Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مولانا جلال الدین عمری رحمت اللہ علیہ—ایک عظیم مربي ایک عظیم رہنما*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آسنسول 29 لگست (پریس ریلیز): جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر سید جلال الدین عمری کی رحلت پوری ملت اسلامیہ کے لئے نا قابل تلافی خسارہ ہے –

مرحوم اپنے دور طالب علمی سے ہی جب کہ آپ جنوبی ہند کی معروف دینی درسگاہ جامعہ دالسلام عمر آباد میں زیرِ تعلیم تھے’ جما عت اسلامی کی تحریک اقامت دین سے متعارف ہوئے اور شامل کارواں ہوگئے

پھر آپکی سرگرمیاں اتنی بڑہیں کہ آپکا وجود

اسکو چھٹی نہ ملی جسکو سبق یاد رہا کے مصداق ہو گیا – جامعہ عمر آباد سے فارغ ہوکر آپ مرکز جماعت اسلامی ہند رامپور تشریف لے گئے –

مولانا مرحوم ایک طویل عرصے تک جماعت کی مجلس نمائندگان اور مجلسِ شوریٰ کے رکن رہے 1990 تا مارچ 2007 تک نائب امیر جماعت اور اس کے بعد مارچ 2019تک امیر جماعت اسلامی ہند تھے- آپ کی جہد مسلسل اور انتھک کوششوں سے پورے ملک و ملت میں جماعت کو نمایاں پہچان ملی –

امارت کی گرانبار ذمّہ داری ہے سبکدوش ہونے کے بعد موجودہ میقات میں آپ جماعت کی شرعیہ کونسل کے چیئرمین تھے –

مولانا موصوف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر ‘ شمالی ہند کی معروف درس گاہ جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ کے شیخ الجامعہ اور سراج العلوم نسواں کا لج علی گڑھ کے سرپرست اعلیٰ تھے نیز بہت سے دوسرے علمی اداروں سے بھی ا پ وابستہ رہے –

وہاں آپ نے 1956 میں جماعت کے شعبہ تصنیف سے وابستگی اختیار کی – آغاز سے 2001 تک آپ اس ادارہ کے سیکریٹری رہے اُسکے بعد سے زندگ کے آخر تک صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے

ادارہ کے ترجمان ‘ تحقیقات اسلامی ‘ کے آپ بانی مدیر بھی رہے –

مولانا عمری ایک عظیم داعی اور منتظم کےساتھ ایک بلند پایہ مصنف بھی تھے – با وجود اپنی تحریکی و تنظیمی مصروفیات کے اپنے مختلف موضوعات پر چالیس سے زائد کتابین تصنیف کیں – جن میں سے متعدد کتابوں کے ترجمے عربی ‘ انگریزی ‘ ترکی ‘ کے علاوہ دیش اور دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں –

مجھے وہ دور آج بھی یاد ہے جب 1998میں مولانا جماعت اسلامی ہند آسنسو ل کی خواہش پر یہاں تشریف لائے تھے – اس وقت آپ نائب امیر جماعت تھے – شہر کے مختلف مقامات پر ٹی پارٹی ‘ علماء اور دانشوروں سے ملاقات ‘ پریس کانفرنس ‘ اور خطاب عام کے ذریعہ باشندگان شہر و مضافات اسنسو ل کو مرحوم کے مواعظ حسنہ سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا – مولانا کی شگفتہ مزاجی اور نرم گفتاری اُن کی سیرت کا خاصہ تھی – جب بھی کوئی ان سے سوال کرتا تو بہت ذمّہ داری سے جواب دیتے مجلسِ کے ایک ایک فرد کو بڑی اہمیت دیتے کسی کو فراموش نہیں کرتے -انکے کردار کی یہ خوبیاں تا دیر یاد رہینگی –

اللہ تعالی ملک و ملت اور وابستگان جماعت کو انکا نعم البدل عطا فرماے

 

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ نیک طینت را

*طالب دعا

مشتاق احمد،

جماعت اسلامی ۔ آسنسول*