Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مرکزی حکومت کے ذریعے وقف ایکٹ ۳۱۰۲ء میں ترمیم و تبدیلی کی کوششوں پر آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر اور مشہور عالم دین مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی کا رد عمل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

نئی دہلی 6/اگست(پریس ریلیز) مرکزی حکومت کے ذریعے وقف ایکٹ ۳۱۰۲ء میں ترمیم و تبدیلی کی کوششوں پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر اور مشہور عالم دین مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے تنظیم کی طرف سے جاری اخباری بیان میں کہا کہ بی جے پی حکومت جن چالیس ترمیمات کے ذریعے وقف ایکٹ ۳۱۰۲ء میں ترمیم کرتے ہوئے نیا وقف ترمیمی بل ۴۲۰۲ء پارلیمنٹ میں لانا چاہتی ہے، مسلمانان ہنداس کو ہر گز قبول نہیں کرسکتے۔ انھوں نے اس ترمیم و تبدیلی پر اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی منشا یہ ہے کہ ان ترمیمات کے ذریعے وقف کی حیثیت کو کمزور اور مجروح کردیا جائے اور ان اوقاف پر قبضہ کرنااور ان کا اپنے مفاد میں استعمال کرنا آسان ہوجائے، حکومت کا یہ عمل واقف کی منشا اور مقصد کے خلاف ہے، اس لیے حکومت اور سیکولر پارٹیوں سے ہماری یہ اپیل ہے کہ اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور نہ ہونے دیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وقف جائیدادیں ہم مسلمانوں کے اسلاف و اکابر کے دیے ہوئے وہ عطیات ہیں جو مسلمانوں کے مذہبی اور خیراتی امور کے لیے استعمال کرنے کے مقصد سے وقف کی گئی ہیں، اس منشا کے خلاف جو بھی قدم حکومت کے ذریعے اٹھایا جائے گا ہم اس کی پرزور مخالفت کریں گے اور اگر حکومت ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی ہے تو ہم مجبورا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے،مسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت کررہی ہے، نئے نئے بل لاکر مسلم اقلیت کو پریشان کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موقوفہ جائیدادوں کو واقف کی منشا کے مطابق ہی استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کی نیت خراب ہے، وہ نئی ترمیمات لاکر وقف کی حیثیت اور نوعیت کو بدل دینا چاہتی ہے، تاکہ اربوں کھربوں کی جائیدادوں پر حکومت یا کسی بھی فرد کے لیے قبضہ کرنا اور اس کو ہڑپ لینا آسان ہوجائے، ہم ایسی کسی بھی حکومتی کوشش کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو مسلمانوں کے شرعی امور میں مداخلت سے تعبیر کرتے ہیں، جو دستور میں مسلمانوں کو دیے گئے حقوق و مراعات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ مولانا عرفی قاسمی نے کہا کہ وقف ایکٹ ۳۱۰۲ء میں ترمیم کی ہر قسم کی کوشش کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور سیکولر پارٹیوں اور انصاف پسند برادران وطن خصوصا مسلم ممبران پارلیمنٹ سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اس بل کو پارلیمنٹ میں منظور نہ ہونے دیں۔  ورنہ اس کے بہت ہی سنگین اور خطرناک نتائج سامنے آئیں گے اور موقوفہ جائیدادیں ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں گی، جس کا خمیازہ مسلم اقلیت کو بھگتنا پڑے گا۔

پریس سکریٹری *،اسعد مختار*