سے کہا کہ تم تو زیادہ دن جینے والے نہیں، نجھے ایک سہارے کی ضرورت ہے۔ سدھناتھ نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ تمہیں اس طرح کی باتیں کس نے کہی۔ ارچنا نے بتایا کہ ڈبلیو بی سی ایس آفسر نے یہ باتیں مجھ سے کہی ہیں۔
ارچنا نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ (ڈبلیو بی سی ایس افسرکے ساتھ)رہنا چاہتی ہے۔ اپنا جیون اس کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے۔ اس نے فیصلہ کر لیا ہے۔ سدھناتھ نے اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانی اور اپنے شوہر کو چھوڑ کر بیٹے کے ساتھ اس ڈبلیو بی سی ایس آفیسر کے ذریعہ اسمعیل میں دیئے گئے مکان میں رہنے چلی گئی۔ سدھناتھ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ افسرپہلے سے ہی شادی شدہ ہے۔ اپنی اہلیہ کو طلاق دے کر اور دو بچوں کو چھوڑ کر ان کی بیوی کے ساتھ رہ رہا ہے۔ سدھاناتھ نے ڈبلیو بی سی ایس آفیسر سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی کہ وہ اس کی بیوی کو چھوڑ دے اور اسکے ہنستے کھیلتے پریوار کو برباد ہونے سے بچا لے۔
سدھاناتھ کا کہنا ہے کہ وہ ڈبلیو بی سی ایس آفیسر ان کی بات نہیں مانے اور کہا کہ وہ اپنی بیوی ارچنا کا پیچھا چھوڑ دے۔
انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے بات نہیں مانی تو وہ اسے کسی جھوٹے معاملہ میں پھنسا دیں گے او ر انکا قتل کر کے لاش تک غائب کر دیں گے۔ ایسے میں سدھاناتھ نے اپنی جان کی امان کے ساتھ اپنی بیوی اور بچوں کو حاصل کر نے کے لیے صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، مغربی بنگال اور بہار کے گورنر، دونوں ریاستوں کے وزیر اعلیٰ اور ڈی جی پی سمیت ضلع ناظمین کو تحریری شکایت کے ساتھ اپیل کی ہے۔























