انجمن امداد باہمی بہ اشتراک اردو لائبریری ، یومِ غالب پر ایک شاندار پروگرام ’’ایک شام غالب کے نام‘‘ سے27دسمبر شام 6 بجے انجمن کے کانفرنس ہال میں منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت نثار احمد فریدی صاحب نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض انجمن امداد باہمی کے سکریٹری جناب ندیم شعبانی نے انجام دیے۔
جناب نقیب رحمانی کی نعتِ پاک کی پیش کش سے پروگرام کا بابرکت آغاز ہوا۔محترم ابو حیدر پرویز نے اشعار کے حوالے سے غالب کی ہمہ جہت شخصیت پر روشنی ڈالی۔ ایک کم سن بچے عتیق الرحمانی نے غالب کی غزل اپنی دلکش آواز و انداز میں پیش کر کے سامعین کی داد و تحسین حاصل کی۔ محترمہ فرح ناز نے غالب کی شاعری کے لب و لہجے پر بات کی۔ماسٹر ساجد عالم ساجد نے غالب سے متعلق اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا اور فرمایا کہ غالب کے نا سمجھ میں آنے والے اشعار سے بھی وہ لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ماسٹر شہنواز عالم نے غالب کی زندگی کے عشقیہ پہلو کو پیش کیا۔ عامر احتشام اطہر صاحب نے غالب کے متخب اشعار کی خوبیوں پر گفتگو کی۔ جناب عارج جلیس نے اپنی تقریر میں اس طرح کا پروگرام منعقد کرنے پر ادارہ ھذا کو مبارکباد دیا نیز غالب سے اپنی دلی لگاؤ کا اظہار کرتے ہوئے غالب کی ایک خوبصورت غزل ترنم سے پیش کیا۔ ڈاکٹر صابرہ خاتون حناؔ نے خطوطِ غالب کے حوالے سے ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹرمحمد شمشیر عالم نے و فیسر آل احمد سرور کا قول نقل کیا کہ ’’غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی ، غالب نے اسے ذہن دیا ‘‘اور اس کے حوالے سے غالب کی شاعرانہ خوبیوں کو بیان کیا۔ وقفے وقفے سے گل محمد خان، نقیب رحمانی، منتشر اقبال اور محمد کیف انصاری(سکریٹری اردو لائبریری) صاحبان نے غالب کی غزلوں کو اپنی دلنشیں آواز میں سامعین کےسامنے پیش کیا۔محترم نثار احمد فریدی کے مختصر صدارتی خطبے کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔










