Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*”آسنسول دستک”نیوزچینل وپورٹل کے قیام کےایک سال مکمل ہونے پر سرزمینِ آسنسول میں پہلی بار خواتین کامشاعرہ,کتاب اور رسالے کااجراءکے ساتھ ایوارڈکی تقسیم تاپش بنرجی اور وسیم الحق سمیت دیگر عملی,ادبی,سماجی وسیاسی شخصیتوں نے کی شرکت*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

برن پور : بہادر انسان اپنے فیصلے سے دنیابدل دیتاہے.اس بات کو ایک مرتبہ پھر سچ کردکھایا ہے مقامی نیوز چینل وپورٹل “آسنسول دستک”کے روح رواں,بے لوث سماجی خدمتگار,وارڈ 98کی کونسلر اور آسنسول ساؤتھ بلاک مہیلا ترنمول کانگریس صدر کہکشاں ریاض خوشی نے.اپنے نیوزچینل آسنسول دستک کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں اتوار کی شام آزادنگر ,برنپور میں واقع ماہی بینکویٹ ہال میں ایک تاریخ ساز اورپروقار رنگارنگ پروگرام کاانعقاد کیا گیا.اخبارمشرق,آسنسول ایڈیشن کے انچارج اورمعتبر افسانچہ نگار ریاض اتکلی کی سرپرستی اور مبشر ریاض و محمد غفران کی مشترکہ کوششوً سے سرمین آسنسول میں پہلی بار خواتین کامشاعرےکاکامیاب انعقاد کیا گیا جسے سننے کیلئے اہل علم وادب اور سیاست کی نمائندہ شخصیتوں کے ساتھ غیراردوداں خواتین کی بڑی تعداد موجود رہی.پہلے دور کے پروگرام کی شروعات معروف شاعر وادیب انظارالبشربارکپوری کے نعت پاک سے ہوئی.بعدازاں مترنم آواز کےمالک نوجوان ابوفیضان نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈائس پر جلوہ افروز آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق کی شان ایک پیاری سے نظم پیش کیا.کولکاتہ سے تعلق رکھنے والی معتبر قکلمکار ڈاکٹر مظفرنازنین نےانظارالبشر کی نئی کتاب غلوانا پر اردو,انگریزی اور بنگلہ تینوں زبانوں میں بہت ہی معیاری تاثرات پیش کئے. انظارالبشر بارکپوری کی شعری اور نثری کتاب “غلوانا”کااجراء مہمان خاص ڈپٹی مئیر وسیم الحق کے دست مبارک سے ہوا.اس کتاب کی قیمت یوں تو 300روپئے رکھی گئی تھی مگر ایک غیراردوداں نوجوان نے اسکی پہلی کاپی مبلغ 5000روپئے دے کر اپنے نام کیا جبکہ میزبان کہکشاں ریاض خوشی نے 3000روپئے کاچیک دے کر اسکی دوسری کاپی حاصل کی.یہی نہیں محفل میں موجود درجنوں سےزائد افراد نے 1000اور500روپئے ادا کرکے اس کتاب کی ایک ایک جلد اپنے نام کیا.پہلے دور کی نظامت آسنسول کے جواں سال نقیب,شاعروصحافی امتیازاحمد انصاری اپنے مخصوص لب ولہجہ میں انجام دئیے.اس موقعے پر آسنسول دستک کی معاونت کرنے والے کئی اداروں کے ذمہ دار اور مختلف شعبہ حیات میں سماجی خدمات انجام دینے والوں کو کہکشاں ریاض خوشی نے اپنے ہاتھوں سے بیچ,گلدستہ,شانہ زیب اور مومنٹو پیش کیا.دوسرے دور میں خواتین کامشاعرہ شروع ہوا جس کی صدارت شہر نشاط کولکاتہ کی معروف شاعرہ ڈاکٹر سیدہ مہناز وارثی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شاعرہ,ادیبہ اور رانی گنج ٹی ڈی بی کالج کی پروفیسر ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا بحسن وخوبی نبھائی.کولکاتہ سے تشریف لائی سیدہ درخشاں جمال نے بھرپور پردے کااہتمام کرتے ہوئے نعت پاک کانذرانہ پیش کیا.بعد ازاں اسی شہر سے تعلق رکھنے والی انیسہ صابری,شبانہ سید,بشریٰ سحر,رونق افروز کے علاوہ آسنسول برنپوراور رانی گنج کی نمائندگی کرنے والی شاذیہ نیازی غزالہ تبسم اور ناظم مشاعرہ ڈاکٹر صابرہ خاتون نے اپنی غزلوں اور نظموں سے سامعین کے دل جیت لئے.آصفہ خاتون نے شبینہ ادیب کے انداز میں اردونظم کے ذریعہ ڈھیروں دادوتحسین اور دعائیں حاصل کیا.دوران پروگرام رانی گنج اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اور اے ڈی ڈی اے چئیرمین تاپش بنرجی کے ہاتھوں آسنسول دستک کامشاعرہ اسپیشل میگزین کااجراء عمل میں لایا گیااور ان ہی کے ہاتھوں تمام شاعرات کی خدمت میں شانہ زیب,گلدستہ اور خوبصورت مومنٹو کانذرانہ پیش کیا گیا.اظہارتشکرکے دوران میزبان کہکشاں ریاض خوشی نے جہاں ایک طرف تمام شاعرات اور مہمانان خصوصی کاشکریہ ادا کیا وہیں آسنسول دستک کے اسپانسروں کے ساتھ سامعین کی صفوں میں تشرہف رکھنے والی نمائندہ شخصیتوں میں وارڈ نمبر 59کے کونسلر محمد ذاکر حسین,وارڈ 25کے کونسلر ایس ایم مصطفےٰ,مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے ارکان میں شامل انجنئیر خورشید غنی اور طلعت شہمید, وقیع منظر,سردار ربنواز صارم,شگوفہ تمنا,محمدایوب خان, ایڈوکیٹ سمیع اللہ,ایڈوکیٹ ,عطاءاللہ خان,الحاج ماسٹر شکیل احمد,شاہد پرویز,بلال خان,تبریز عالم بابو,محمد شمیم,ارباز ہاشم,ہیڈماسٹر انتصار خان,ماسٹر محمد سلیمان,ماسٹر سیف الاالسلام سیف,,شاہد برنپوری,ماسٹر محمد سلیمان,غزل سنگر محمد حفیظ,سید ابولفتح,ایس ٹی اخترودیگر لوگوں کاشکریہ ادا کیا.تمام شاعرات کی نمائندگی کرتی ہوئی ڈاکٹر مہناز وارثی نے صاف لفظوں میں کہا کہ جس طرح کی میزبانی کہکشاں ریاض خوشی اور ریاض اتکلی نے کی ہے آج سے قبل ایسی میزبانی اور ایساخلوص ومحبت کانذرانہ کسی نے پیش نہیں کیا.دوسری طرف انظارالبشر بارکپوری نے بھی اس حقیقت کااعتراف کھلے دل سے کیا کہ اگر انکی کتاب کااجراء کولکاتہ یاکسی دوسرے مقام پر ہوتا توبھی اسکی اتنی پذیرائی نہیں ہوتی جتنی پذیرائی اور محبتیں یہاں ملی ہیں.موصوف نے اہلیان شہر کے ساتھ کہکشاں ریاض اور ریاض اتکلی کی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا.