Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*محرم الحرام میں ہونے والے خرافات خلاف شریعت ہے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*۔مفتی زبیر احمد قاسمی*
۔اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے اور سال کا اختتام ذی الحجہ پر ہوتا ہے سال کا اختتام قربانی کا نمونہ پیش کرکے ہوا حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور اسماعیل ذبیح اللہ کی قربانی کا نمونہ پیش کرکے اس سنت ابراہیمی کو ہر سال ادا کیا جاتا ہے ابراہیم ؑقربانی پیش کرکے خلیل اللہ کے لقب سے ملقب ہوءے  جبکہ سال کے آغاز میں نواسہ رسول شیر خدا کے جگر کا ٹکڑا اور جنت کی خواتین کی سردار کا لخت جگر حضرت امام حسینؓ نے میدان کربلا میں اسلام کی سر بلندی کے لءے جام شہادت نوش فرما یا حتی ٰکہ آل حسین بھی شہید ہوءے حضرت حسین ؓنے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا ساتھ ساتھ انعام کے طور پر جنت کے جوانوں کے سردار کی لقب سے ملقب ہوءے دراصل اعلاءے کلمة اللہ کے لءے اور باطل کے پنجوں کو مروڑنے اور شریعت اسلامی کی حفاظت میں اللہ کے راستہ میں قربانا باعث سعادت ہے اس شہادت کی تمنا خود پیارے نبی ؐنے   فرماءیااور تاکیدا تین تین دفعہ  ارشاد فرمایا کہ میری تمنا ہیکہ میں اللہ کے راستہ میں شہید کیا جاوءں اور پھر میں خداکی قدرت سے زندہ کیا جاءوں یہ بات رسول اللہ ؐ نے تاکیدا تین تین دفعہ ارشاد فرمایا اسی طرح خلفاءے راشدین میں حضرت عمر ؓ دعاء فرماتے اے اللہ تیری راہ میں مجھے شہادت کی موت عطاء فرماں اور اور مجھے  موت رسول اللہ ؐ کے شہر میں عطاء فرماں ۔اسی طرح نواسہ رسول حضرت حسین ؓکے والد اور داماد رسول حضرت علی ؓ پر جب دشمنوں کی جانب سے قاتلانا حملہ ہوا تو آپ جام شہادت نوش فرمانے سے جو آخری جملہ ارشاد فرمایا وہ یہ تھا ۔رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا ۔مزکورہ بالا حدیث واجلہ صحابہ کی شہادت کی دعاء اور شہادت کے وقت کے جملہ سے یہ اندازہ ہوگیا کہ اللہ کے راستہ میں شہادت پر غم اور ماتم کرنا اور اسپر نوحہ خوانی سینہ کوبی تعزیہ داری بنوٹ واکھاڑے مصنوعی امام باڑوں کا طواف اور مصنوعی کر بلاء کی حاضری یہ تمام کے تمام عمل اگر حضرت حسین ؓکی شہادت پر محبت جسین اور حب آل رسول کی بنیاد پر کرتے ہیں تو یہ سراسر ناجاءز وحرام ہے نیز خلاف شریعت وسنت ہے اسلامی تعلیمات سے اس کا کوءی تعلق نہیں محرم میں شریعت سے صرف اس کا ثبوت ہے کہ عاشورہ کا روزہ رکھا جاءے اور چونکہ بنی اسراءیل بھی عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے کیونکہ حضرت موسیؑ کو عاشورہ کے دن ہی فرعون کی قوم سے نجات ملی تھی اور دریاءے نیل سے حضرت موسی ؑاور انکی قوم عبور کرگءی تھی اسلءے بنی اسراءیل عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے پیارے نبیؐ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اور بنی اسراءیل سے اس عبادت میں مشابہت سے بچنے کے لءے ارشاد فرمایاکہ اس عاشورہ کے ساتھ ایک روزہ خواہ ایک دوز قبل یا ایک روز بعد ہو نو یا گیارہ کو شامل کرکے دو روزے رکھنے کی تاکید فرماءی عاشورہ کا روزہ کا ثواب یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے گناہ کا کفارہ ہوگا ۔عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال کے کھانے میں فراوانی اور وسعت کر نے سے اسکی برکت سے پورے سال رزق میں برکت ووسعت کی امید کی جا سکتی ہے ۔مزکورہ بالا دوعمل نمبر ایک عاشورہ کا روزہ اور عاشورہ میں کھانے کی فراوانی کے عمل کے علاوہ کوءی بھی شریعت وسنت سے ثابت نہیں ہے ۔ یاد رکھیں حضرت حسین ؓ کی شہادت جس سر زمیں ومقام پر ہوءی اس سر زمین کا نام کربلا ء ہے اس کے علاوہ کسی بھی جگہ کو کربلاء نہیں کہا جاسکتا ہے اسی طرح مسلمانوں کعبة اللہ کے طواف کے علاوہ کسی بھی مقام کا طواف کرنا ناجاءزاور خلاف سنت ہے دیکھا یہ جا تا ہیکہ ایک ایک محلہ میں مختلف مقام پر ایک چبوترہ نما اہل محلہ نے اور ایسے لوگوں نے جو دین وشریعت اور عبادات سے کوءی تعلق عام طور پر نہیں رکھتے وہ لوگ اس کا امام باڑا اور چوک کے نام سے موسوم کرتے ہیں جس چوک کے ارد گرد خاص لباس پہنکر خاص حالت میں خاص دنوں تک اس کا چکر لگاتے ہیں جو سراسر نا جاءز وحرام ہے اور سنت نبوی اور صحابہ اور تابعین تبع تابعین  کے طرز عمل سے بھی اس کا کوءی ثبوت نہیں ہے الغرض محرم الحرام میں ہونے والے جملہ خرافات تعزیہ داری شربت نوشی علم برداری دستار بندی مصنوعی کربلاء کی حاضری چوک کے ارد گرد چکر لگانا پینک باندھنا یا بندھوانا یا علی یاحسین کے نعرے ملیدا اور روٹ کی پکوان یہ تمام کے تمام کام خلاف شریعت اور خلاف سنت ہے مسلمانوں کو اس سے احتراز لازم وضروری ہے