ای سی ایل کے ریت سے لدے ٹرک کی لاپرواہی نے ایک بار پھر تباہی مچا دی۔ منگل کے روز اَنڈال تھانہ کے تحت پڑاشکول (بھوت بنگلہ کے قریب) میں ایک بے قابو ٹرک نے دو گھریلو مویشیوں کو کچل ڈالا، جس کے بعد موقع پر ہی ان جانوروں کی موت ہوگئی۔جانوروں کے غم و غصے میں مقامی لوگوں نے ٹرک کو گھیر کر شدید توڑ پھوڑ کی اور ای سی ایل انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اطلاع ملتے ہی اَنڈال تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو کنٹرول میں کیا۔
مقامی باشندوں کے مطابق پڑاشکول میں پدمابتی مندر کے پاس سے بہولا-کاجوڑہ سڑک کے ذریعے روزانہ درجنوں ای سی ایل کے ریت سے لدے ٹرک گزرتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ان ٹرکوں میں نہ تو فٹنس سرٹیفکیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی انشورنس، اس کے باوجود ای سی ایل جیسا بڑا سرکاری ادارہ انہیں سڑکوں پر دوڑنے دے رہا ہے، جو کہ ایک سنگین لاپروای ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق منگل کے روز حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹرک کا بریک فیل ہوگیا اور بے قابو ہوکر جانوروں کو ٹکر مار دی۔ جانیں لینے والا جس ٹرک نے حادثہ کیا اس کے سارے کاغذات — فٹنس، انشورنس — زائدالمیعاد ہو چکے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے خراب حال ٹرک سڑکوں پر دوڑتے رہے تو آج جانور مرے ہیں کل کو انسان بھی جان کی بازی ہار سکتا ہے۔
مقامی رہائشی راجناتھ آہیر نے میڈیا کو بتایا کہ جانوروں کے نقصان کا ہرجانہ ٹرک مالک سے طلب کیا گیا ہے۔ اُن کے مطابق وقت پر گاڑی کی مرمت اور کاغذوں کی تازہ کاری نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری ٹرک مالک پر عائد ہوتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ آخر ای سی ایل انتظامیہ ایسے غیر قانونی گاڑیوں کو سڑک پر دوڑنے کی اجازت کیسے دے رہا ہے؟
حادثے کے بعد کافی دیر تک سڑک پر بھیڑ جمی رہی۔ پولیس کے آنے پر حالات پر قابو پایا گیا۔ جب ٹرک کے مالک منوج اگروال سے فٹنس و انشورنس کے کاغذات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کچھ بھی بولنے سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف ای سی ایل کے کسی بھی افسر نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ ای سی ایل اپنے ریت سے بھرے ٹرکوں کے کاغذات، مرمت اور رفتار پر سخت نگرانی کرے، بصورت دیگر جلد ہی کوئی بڑا جانی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔





























