Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*محرم الحرام کے بدعات و خرافات اور آج کا مسلمان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*طارق اطہر حسین ، عبدالحمید نگر ، برن پور*

محرم میں شرک اور بدعات و خرافات امت میں زوال آنے کے بعد رفتہ رفتہ اس مہینہ میں بھی مختلف بدعات و خرافات انجام دی جانے لگیں۔ یہ صرف اس وجہ سے کہ اس مہینہ میں حضرت حسینؓ کی شہادت ہوئی۔ ان کی یاد میں یا حسین کے فلک شگاف نعرے، سیاہ لباس ،شادی سے اجتناب ،مساجد و مقابر کی زیارت ،ماتم ، مرثیہ خوانی اور نوحہ وغیرہ کی مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں ، ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے جس میں سینہ کوبی ، تلوار ، چاقو،زنجیر، خنجروغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے اور اسی طرح نیاز و فاتحہ، پانی کی سبیلیں لگانا ، حضرت حسینؓ کا اپنے بیٹے یا بھائی کو ’منگتا‘ بنانااور تعزیہ وغیرہ نکالنے کا اہتمام ہوتا ہے ۔ مردو زن کا اختلاط ہوتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ ان بدعات و رسومات کو دین کی خدمت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے۔

جب کہ اسلام نے ان تمام شرکیہ افعال اور بدعات و خرافات سے واضح طور سے منع کیا ہے اور ایسے موقع پر صبر سے کام لینے کی تعلیم دی ہے ۔

ہمارے لیے ’’نیوائیر‘‘ کی ابتدا محرم الحرام کے بابرکت مہینہ سے شروع ہوتی ہے، اور چونکہ ہم مسلمان زندگی گزارنے کے طور طریقوں کے معاملے میں مستقل ایک کامل تہذیب کے مالک ہیں،اس لیے ہمیں اپنی زندگی کی راہ ورسم میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری پن اختیار کرنا مسلمان کی مسلمانیت کے خلاف ہے، ہمیں کسی کے در پر جھکنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم تو خود ساری دنیاکوتہذیب وشائستگی کے آداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔ نئے مہینے کے استقبال کا اسلامی طریقہ یہ نہیں ہے کہ شرک و بدعات خرافات سے اس مبارک سال کا آغاز کیا جائے، اس مہینے میں اکثر جگہوں پر کار ثواب سمجھ کر کھچڑا پکانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ البدایہ والنہایہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: خوارج نے حضرتِ حسین کی شہادت کی خوشی میں کھچڑا پکایا تھا۔ تو پتہ چلا کہ کھچڑا پکانا اہل بیت سےاطہار دشمنی کی علامت ہے ، لھذا محبین اہل بیت کو اس سے بچنا چاہیے۔ مرثیہ گوئی،ماتمی مجلس، کالے رنگ کے کپڑے کا استعمال، تقسیم شیرینی، مچھلی کھا نے کو معیوب سمجھنا، اس دن سرمہ لگانے اور قبرستان جا نے کا خصوصی اہتمام سب بدعات و خرافات کا حصہ ہیں، اصل دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں، روافض اور اہل بدعت کی طرف سے اس ماہِ مبارک میں کچھ موضوع اور منگھڑت روایات بھی علی الاعلان بیان کی جاتیں ہیں اور ان کا خوب چرچا کیا جاتا ہے؛ حالانکہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائی، بہت بڑا جرم ہے، ایسے شخص کے لیے جہنم کی وعید ہے، ایک اور چیز جس کا رواج عام طور پر بہت زیادہ ہو چکا ہے‌ ماہ محرم الحرام کے اندر پائی جانے والی غلط رسومات و خرافات اور بدعات ہیں جن کے سبب اس ماہ مقدس کی نہ صرف بے حرمتی ہوتی ہے بلکہ اسلامی اقدار کا کھل کر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی دن یا زمانے میں کسی قسم کی نحوست نہیں رکھی گئی۔ ماہ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں، حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش واقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے، دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں ،اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور افراط وتفریط سے بچتے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے، آمین ۔


Latest News