Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*احمد حسین مظاہریؔ پرولیا*

ذی الحجہ کا مہینہ اُن چار مہینوں میں سے ہے،جن کو اللہ تعالی نے “اشہر حُرُم “یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے،ذوالحجہ کا پورا مہینہ ہی قابل ِاحترام ہے لیکن اس کے ابتدائی دس دن تو بہت ہی فضیلت اور عظمت والے ہیں،ماہِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ قرآن و حدیث کے مطابق سال کے تمام دنوں میں افضل ترین عشرہ ہے،چنانچہ بارِ الہ نے قرآنِ کریم (سورة الفجر آیت نمبر ۲)میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے(وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ……امام ابنِ کثیر ؒ فرماتے ہیں دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کی دس (راتیں) ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر: 338/14)
جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔۔۔
قارئین! عشرہ ذی الحجہ کے باقی ایام سے امتیاز کا ایک سبب یہ معلوم ہوتاہے کہ اس میں بڑی بڑی عبادات جمع ہو جاتی ہیں جیسے نماز، روزہ، صدقہ اور حج، عبادات کا یہ اجتماع باقی ایام میں نہیں ہوتا۔ (فتح الباري 460/2)
قارئین! اس بات کو ضرور یاد رکھیے ماہِ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی سب سے پہلا حکم بال اور ناخن کے نہ کاٹنے کا ہے۔۔۔
حدیث شریف میں ہے:حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو،تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے۔
البتہ اس حدیث میں جو ممانعت آئی ہے علامہ ظفر عثمانی ؒنے اس کو مکروہ تنزیہی پر محمول کیا ہے۔نیز فقہائے کرام نے فرمایا:کہ قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن اور سر، بغل اور زیر ناف بال نہ کاٹے،واضح رہے کہ یہ (عمل) مستحب ہے واجب نہیں؛ ”مستحب” کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کام کر لیا جائے تو ثواب ہے اور نہ کیا جائے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔لہذا اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو ملامت اور طعن و تشنیع نہیں کرنی چاہیے۔
اگر  شخص کا زیرِ ناف بال چالیس دن سے زیادہ ہوجائے تو اس کے لیے ضروری ہے ان ایام میں کاٹے کیونکہ چالیس دن تجاوز کرنے کے باوجود نہ کاٹے تو مکروہ تحریمی ہے۔۔۔
قارئین! اِس مہینے کے پہلے دس دن کیے جانے والے نیک اعمال کا ثواب باقی ایام کے مقابلے میں زیادہ عطا کیا جاتا ہے۔۔
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں کیے گئے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام ایام میں کیے گئے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان دس دنوں کے علاوہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے تب بھی؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! تب بھی اِن ہی اَیام کا عمل زیادہ محبوب ہے،البتہ اگر کوئی شخص اپنی جان و مال دونوں چیزیں لے کر جہاد میں نکلا اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہوگیا تو یہ افضل ہے)۔۔{ترمذی شریف /٧٥٧}
قارئین! اس مہینے کی نویں تاریخ یعنی یومِ عرفہ کا روزہ جس کا حدیث مبارکہ میں بہت زیادہ اجر و ثواب ذکر کیا گیا ہے۔
چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی عبادت تمام دنوں کی عبادت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ان ایام میں سے (یعنی ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں) ایک دن کا روزہ پورے سال کے روزوں اور رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔{ترمذی شریف/689}
مسئلہ:یہ فضیلت یکم سے نویں ذی الحجہ تک ہے، دسویں کو روزہ رکھنا جائز نہیں۔۔
دوسری حدیث میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق میں اللہ تعالیٰ سے پختہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ ( صحیح مسلم) مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن کا ایک روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا نویں ذی الحجہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں۔۔۔
بارِالہ اِن ایام کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)