Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*زکوۃ کن چیزوں پر فرض ہے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سوال وجواب کی شکل میں * سوال: زکوۃ کس کس چیز پر فرض ہے جواب: زکوۃ مندرجہ ذیل چیزوں پر فرض ہے۔ ١-سونا جبکہ ساڑھے سات تولہ (479 ء 87 گرام) یا اس سے زیادہ ہو ٢- چاندی جب کہ ساڑھے 52 تولہ (35 ء 612 گرام ) یا اس سے زیادہ ہو ٣-روپیہ پیسہ اور مال تجارت جبکہ اس کی مالیت ساڑھے 52 تولہ چاندی (35ء 612 گرام) کے برابر ہو نوٹ: اگر کسی کے پاس تھوڑا سا سونا ہے کچھ چاندی ہے کچھ نقد روپے ہیں کچھ مال تجارت ہے اور ان کی مجموعی مالیت ساڑھے 52 تولے ( 35 ء612 گرام) چاندی کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوۃ پر ہے اسی طرح اگر کچھ سونا ہے کچھ چاندی ہے یا کچھ سونا ہے کچھ نقد روپیہ ہے یا کچھ چاندی ہے کچھ مال تجارت ہے تب بھی ان کو ملا کر دیکھا جائے گا کہ ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہے یا نہیں؟اگر بنتی ہو تو زکوۃ واجب ہے ورنہ نہیں الغرض سونا چاندی نقدی مال تجارت میں سے دو چیزوں کی مالیت جب چاندی کےنصاب کے برابر ہو تو اس پر زکوۃ فرض ہے ٤-ان چیزوں کے علاوہ چڑھنے والے مویشیوں پر بھی زکوۃ فرض ہے اور بھیڑ بکری گانے بھینس اور اونٹ کے الگ الگ نصاب ہیں ان میں چونکہ تفصیل زیادہ ہے اس لیے نہیں لکھتا جو لوگ ایسےمویشی رکھتے ہوں وہ اہل علم سے دریافت کریں۔ ٥- عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوۃ فرض ہے جس کو عشر کہا جاتا ہے اس کی تفصیلات اگے ملاحظہ کریں۔ نصاب کی واحد شرط کیا ہے؟ سوال: عام طور سے زکوۃ کے لیے شرط انصاف جو سننے میں اتا ہے وہ ہے ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا یا ان کی مالیت مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص جس کے پاس نہ سونا ہے نہ چاندی ہے بلکہ پانچ ہزار روپے نقد ہیں اسے کس نصاب پر عمل کرنا چاہیے سونے پر یا چاندی پر؟اور مالیت کا حساب لگائے تو کس چیز کے مطابق ؟اگر چاندی کی شرط پر عمل کرتا ہے تو وہ صاحب نصاب ٹھہرے گا لیکن اگر سونے کی شرط پر عمل کرتا ہے تو ہرگز صاحب زکوۃ نہیں ٹھہرتا لہذا وہ زکوۃ کی ادائیگی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا وضاحت فرمائیے کہ ایسے شخص کو کون سی راہ اختیار کرنی چاہیے اج کل نصاب کے دو معیار کیوں چل رہے ہیں جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو ایک ہی معیار تھا یعنی 200 درہم ( چاندی) کی مالیت 20 دینار ( سونے) کی مالیت کے برابر تھے اج ان کی مالیتوں میں زمین و اسمان کا فرق ہے لہذا کس شرط پر عمل کرنا لازمی ہے نصاب کی واحد شرط کیا ہے؟۔ جواب: اپ کے سوال کے سلسلے میں چند باتیں سمجھ لینا ضروری ہیں اول: کس مال میں کتنی مقدار واجب الادا ہے؟ کس مال میں کتنے نصاب پر زکوۃ واجب ہوتی ہے؟ یہ بات محض عقل و قیاس سے معلوم نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے ہمیں انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے پس انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مال کا جو نصاب مقرر فرمایا ہے اس کو قائم رکھنا ضروری ہے اور اس میں رد و بدل کی گنجائش نہیں ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ نماز کی رکعات میں رد و بدل کی گنجائش نہیں۔ دوم: ان حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےچاندی کا نصاب 200درہم (یعنی ساڑھے باون تولے یعنی تقریبا 35 ء 612 گرام )اور سونے کا نصاب 20 مثقال (ساڑھے سات تولے یعنی تقریبا 5 /87 گرام) مقرر فرمایا ہے اب خوا ہ سونے چاندی کی قیمتوں کے درمیان وہ تناسب جو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا قائم رہے یا نہ رہے سونے چاندی کے ان نصابوں میں تبدیلی کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں جس طرح فجر کی نماز میں دوکے بجائے چار رکعتیں اور مغرب کی نماز میں تین کے بجائے دو یا چار رکعتیں پڑھنے کا کوئی اختیار نہیں۔ سوم : جس کے پاس نقد روپیہ پیسہ ہو یا مال تجارت ہو یہ تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے سونے چاندی میں سے کسی ایک کے نصاب کو معیار بنانا ہوگا رہا یہ کہ چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جائے یا سونے کے نصاب کو اس کے لیے فقہائے امت نے جو درحقیقت حکماے امت ہیں یہ فیصلہ دیا ہے کہ ان دونوں میں سے جس کے ساتھ بھی نصاب پورا ہو جائے اسی کو معیار بنایا جائے گا مثلاچاندی کی قیمت سے نصاب پورا ہو جاتا ہے مگر سونے سے نصاب پورا نہیں ہوتا (اور یہی اپ کی سوال کا بنیادی نکتہ ہے) تو چاندی کی قیمت سے حساب لگایا جائے گا اور اس کی دو وجھیں ہیں ایک یہ کہ زکوۃ فقرا کے نفع کے لیے ہے اور اس میں فقراء کا نفع زیادہ ہے دوم یہ کہ اس میں احتیاط بھی زیادہ ہے کہ جب ایک نقدی (یعنی چاندی) کے ساتھ نصاب پورا ہو جاتا ہے اور دوسری نقدی( یعنی سونے) کے ساتھ پورا نہیں ہوتا تو احتیاط کا تقاضا یہ ہوگا کہ جس نقدی کے ساتھ نصاب پورا ہو جاتا ہے اسی کا اعتبار کیا جائے زکوۃ کب واجب ہوی سوال: میرے پاس سال بھر سے کچھ رقم تھی جسے میں خرچ بھی کرتا رہا شوال کے مہینے سے رجب تک میرے پاس 10 ہزار روپے بچے اور جب میری35 ہزار روپے کی امدنی ہوئی اب یہ بتائے کہ رمضان میں صرف 10 ہزار کی زکوۃ نکالنی ہوگی یا 35 ہزار بھی اس میں شامل کیے جائیں گے جبکہ 35 ہزار پر رمضان تک صرف تین ماہ کا عرصہ گزرا ہوگا؟ جواب: جو ادمی ایک بار نصاب کا مالک ہو جائے تو جب اس نصاب پر ایک سال گزرے گا تو سال کے دوران حاصل ہونے والے کل سرمائے پر زکوۃ واجب ہوگی ہر رقم پر الگ الگ سال گزرنا شرط نہیں اس لیے رمضان المبارک میں اپ پر اس کل رقم کی زکوۃ واجب ہوگی جو اس وقت اپ کے پاس ہو سوال: اگر کسی کے پاس 68ہزار روپیہ اور چھ تو لہ سونا ہے تو اس سونے پر بھی زکوۃ دی جائے گی یا صرف روپے کی ہی زکوۃ نکالنی ہوگی؟۔ جواب: اس صورت میں زکوۃ سونے پر بھی واجب ہے سال پورا ہونے کے دن سونے کی جو قیمت ہو اس کے حساب سے چھ تولے سونے کی مالیت کو بھی رقم میں شامل کر کے زکوۃ ادا کی جائے اپ کے مسائل ان کا حل- ج سوم – ص 354 ‘355’356-

قیصرعبداللہ خطیب لوکو مسجد و خادم دارالعلوم اسنسول