چترنجن دیش بندھو ودیالہ ہندی میڈیم (ڈی بی بواءز اسکول)ریلوے اسکول کے 12ویں جماعت کے 7طلبہ پر یہ الزام لگا یا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے پی جی ٹی تاریخ کے معلم آونی کمار بورا کی موٹر سائیکل میں آگ لگادی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ جب تک آگ پر قابو پایا جاتا باءیک جل کر خاک ہوچکی تھی۔ٹیچر نے اپنی گاڑی اسکول کے صدر دروازے کے قریب ایک درخت کے نیچے کھڑی کی تھی۔واقعہ کی خبر پاکر آر پی ایف اور پولس کی ٹیم پہنچی اور چھان بین شروع کی۔خاطی طلبہ پر کاروائی کے لیے معلم نے پولس میں شکایت درج کرائی ہے۔قصور وار طلبہ میں راہل کمار یادو،منا ساءو،سمیت کمار،راہل بالمیکی،آدتیہ کمار،سجیت کمار،آویناش رام شامل ہیں۔واقعہ سے متعلق معلم آونی کمار نے بتایا کہ شریر طلبہ نے ڈھائی ماہ قبل اسکول کی چہار دیواری منہدم کر دی تھی۔سی سی ٹی وی کیمرے توڑ ڈالے،مارکس کم دینے پر انگریزی کے استاد ڈاکٹر سی دتہ پر حملہ کیا۔انکی شکایت چریکا کے اعلی عہدیداران سے کی گئی ہے۔ان کے گارجین کو بھی اسکول بلا یا گیا ہے لیکن وہ نہیں آءے۔آج صبح جب میں نے پروجیکٹ جمع کرنے کو کہا ان طلبہ صاف طور پر کہا کہ جمع نہیں کریں گےپھر بعد میں کہا کہ کل جمع کریں گے۔اس کے بعد ہی ان لوگوں نے موٹر سائیکل میں آگ لگادی اور فرار ہوگیے۔واقعہ کے بعد اسکول کے چوکیدار اور ایک دیگر استاد نے انہیں خبر دی۔پانی اور سیز فاءر کے ذریعہ آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔لیکنآگ اس قدر تیزی کے ساتھ پہیلی کہ تمامکاوش رایگاں ثابت ہویی۔آخر میں ڈمکل محکمہ کو خبر دی گئی۔فاءر انجن کی گاڑی نے آگ پر قابو پایا۔قصور واروں میں منا ساؤ ،سمیت کمار اور راہل یادو غیر ریلوے طلبہ ہیں جبکہ آدتیہ،سجیت راہل بالمیکی اور آویناش ریلوے ملازمین کے بیٹے اور اسکول کے طلبہ ہیں۔بتایا جاتا ہے کو راہل دمکا جیل میں 2ماہ قید تھا۔اس پر مویشی تسکری کا الزام ہے۔جیل سے رہائی کے بعد اس نے اسکول میں داخلہ لیا۔واقعہ کے وقت وہ اسکول یونیفارم میں نہیں تھا۔اسے اسکوٹی لے کر بھاگتے سب نے دیکھا ہے۔ان میں آدتیہ اور راہل یادو کرمی پاڑا،منا ساءو پوکھر تلہ،سمیت کمار اور سرجیت کمار کانگوی مہی جام کا رہنے والا ہےجبکہ آویناش رام اور راہل بالمیکی اسٹریٹ نمبر 38چترنجن کا رہنے والا بتایا جارہا ہے۔اسکول کا تیسرا واقعہ تھرڈ پریڈ کے دوران تقریباً 9بجے صبح رونما ہوا۔سال 2003ماڈل کی ٹی وی ایس فیرو باءیک نمبر WB/38/L/0127 کو آگ میں پھونک دیا گیا۔واقعہ سے قبل استاد اپنی موٹر سائیکل وہاں کھڑی نہیں کرتے تھے بلکہ اسکول کے اندر اسٹینڈ میں کھڑی کرتے تھے۔غنیمت رہی کہ بایک میں کوئی دھماکہ نہیں ہوا اور نہ ہی اس پاس کوءی دوسری گاڑی کھڑی تھی۔واقعہ پر دانشور طبقہ نے اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوءے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے۔ان لوگوں نے کہا کہ شریر طلبہ،لاپرواہ گارجین اور اسکول کے کچھ اساتذہ کی وجہ کر اسکول کا تعلیمی ماحول خراب ہورہا ہے۔ کئی طلبہ گھر بھاگنے کے فراق میں اپنی اسکوٹی اسکول کے پیچھے گیٹ کے باہر کھڑی کرتے ہیں تاکہ انہیں اسکول سے بھاگتے ہوئے کوئی دیکھ نہ سکے۔














