Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*شعبہ اردو، قاضی نذ رل یونیورسٹی میں یک روزہ سمینار اور دیوار گیر مجلہ کی رسم رو نماٸی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آسنسول،  ریاست  مغربی بنگال کے  ضلع مغربی بردوان میں  واقع  قاضی نذرل یونیورسٹی آسنسول میں  شعبہ اردو کی جانب سے  قاضی نذرالاسلام کی عصری معونیت  کے عنوان سے  سمینار کا  انعقاد مورخہ 20  جولاٸی کو   کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر عمر غزالی ( ہگلی محسن کالج) نے کی جبکہ نقابت ڈاکٹر فاروق آعظم کوارڈینیٹر قاضی نذر ل شعبہ اردو نے کی اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوۓ  لاٸبریری ابھیجیت بھٹاچاریہ نے شعبہ اردو کے سبھی اساتذہ خصوصاً کواڈینیٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا آج ان سبھوں کی محنت سے شعبہ اپنی ترقی کے منازل طے کر رہا ہے سمینار کا آغاز شعبہ اردو کے ایم اے سال دوٸم کی طالبہ نے ایک نظم سے کیا،
سمینار کے دوران دیوار گیر مجلہ  کی رنماٸی کرتے ہوۓ یونیورسیٹی کے واٸس چانسلر پروفیسر دیبا شیش بنرجی نے کہا کےاردو ایک شیریں زبان ہے انہوں نے اردو کو عربی ،سنسکرت اور فارسی سے جوڑا،انہوں شعبہ اردو کے سبھی طلبہ سے گزارش کے وہ خوب دل لگاکر پڑھیں اور آعلیٰ عہدوں پر فاٸز ہوں،انہوں نے طلبہ سے یہ بھی گزارش کی کہ ایک اچھا طالب علم کے ساتھ ا یک اچھا انسان بھی بنیں اور اردو کی ترقی و فروغ میں بھی سرگرم کردار ادا کریں  ،اس موقع پر یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر سجل بھٹا چار یہ اور یونیورسیٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر چندن کنار نے بھی سمینار سے خطاب کیا اور طلبہ کو نصیحت کی اور یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے کوارڈینیٹر ڈاکٹر فاروق آعظم کو مبارکباد پیش کیا۔  سمینار میں کل دس مقالے پڑھے گئے  پہلے اجلاس میں شعبہ اُردو کی سابق طالب علم عصمت جہاں نے اپنا مقالہ قاضی نذ را لاسلام بنگلہ ادب کے لافانی ادیب اور سال اوّل کی طالب علم کاٸنات حسین نے اپنا مقالہ بعنوان قاضی نذرالاسلام  کی نظم بدروہی کا جائزہ پیش کیا ،سال اٶل کی طالبہ  صاحبہ پروین نے   قاضی نذر الاسلام  کی شاعری میں احتجاج کے عنوان سے مقالہ    پڑھا، جبکہ احتشام مرتضیٰ نے قاضی نذر الاسلام  کی شاعری میں قومی یکجہتی اور آشنا خاتون نے قاضی نذر الاسلام شاعر انسانیت کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا اور  کاشف اقبال   نے قاضی نذرالاسلام  شاعر انقلاب کے عنوان سے مقالہ پیش کیا،  سمینار کے دوسرے اجلاس میں  سال دوٸم کی طالبہ  حسینہ آفرین نے قاضی نذرالاسلام  اور “شعری مجموعہ اگنی وینا  کا مطالعہ  ” پیش کیا،تیغیہ پروین نے عہد حاضر میں نذر الاسلام کی گیتوں کی معنویت اور فرح ناز نذرالاسلام کے افسانوں کی عصری معنویت کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا،صدر سمینار ڈاکٹر عمر غزالی نے تمام مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزاٸی کرتے ہوۓ انہیں مبارکباد پیش کیا اور آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ڈاکٹر فارق آعظم کی کوششوں کو سراہا،اورسمینار کی کامیابی کے لیے مبارکباد دی،اخیر میں شعبہ اردو کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد فاروق اعظم نے اس کامیاب سیمنار کے لئے شعبہ اردو کے طلبا وء و طالبات اور شعبہ اُردو کے سبھی مہمان اساتذہ ڈاکٹر شکیل احمد خان،ڈاکٹر شفیع الرحمن ،ڈاکٹر صوفیہ محمود ،ڈاکٹر رضا مظہر انصاری ،ڈاکٹر نغمہ پروین ،ڈاکٹر نکہت پروین کا شکریہ ادا کیا ۔