خانہ کعبہ کے غلاف یکم محرم الحرام کو تبدیل کیا جائے گا، عرب میڈیا کے مطابق تبدیلِ غلافِ کعبہ کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں.
خانہ کعبہ دنیا کا پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے زمین پر بنایا ہے، خانہ کعبہ مسجد حرام کے بیچ و بیچ میں واقع ہے،
خانہ کعبہ کی اونچائی 15 میٹر ہے تاہم اس کی چوڑائی ہر جانب مختلف پیمائش رکھتی ہے۔ مغربی جانب اس کی چوڑائی 12 میٹر اور گیارہ سینٹی میٹر ہے۔ مشرقی جانب اس کی چوڑائی 12 میٹر اور 84 سینٹی میٹر ہے۔ جنوبی جانب خانہ کعبہ کی چوڑائی 11 میٹر اور 52 سینٹی میٹر اور شمالی جانب 11 میٹر اور 20 سینٹی میٹر ہے۔ خانہ کعبہ کے ایک کونے پر حجر اسود لگا ہوا ہے، اسی کے سامنے سے طواف شروع کیا جاتا ہے۔ دوسرے کونے کا نام رکن عراقی ہے، جہاں سے حطیم شروع ہوتا ہے۔ تیسرے کونے کا نام رکن شامی ہے، جہاں حطیم ختم ہوجاتا ہے۔ اور چوتھے کونے کو رکن یمانی کہا جاتا ہے۔ خانہ کعبہ کے اندر تین ستون ہیں۔ کعبہ کے اندر رکن عراقی کے پاس سیڑھیاں ہیں، جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ حدیث میں ہے کہ خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑنے پر جو دعا مانگی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔
غلاف کعبہ اور عربی میں كسوة الكعبة، خانہ کعبہ کی دیواروں اور دروازہِ کعبہ کو جس کپڑے سے ڈھانپا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں۔ اس کی ابتدا اسلامی روایات کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی تھی۔ خانہ کعبہ ہمارا قبلہ ہے اور انتہائی مقدس مقام ہے۔ پوری دنیا کے مسلمان اس کی طرف رخ کرکے نماز جیسی مقدس عبادت ادا کرتے ہیں، چوبیس گھنٹے طواف کرتے ہیں اور ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 تا 12 تاريخ کو کعبہ کا حج ادا کرتے ہیں، اور حج اسلام کا پانچواں رکن ہے.
امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت سے اہل علم سے یہ بات پہنچی ہے کہ سب سے پہلے جس نے کعبہ کو مکمل غلاف چڑھایا وہ تبع اسعد الحمیری تھے، ان کو خواب میں نظر آیا کہ میں کعبہ کو غلاف چڑھا رہا ہوں، لہٰذا انہوں نے چمڑے کا غلاف چڑھایا، پھر انہیں خواب میں دکھائی دیا کہ اور غلاف چڑھائیں تو انہوں نے یمن کے بنے ہوئے سرخ دھاری دار کپڑے کا غلاف چڑھایا، تبع اسعد الحمیری کے بعد دور جاہلیت میں بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے وقت میں خانہ کعبہ پر غلاف چڑھائے، کیونکہ اسے دینی فریضہ خیال کیا جاتا تھا، البتہ یہ قید نہ تھی کہ کب چڑھایا جائے اور کیسا چڑھایا جائے، کعبہ کو مختلف قسم کے کپڑوں کے غلاف چڑھائے جاتے رہے، مثلاً چمڑے کا غلاف، معافر یعنی یمن کے علاقے ہمدان کی بستیوں میں تیار شدہ کپڑے کا غلاف، اسی طرح یمن سے بنے ہوئے سرخ دھاری دار کپڑے کا غلاف، ہلکے اور باریک قسم کے کپڑے کا غلاف اور یمن کے کامدار کڑھے ہوئے کپڑے کا غلاف وغیرہ. شروع میں غلاف اوپر تلے کعبہ پر ڈال دئیے جاتے تھے، جب زیادہ بوجھل ہو جاتے یا کوئی غلاف زیادہ پرانا ہو جاتا تو اسے ٹکڑے کر کے تبرکاً تقسیم کر دیا جاتا، یا دفن کر دیا جاتا. دور جاہلیت میں قریش باہمی تعاون سے غلاف تیار کرتے تھے، ہر قبیلے پر اس کی مالی حیثیت کے مطابق رقم مقرر کر دی جاتی تھی ، قصَی کے دور تک یہی طریقہ کار تھا، حتی کہ ابو ربیعہ بن مغیرہ مخزومی کا دور آیا وہ تجارت کی غرض سے یمن آیا جایا کرتا تھا وہ بہت مالدار تھا اس نے اعلان کیا کہ ایک سال میں اکیلا غلاف چڑھایا کروں گا اور ایک سال قریش مل کر، وہ اپنی وفات تک اس پر کار بند رہا، وہ یمن کے شہر جند سے بہترین دھاری دار کپڑے لاتا اور ایک غلاف تیار کرتا، قریش نے اسے “عدل” کا خطاب دیا، کیونکہ اس اکیلے شخص نے تمام قریش کے برابر کام کیا، اس کی اولاد کو بنو عدل کہا جاتا ہے.
اس کے بعد الحمیری کے جانشینوں نے بھی اس عمل کو اپنا مذہبی فرض اور عزت جانا اور قبل از اسلام دور میں غلاف کعبہ کے لیے چمڑے اور قبطی کپڑے کو استعمال کیا۔ کچھ تاریخ دانوں نے اس امر کی نشاندہی بھی کی ہے کہ غلاف کعبہ تہہ دار تھا جسے ضرورت کے مطابق ہٹایا، سمیٹا اور پھیلایا جا سکتا تھا۔ اور سب سے پہلی عربی عورت جس نے کعبہ کو ریشم کا غلاف چڑھایا وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ نتیلہ بنت جناب تھیں. (تاریخ مکہ مکرمہ)
فتح مکہ کے بعد بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے مشرکین کے دور میں استعمال ہونے والے غلاف کعبہ کو اس وقت تک نہیں ہٹایا جب تک ایک عورت، جو غلاف کعبہ کو معطر کرنے کے لیے دھونی دے رہی تھی، جس سے غلاف کعبہ میں آگ لگ گئی اور وہ جل گیا ۔ اس واقعے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خانہ کعبہ پر یمنی کپڑے کا غلاف چڑھایا ۔پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی طرح خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قباطی کپڑے سے غلاف چڑھائے. حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھاتے تھے عاشورہ کے دن ریشم کا اور رمضان المبارک کے آخر میں قباطی کپڑے کا، پھر یزید بن معاویہ، عبداللہ بن زبیر اور عبدالملک بن مروان نے اپنے اپنے دور میں ریشمی غلاف چڑھائے.
غلاف کعبہ کا رنگ مختلف ادوار میں تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے غلاف کعبہ کے لیے سفید اور سرخ دھاریوں کا یمنی کپڑا استعمال کیا تھا۔
عباسی دور میں غلاف کعبہ کے لیے ایک بار سرخ اور ایک بار سفید کپڑے کا استعمال کیا گیا، تاہم سلجوقی سلطان نے غلاف کعبہ زرد رنگ کے کمخواب (ریشم) سے بنوایا تھا ۔
عباسی خلیفہ احمد ابوالعباس الناصر نے پہلے سبز اور پھر سیاہ کمخواب کے ساتھ غلاف کعبہ تبدیل کیا اور یہی سیاہ رنگ آج تک چلا آ رہا ہے.
اس کے بعد مسلم بادشاہوں نے خانہ کعبہ کا خیال رکھنے اور غلاف کعبہ کی ذمہ داری سنبھالنے کا بیڑا اٹھایا.
چنانچہ سعودی دور میں غلاف کعبہ پر بھرپور توجہ دی گئی۔ مصر میں قائم اسلامی ریاست نے صدیوں تک غلاف کعبہ بھجوایا۔
سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز نے غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے مسجد الحرام کے قریب واقع اجیاد میں خصوصی فیکڑی قائم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
یہ پہلی فیکڑی تھی جسے حجاز میں غلاف کعبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔
شاہ عبدالعزیز نے غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے خصوصی فیکڑی قائم کی جہاں مکہ میں پہلا غلاف کعبہ تیار کیا گیا بعد ازاں اس فیکڑی کو نئے مقام “ام الوجود” منتقل کیا گیا۔ یہ فیکڑی جدید آلات سے لیس تھی۔
شاہ سلمان نے غلاف کعبہ فیکٹری کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے شاہی فرمان جاری کیا اور اس کا نام “کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوہ” (غلاف کعبہ ) رکھا گیا۔
کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوہ میں ڈی سیلینیشن کا ایک اہم شعبہ ہے جو پانی کی صفائی کا ذمہ دار ہے، جو ریشم کی ساخت اور معیار میں بھی نظر آتا ہے۔ ریشم کو دھونے اور رنگنے کے کام میں استعمال ہونے والے پانی کی صفائی بھی یہی شعبہ کرتا ہے۔
رنگنے کا کام ریشم کے دھاگوں پر لگی مومی تہہ کو ہٹانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد ریشم کو سیاہ اور سبز رنگوں میں رنگا جاتا ہے جس کے لیے بڑے بڑے ٹب اور دوسری مشینری استعمال ہوتی ہے جن میں بڑی احتیاط سے ناپ تول کر کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں تاکہ رنگ کو مطلوبہ استحکام مل سکے۔
غلاف کعبہ کا اندرونی کپڑا بھی دھویا جاتا ہے اور پھر ریشم کے بیرونی حصے کو سیاہ اور اندرونی کو سبز رنگ دیا جاتا ہے۔ ہر غلاف کے لیے 670 کلو گرام(چھ کوئینٹل ستر کیلو) خالص ریشم کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریشم اور سوتی دھاگوں
کا معیار برقرار رکھنے اور موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے متعدد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
چاندی میں لپٹے دھاگوں کو جانچنے کے لیے بھی مختلف ٹیسٹوں سے گزارا جاتا ہے تاکہ ان کے معیار اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
کپڑے کی تیاری کے حوالے سے کمپلیکس میں جدید جیکوارڈ مشینیں موجود ہیں۔
یہ مشینیں قرآنی آیات کی کڑھائی، آیات اور دعاؤں کے لیے کالا ریشم تیار کرتی ہیں جبکہ سادہ ریشم بھی بناتی ہیں جن پر آیات پرنٹ کی جاتی ہیں اسی طرح چاندی اور سونے کے دھاگوں سے کشیدہ کاری بھی کی جاتی ہے۔

ریشم اور سوتی کے دھاگوں کا معیار برقرار رکھنے کے لیے متعدد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
یہ مشینیں غلاف کعبہ کی ریکارڈ وقت میں تیاری کے لیے فی میٹر نو ہزار 986 دھاگے استعمال کرتی ہیں۔
پرنٹنگ کے شعبے میں کام غلاف کعبہ کی پٹی پر آیات کی پرنٹنگ سے شروع ہوتا ہے۔
سادہ ریشم کو سب سے اوپر لگایا جاتا ہے۔ کارکن قرآنی آیات کی پرنٹنگ کے لیے سلک سکرین، سفید اور زرد روشنائی استعال کرتے ہیں۔
کمپلکس کا بیلٹ ڈیپارٹمنٹ سونے اور چاندی سے ہونے والی کشیدہ کاری کے معاملات دیکھتا ہے۔
اس عمل میں سوتی اور دوسرے دھاگوں کو استعمال کر کے کپڑے پر پرنٹنگ کی جاتی ہے۔ اس دوران کارکن مسلسل متحرک رہتے ہیں اور ضروری ٹانکے لگاتے ہیں۔
غلاف کعبہ کی پٹی، جس پر قرآنی آیات لکھی ہوتی ہیں، کے لیے 16 ٹکڑے تیار کیے جاتے ہیں جبکہ مختلف سائز کے چھ ٹکڑے پٹی کے نیچے اور چار مضبوط ٹکڑے کعبہ کے چاروں کونوں کے لیے بنتے ہیں۔ اسی طرح دیگر حصوں میں 12 مشعلیں پٹی کے نیچے، پانچ ٹکڑے حجر اسود کے اوپر اور کعبہ کے دروازے کا پردہ بھی شامل ہے۔

غلاف کی تیاری میں استعمال کیا جانے والا ریشم اٹلی سے درآمد کیا جاتا ہے جبکہ سونے اور چاندی کی تاریں جرمنی سے آتی ہیں۔ اس کو کعبہ کی تمام دیواروں اور دروازے پر ڈالا جاتا ہے. اسے ہر سال تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ امسال غلاف خانہ کعبہ یکم محرم کو تبدیل کیا جائے گا۔ کسوہ فیکٹری کی انتظامیہ کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری کیلئے 670 کلو ریشم (چھ کوئینٹل ستر کیلو ریشم) استعمال کیا گیا ہے۔
فیکٹری کا کہنا ہے کہ غلاف کعبہ میں 120 کلوگرام سونا (ایک کوئینٹل بیس کیلو سونا) اور 100 کلوگرام چاندی (ایک کوئینٹل چاندی) کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ کسوہ فیکٹری کا کہنا تھا کہ غلاف کعبہ کی تبدیلی کیلئے 15 افراد کو فنی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

غلافِ کعبہ کی تیاری میں 20 لاکھ ریال لاگت آتی ہے اور 200 افراد اس میں کام کرتے ہیں ۔ غلاف کعبہ پر بیت اللہ کی حرمت کے ساتھ ساتھ حج کی فرضیت اور فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ ہیں۔ 20 لاکھ ریال مالیت کا غلاف کعبہ کا کل رقبہ 658 مربع میٹر ہے جسے 47 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصہ 14 میٹر اور 95 سینٹی میٹر پر مشتمل ہے۔ واضح رہے کہ اتارے جانے والے غلاف کے حصوں کو سعودی عربیہ حکومت کی جانب سے دنیا بھر کے مختلف ممالک کے ممتاز شخصیات کو حج کی دعوت دی جاتی ہیں ان غیر ملکی شخصیات کو سعودی حکومت کی جانب سے ہدیہ میں غلاف کعبہ کا ٹکڑا بھی پیش کیا جاتا ہے.واضح رہے کہ گزشتہ سال سے خانہ کعبہ کا غلاف یکم محرم کو تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ اس سے قبل 9 ذی الحجہ کو ہر سال اس وقت تبدیل کیا جاتا تھا جب عازمین حج میدان عرفات میں وقوف کیلئے جمع ہوتے تھے اور مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی.***
محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
Post Views: 281












