

*مولانا توقیر رضا بریلوی کی گرفتاری پر امت کی مجرمانہ خاموشی: اتحادِ امت حقیقت یا سراب؟*
*ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین*
بریلی کی فضاؤں میں جمعے کی نماز کے بعد جو نعرہ بلند ہوا تھا، “آئی لَو محمد ﷺ”، وہ محض ایمان اور عقیدت کا اظہار تھا۔ لیکن ریاستی مشینری نے ایک سازش کے تحت اسے “فساد” کا نام دے دیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا، گھروں پر چھاپے مارے، درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، اور آل انڈیا اتحادِ ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا خاں بریلوی کو کلیدی ملزم قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ آٹھ مزید افراد کو مقدمات میں پھنسا دیا گیا، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، اور ہزاروں بے قصور مسلمانوں کو نشانے پر رکھا گیا۔ یہ سب محض ایک عقیدتی آواز کے جواب میں ہوا جو بھارت کی صدیوں پرانی تہذیبی روایت کے عین مطابق تھا۔ لیکن اس روایت کی جڑیں ہی ہلا دی گئیں، اور یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سخت گِری میں یہاں تک کہہ دیا: “بریلی کا ایک مولوی بھول گیا تھا کہ یہاں کس کی حکومت ہے، ہم انہیں ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی نسلیں یاد رکھیں گی۔” یہ جملہ درحقیقت اس پوری سیاست کا نچوڑ ہے جس میں قانون، آئین اور اجتماعی انصاف سب برہنہ ہوکر طاقت کے آلہ کار دکھائی دیتے ہیں۔
مولانا توقیر رضا کی گرفتاری کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سیاسی حربے کا حصہ ہے۔ ہر بڑی سیاسی کشیدگی کے دوران یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے: مسلمانوں کے عقیدے، جذبات اور رہنماؤں کو نشانہ بنانا، پھر ان پر سنگین الزامات لگا کر پورے طبقے کو دفاعی پوزیشن پر لے آنا۔ عدالت میں پیشی کے بعد انہیں چودہ (14) دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا جانا بظاہر ایک قانونی عمل کہا جا رہا ہے، لیکن قانون کے پردے کے پیچھے اصل کھیل طاقت اور دھونس کا ہے۔ یوگی حکومت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ مسلمان نہ تو اپنے عقیدے کا پُرامن اظہار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی قیادت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ پالیسی صرف مسلمانوں کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ انتخابی فائدے کے لیے ملک کے سماجی تانے بانے کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے لیے ہے۔
مولانا نے اپنی گرفتاری سے قبل جو ویڈیو جاری کیا، اس میں انہوں نے کہا تھا: “مجھے عتیق اور اشرف کی طرح گولی مار دو، میں محمد ﷺ کے نام پر مرنے کو تیار ہوں۔” یہ الفاظ کسی جوشیلے لیڈر کے نہیں بلکہ ایک زخمی دل کی پکار تھے، جو اپنی قوم کو جگانے کی آخری کوشش کر رہا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ قوم جاگی؟ کیا امت نے اپنے قائد کی گرفتاری پر ایک جسم کی طرح تڑپنے والا ردعمل دیا؟ افسوس کہ جواب نفی میں ہے۔ امت مسلمہ نے اپنی قیادت کو تنہا چھوڑ دیا۔ نہ بڑے پیمانے پر احتجاج سامنے آیا، نہ قیادت کے تحفظ کے لیے کوئی عملی حکمتِ عملی اپنائی گئی۔ کچھ رسمی بیانات، کچھ کاغذی مذمتیں، اور چند سوشل میڈیا پوسٹس۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ وہ خاموشی ہے جو دشمن کے لیے سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا متنازع بیان محض ایک دھمکی نہیں، بلکہ امت کے ضمیر کو ہلا دینے والی للکار ہے۔ “یہاں کس کی حکومت ہے” – یہ جملہ مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں اور ان کی قیادت کو جیلوں اور عدالتوں کے شکنجے میں کچلا جا سکتا ہے۔ مگر اس للکار کے جواب میں امت کی خاموشی یہ بتا رہی ہے کہ وہ اپنی اجتماعی غیرت کھو بیٹھی ہے۔ اتحادِ امت کے پُرجوش نعرے جلسوں تک محدود رہ گئے ہیں اور جب کوئی حقیقی امتحان آن کھڑا ہوتا ہے تو سب ایک دوسرے کو کونے سے دیکھنے لگتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا توقیر رضا اور ان کے ساتھی مسلمانوں کے مسئلے میں کوئی پہلا نشانہ نہیں ہیں۔ اس سے قبل متعدد مواقع پر آزاد قیادت کو اسی طرز کے مقدمات، نظر بندیوں اور جھوٹے الزامات کا شکار بننا پڑا۔ جب قیادت کو بار بار نشانہ بنایا جائے اور عوام بار بار خاموش رہیں تو آہستہ آہستہ قیادت کا خلا پیدا ہوتا ہے۔ پھر ریاست وہی خلا اپنی مرضی کی “کٹھ پتلی شخصیات” سے بھرتی ہے جو زبان کھولنے سے پہلے اجازت لیتے ہیں اور اسلام یا مسلمانوں کے مسائل پر لب کشائی کرنے سے کتراتے ہیں۔ اصل قیادت کو مٹا کر مصنوعی نمائندے کھڑے کرنے کی یہ پُرانی یلغار اب ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ مگر امت میں اس کو سمجھنے اور پہچاننے کی جُرأت تک باقی نہیں رہی۔
یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ بھارت کے جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے۔ جب عقیدت کے ایک سادہ نعرے کو “فساد” کہا جا رہا ہے، جب سیکڑوں بے قصور افراد کو بغیر ثبوت کے ایف آئی آر میں کھپایا جا رہا ہے، جب انٹرنیٹ کا گلا گھونٹ کر سچائی کو دبایا جا رہا ہے، تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی بے حُرمتی ہے۔ ایسے اقدامات سے قوم کے دل میں بے اعتمادی اور ریاستی اداروں کے تئیں خوف پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر یہ خوف محض مسلمانوں تک رہتا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے سوچنے سمجھنے والے طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
امت کو اگر اب بھی یقین ہے کہ اتحادِ امت کوئی حقیقت ہے تو یہی وقت ہے کہ وہ اس پر عمل کرے۔ کیونکہ اتحاد کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ مولانا توقیر رضا جیسے رہنما کے ساتھ کھڑا ہوا جائے، ان کی گرفتاری کو اپنی بے بسی کا استعارہ نہ بننے دیا جائے۔ اگر آج بھی خاموشی کو ترجیح دی گئی تو آنے والی نسلوں کو یہی پیغام ملے گا کہ اتحادِ امت محض ایک نعرہ تھا، ایک سراب جس کے پیچھے لوگ بھاگتے رہے مگر اپنی پیاس کبھی نہیں بجھا سکے۔
مولانا کی گرفتاری سے یہ بات پھر ثابت ہو گئی ہے کہ ظلم سے زیادہ خطرناک ہے جو مظلوم کو گھرا دیکھ کر تماشائی بن جاتی ہے۔ اگر امت نے آج بھی اپنے ذہن و ضمیر کو جھنجھوڑ نہ لیا تو یہ سراب کل اس کے مکمل بکھراؤ کی تاریخ لکھے گا۔ اتحاد یا تو حقیقت کا روپ دھارے، یا پھر ہمیشہ کے لیے کتابوں میں ایک کھوکھلا خواب بن کے رہ جائے۔
*نوٹ* : مضمون میں مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔










