یوم جمہوریہ کے موقعے پر مسلمانان ہند کو درگاہ غوث بنگالہ سے مفتی محمد اورنگزیب عالمگیر سعدی کا پیغام ۔
نئ نسلوں کے لیے اعلی تعلیم کا انتظام اور حکومتی سطح پر و سرکاری ملازمت میں حصہ دلانے کی عہدے پر قابض شخصیات و متحرک تنظیموں سے اپیل ۔
26/جنوری آستانہ حضور غوث بنگالہ رانی گنج کے مفتی محمد اورنگزیب عالمگیر سعدی نے یوم جمہوریہ کے موقعے پر قوم کو پیغام محبت دیتے ہوئے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا ۔
جس میں مفتی صاحب نے بتایا کہ یوم جمہوریہ ہندوستان کی ایک قومی تعطیل ہے جسے ہر ہندوستانی مناتے ہیں امسال اہل ہند 74واں یوم جمہوریہ منا رہے ہیں،26/جنوری 1950 کو آئین نافذ ہوا اور ہمارا ملک ایک جمہوری ملک قرار پایا تھا قابل ذکر بات یہ ہے کہ برطانوی حکومت کے خاتمے کے بعد حکومت ہند ایکٹ جو 1935 سے نافذ تھا اسے منسوخ کر کے اراکین اسمبلی کے ذریعہ تیار کردہ ہندوستان کا نیا آئین 26/نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے اسمبلی کی طرف سے اپنایا گیا اور 26/ جنوری 1950 کو باضابطہ پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا اس دن سے ہندوستان ایک جمہوری ملک بن گیا ،یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باشندے اپنے معاملات میں کہتے ہیں کہ یہاں قانون کا راج چلتا ہے کیونکہ آئین ہند ہر ہندوستانی کو برابری و مساوات کا حق دیتا ہے اور آزادی و تحفظ کا یقین دلاتا ہے ،
74 ویں یوم جمہوریہ کے موقعے پر میں اہل وطن سے خصوصاً اہل اسلام یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ قانون کا سہارا لے کر آگے بڑھیں اچھی تعلیم اور حکومتی سطح پر بڑے عہدے حاصل کریں سرکاری ملازمت میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں یقینی بنائیں آج ہندوستان کے جو حالات ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ جو حکومت کے رویے ہیں اس لئے وقت رہتے ہی متحد ہو کر منظم طریقے سے حکومتی سطح پر بڑے عہدے حاصل کرنے و ملازمت میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں حصہ لینے میں کامیابی حاصل کریں دوسری بات تعمیراتی کام جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے مثلاً مکاتب و مدارس جامعات اسکول و کالج اور یونیورسٹیوں کا قیام جس سے ہم آنے والی نسلوں کو پر خطر راستوں اور ظلمت و تاریک کے بادل سے نکال کر روشنی کی جانب لا سکیں گے انہیں صحیح غلط کی پہچان اور بزرگوں کی وراثت سے روشناس کرا سکیں گے۔تیسری بات مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کے رجسٹریشن کا کام اس کام کو بڑی تیزی کے ساتھ کروا لینا چاہیے کیونکہ اس پرفتن ماحول میں اس کے بغیر اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ممکن نہیں ہے ایسے میں ان سارے کاموں کے لیے متحرک و فعال تنظیموں اور حکومتی سطح پر قابض عہدےداروں و دانش وران قوم و ملت سے کہنا چاہوں گا کہ وہ آگے آئیں اور ملک و ملت کا کام کریں اس سے نہ صرف ایک سماج کی ترقی ہوگی بلکہ پورا ہندوستان مضبوط ہوگا آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن ہوگا۔ فقط۔
محمد اورنگزیب عالمگیر سعدی آستانہ حضور غوث بنگالہ رانی گنج بنگال










