مٹی کوبچانے کی تحریک لے کربذریعہ سائیکل کرشنانگر سے کوئمبٹورکیلئے پیشے سے فنکار پلاش پائیک روانہ ہوئے ہیں.گذشتہ 7اگست سے انکا سفر شروع ہوا ہے.جمعرات کے دن وہ بنگال جھاڑکھنڈ کی سرحد کے پرانا کلیانیشوری مندر کے نزدیک دونمبر قومی شاہراہ کے ذریعہ اپناسفر جاری رکھا.اسی دوران میڈیاکے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قریب 8000کیلومیٹر کی مسافت طئے کامقصد کاشتکاری والی زمین کی حصولیابی ہے.ان زمینوں پر جراثیم کش دواؤں کابےتحاشہ استعمال سے اسکی زرخیزی ختم ہوگئی ہے,اسے دوبارہ اپجاؤ کے لائق بنانے کی آواز اٹھائے ہیں.وہ اپنے سفر کے دوران سیدھا کوئمبٹور کے ایشا فاؤنڈیشن نہیں پہنچنا چاہتے ہیں.انکے سفر کے راستے میں کاشی وشواناتھ,کیدارناتھ اور مہاکالیشور مندر کے درشن بھی شامل ہیں.مٹی بچاؤ کی آواز لگاکر پیشے سے آرٹسٹ پلاش پائیک نے بتایا کہ پینٹنگ انکا محبوب مشغلہ ہے.بچوں کو تصویر بنانے میں وہ مدد کیا کرتے ہیں.اسکے علاوہ آرٹ کے چھوٹے بڑے کام بھی کیاکرتے ہیں.انہوں نے بتایا کہ سفر کے دوران کچھ پریشانیاں توضرورپیش آرہی ہیں مگر لوگوں کا تعاؤن بھی بے شمار مل ریا یے.انکا کہنا ہے کہ ٹرافک پولس انکی مدد کیلئے ہر جگہ ہاتھ پڑھارہے ہیں.


















