Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*معروف سماجی کارکن اسرائیل خان کی رحلت پر قرآن خوانی و تعزیتی نشست*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

رانی گنج 19 اگست (پریس ریلیز) : رانی گنج کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت الحاج اسرائیل خان کی سانحۂ ارتحال پرانجمن امداد باہمی رانی گنج کی جانب سے گزشتہ۱۸؍ اگست ۲۰۲۲ء کو انکے ایصالِ ثواب کے لیے انجمن آفس میں صبح ساڑھے آٹھ بجے قرآن خوانی کا اہتمام ہوا نیز ماسٹر محمد کلیم اللہ صاحب کی صدارت میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب انجمن ہال میں کیا گیا۔جس میں نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نے بحسن خوبی نبھائی۔پروگرام کا آغاز نقیب رحمانی صاحب کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ سب سے پہلےمرحوم کے غم میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی بعد ازاں ادارہ کے جنرل سکریٹری ندیم شعبانی نے اسرائیل خان صاحب کا مختصراً تعارف بیان کیا نیز ان کے تئیں اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔ علاقے کے ایم ایل اے شری تاپس بنرجی کسی سبب اس نشست میں شامل نہ ہوسکے مگر انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں انکے انتقال پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کیا۔ سابق ایم ایل اے جناب رونو دتّہ نے مرحوم سے اپنے دیرینہ تعلق کے تجربات بیان کیے۔ سابق کاؤنسلر محترم عارج جلیس نے فرمایا کہ موجودہ صورت حال میں اسرائیل صاحب جیسا ماس لیڈر ملنا ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ انجمن امداد باہمی کی صورت میں انہوں نے جو چراغ روشن کیا ہے اسے مفاد پرستوں کی بری نظروں سے بچانا ضروری ہے۔ سابق کاؤنسلر محترمہ حنا خاتون فرمایا کہ بھلے ہی مرحوم سے ان کے سیاسی اختلافات رہے ہوں لیکن اُن کے گھر کی بہو ہونے پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے اُن وجوہات کی طرف بھی اشارہ کیا جس سے سبب انہوں نے اپنے شہر کے بجائے آسنسول میں دفن ہونے کو ترجیح دی۔ اہلیانِ شہر کی یہ بے حسی ہے کہ جب انہیں عوام کے ساتھ کی ضرورت تھی تو لوگوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔اسرائیل صاحب نے کبھی اپنے اصولوں سے سمجھوتا نہیں کیااور آخر تک اس پر قائم رہے۔ 

اس موقع پر گرودوارہ کمیٹی سے بلجیت سنگھ بگا، اندر سنگھ، رانی گنج چیمبر آف کامرس سے ربندر بھاٹیہ، دنیش گپتا، کنہیا سنگھ، رانی گنج سٹیزن فارم سے راجندر پرساد کھیتان،سابق وائس چیر مین محمد کلیم، کاؤنسلر آلوک بوس، مزمل حسین شہزادہ، اختری خاتون نیز کلول گھوش، ڈاکٹر شمشیر عالم و دیگر موجود تھے سبھوں نے ان کی وفات کو نہ صرف رانی گنج بلکہ پورے علاقے کا خسارہ قرار دیا اور کہا کہ آج کے دور میں ان کے جیسے مخلص اور کام کرنے والے سیاسی لیڈران کاملنا مشکل ہے۔

آخر میں ماسٹر کلیم اللہ کے صدارتی خطبے اور ابو حیدر پرویز کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔