آسنسول : کولکاتہ آر جی کرمیڈیکل کالج اسپتال کی خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کےسانحہ کےخلاف اور مجرمین کی سزاکے مطالبے پر منگل کے دن آسنسول جی ٹی روڈ ہیڈ پوسٹ آفس کےنزدیک ترنمول کانگریس آفس کے سامنے احتجاجی جلسے کاانعقاد کیا گیا۔ترنمول کانگریس کے ریاستی سکریٹری وی شیو داسن داسو کی قیادت میں ہونے والے اس جلسے میں داسو کے علاوہ آسنسول کارپوریشن کے مئیر بدھان اپادھیا،چئیرمین امرناتھ چٹرجی،رانی گنج کے سابق ایم ایل اے سہراب علی،سابق ایم ایم آئی سی پورن ششی رائے،کونسلر اشوک ردرا،روپیش یادو،مرتنجئے مکھوپادھیا،سادھن رائے سمیت ترنمول کے دیگر رہنمااور ورکرس موجود رہے۔اس احتجاجی جلسے میں خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل واقعہ کے مجرمین کے لئے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا گیا۔ترنمول رہنماؤں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جو سانحہ رونما ہوا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔واقعہ کے 24گھنٹے کے اندر کولکاتہ پولس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔مگر محاذی اور بھاجپائی اصل مجرمین کو سزا دلوانا نہیں چاہتی ہےوہ لوگ اس واقعہ کو لے کر صرف سیاست کرنا چاہتی ہے۔اسی لئے ان لوگوں نے فوری طور پر سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔حالانکہ ریاست کی وزیراعلی ممتا بنرجی نے خود ہی کہا تھا کہ اگر سات دنوں کے اندر کولکاتہ پولس ملزمین کی گرفتاری نہیں کرسکی تو وہ خود اس معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کی وکالت کریں گی۔مگر بعد میں عدالت کی ہدایت پر معاملہ سی بی آئی کے حوالے کیا گیا۔مگر چار دن گذرجانے کے بعد بھی کولکاتہ پولس نے جس ایک ملزم کی گرفتاری کی تھی اس سے پوچھ تاچھ کے علاوہ سی بی آئی مزید کسی کو بھی گرفتار نہ کرسکی ہے۔ترنمول رہنماؤں نے الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ 14اگست کی رات محاذی اور بھاجپائی ورکروں نے آر جی کر میڈیکل کالج واسپتال میں ہنگامہ اور توڑپھوڑ مچائی تھی۔ان رہنماؤں کا صاف کہنا تھا کہ ممتابنرجی کی حکومت میں ریاست کی خواتین سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔بھاجپائی ریاستوں کاحوالہ دیتے ہوئے ترنمول رہنماؤں نے کہا کہ ان ریاستوں میں اس طرح کے واقعات ہونے کے بعد مجرمین کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ 

















