Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سلام بن رزّاق کے ہاتھوں انور مِرزا کے افسانچوں کے مجموعہ’’شام غریباں‘‘ کی رسمِ اجرا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*رپورٹ :  مختار خان*

گزشتہ 21 نومبر، منگل کی شام نوی ممبئی میں مشہور افسانہ نگار سلام بن رزاق کی رہائش گاہ پرایک ادبی نشست میں انور مرزا کے افسانچوں کے مجموعہ ’’شام غریباں‘‘ کی رسمِ اجراء برِ صغیر کے نامور ادیب سلام بن رزاق کے ہاتھوں عمل میں آئی۔
تقریب میں ممبئی اور مضافات سے انور مرزا، منیرہ سورتی، وقار قادری، اسلم پرویز، رحمان عباس، اشتیاق سعید، قاسم ندیم، شاداب رشید اور مختار خان  موجود تھے۔
مجموعے میں شامل ’شامِ غریباں‘ ، ’سامان‘ اور’صادق‘ وغیرہ افسانچے وقار قادری اور انور مِرزا نے پڑھے ۔ اس کے بعد گفتگو میں قاسم ندیم نے کہا کہ ’دورحاضر میں افسانچے بہت زیادہ لکھے جا رہے ہیں۔ جن میں زیادہ تر تجرباتی اور غیرمعیاری ہوتے ہیں لیکن انور مرزا کے افسانچے اپنی ایک مختلف پہچان لیے ہوتے ہیں جن میں گہرے معنی پنہاں ہوتے ہیں۔
قاسم ندیم کی اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ’’اردو میں آج کل ناولوں کا ریلا آیا ہوا ہے۔ لفظ ’ریلا‘ پر ناول نِگار رحمان عباس نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ’’اردو کا اکیڈمیک شعبہ بڑی چالاکی سے ادبی ڈسکورس میں اس طرح کے ٹرمس کا استعمال کرکے گمراہیوں کو پھیلا تا ہے جب کہ اردو میں آج بھی بہت کم ناول لکھے جا رہے ہیں۔‘‘ اسلم پرویز اور مختار خان نے رحمان عباس کی بات کی تائید کی۔
منیرہ سورتی نے پیش کردہ افسانچوں میں زبان کی خوبصورتی اور مکالموں کا ذکر کیا ،ساتھ ہی ’ہیپّی اینڈنگ‘ والی کہانیوں کو اور بھی زیادہ ایکسپلور کرنے کی ضرورت پر توجہ دینے کی بات کہی۔ جس کے جواب میں اسلم پرویز نےاظہارِ خیال کیا کہ شاید یہ بچّوں کاادب اور ویب سیریز زیادہ لکھنے کا اثر ہو۔
افسانچوں کی جانب رجحان سے متعلق اسلم پرویز کے اِس دلچسپ جملے پر خوب قہقہے لگے جب انہوں نے کہا کہ’’انور مِرزا کے پاس تخلیقی صلاحیت کی تلوار ہے مگر وہ اس تلوار سے پیاز کاٹ رہے ہیں!‘‘
مختارخان نے ان کے افسانچوں میں آفاقی قدروں کی بات کہی۔ انور مرزا نے اپنے افسانوں/افسانچوں کے بارے میں کہا کہ وہ بہت محتاط ہو کر افسانے یا افسانچے لکھتے ہیں، تخلیقات کی تعداد بڑھانے کے لیےنہیں، اس کے علاوہ بیشتر وہ مکالموں کے ذریعے ہی اپنی کہانی کہتے ہیں۔
آخر میں سلام بن رزاق نے وارث علوی کا حوالہ دیتے ہوئے افسانچوں کے حوالہ سے کُکرمتے والی بات کہی۔ اور کہا کہ بعض سہل پسند نیز سستی شہرت کے متمنی نام نہاد قلمکاروں نے اس صنف کو بدنام کیا اور خرابیاں پیدا کی ہیں۔ ان دنوں افسانچے کے نام پر احمقانہ کہانیاں بہت لکھی جا رہی ہے۔ کسی بھی صنف کے لیے تخلیقیت اور تخلیق کی پائیداری بہت ضروری ہے۔ افسانچے میں حیران کرنے والا عنصر بھی لازمی ہے۔ انور مرزا کے یہاں یہ باتیں نظر آتی ہے اس لیے انہیں لگاتار لکھتے رہنا چاہیے۔
اس تقریب کی ویڈیو ریکارڈنگ اور یو ٹیوب  پر لائیو دِکھانے کا فریضہ شاداب رشید نے ادا کیا۔